ہمیں فالو کریں

بنگلورو،ٹیک سربراہ کانفرنس میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

میرے کابینہ کے ساتھی جناب روی شنکر پرسادجی، کرناٹک وزیر اعلیٰ وی ایس یودورپا جی اور ٹیک دنیا سے میرے تمام دوستوں۔یہ بات درست ہے کہ ٹیکنالوجی ، ٹیکنالوجی سے متعلق اس اہم سربراہ کانفرنس کے انعقاد میں مدد کررہی ہے۔

I N Bureau Updated November 20, 2020 11:14 IST
بنگلورو،ٹیک سربراہ کانفرنس میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

بنگلورو،ٹیک سربراہ کانفرنس میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن

نمستے!

میرے کابینہ کے ساتھی جناب روی شنکر پرسادجی، کرناٹک وزیر اعلیٰ وی ایس یودورپا جی اور ٹیک دنیا سے میرے تمام دوستوں۔یہ بات درست ہے کہ ٹیکنالوجی ، ٹیکنالوجی سے متعلق اس اہم سربراہ کانفرنس کے انعقاد میں مدد کررہی ہے۔

دوستو! ہم نے پانچ سال پہلے ڈیجیٹل اینڈیا مشن کی شروعات کی تھی۔ آج مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کو اب کسی باقاعدہ سرکاری اقدام کے طورپر نہیں دیکھا جارہا ہے۔ڈیجیٹل انڈیا زندگی کا ایک طریقہ بن چکا ہے۔ خاص طورپر غریبوں کے لئے ، دبے کچلے لوگوں کے لئے اور جو لوگ سرکار میں ہیں، ان کے لئے۔ڈیجیٹل انڈیا کا شکریہ۔ہماری قوم ترقی کے تئیں ایک زیادہ انسانی مرکوز رسائی کررہی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہماری شہریوں کی زندگیوں میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ یہ فوائد ہر ایک کے لئے مثال ہے۔

دوستو! جب بات ٹیکنالوجی کی آتی ہے تو ہمارے آگے مل جل کر سیکھنے اور بڑھنے کا راستہ ہے۔ اس رسائی سے جلا حاصل کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ہندوستان میں افزائشی مراکز کھولے جارہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں ہیکاتھونس کا کلچر فروغ پاچکا ہے۔ میں نے بھی ان میں سے کچھ میں شرکت کی ہے۔ہمارے نوجوان ذہن یکجا ہوتے ہیں اور ہمارے ملک اور دنیا کو درپیش کلیدی چیلنجوں کو حل کرنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں۔اسی طرح کے ہیکاتھونس نے سنگاپور اور آسیان کے ساتھ اشتراک میں بھی مدد فراہم کی ہے۔حکومت ہند ہماری جامع اسٹارٹ اَپ برادری کو مدد فراہم کررہی ہے، جن کی ہنرمندی اور کامیابی اب دنیا میں نام پیدا کرچکی ہے۔

دوستو! ہم نے اکثر سنا ہوگا کہ:پرتیکول پرستھیتیا ںپرتبھا باہر لانے کا پربھاؤ رکھتی ہے۔یعنی چیلنج بہترین لوگوں کا انتخاب کرتا ہے۔شاید یہ ہندوستان کے بہت سے متعلقہ افراد سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کوئی مطالباتی صارفوں یا آپ کے سامنے مقررہ حدود ہوں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ مدبرین باہر آنا شروع ہوجاتے ہیں، جن کے بارے میں آپ کچھ جانتے بھی نہیں۔ عالمی پیمانے پر لاک ڈاؤن، سفری پابندیوں نے  لوگوں کو اپنے گھروں میں محصور کردیا  اور وہ اپنے کام کے مقامات سے دور ہوگئے۔ایسے وقت میں ہماری ٹیکنالوجی کے شعبے کی لچک داری سامنے آئی۔ہمارا تکنیکی شعبہ ایکشن میں آیا  اور کام کو جاری رکھنے کے لئے اس نے تکنیکی حل فراہم کی، جو کہ گھر سے یا کہیں سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ تکنیکی صنعت نے عوام کو ایک جگہ یکجا کرنے کے لئے ایک وسیع اختراعی موقع کو تسلیم کیا ہے۔

دوستو!صنعتی دور کی کامیابیاں ، اپنے پیچھے کا نظارہ دیکھنے والے شیشے میں تھی، لیکن اب ہم معلوماتی دور کے وسط میں ہیں۔ مستقبل، توقع سے  بھی زیادہ تیزی سے آرہا ہے۔ہمیں پیچھے جانے والے دور کے بارے میں سوچنا ترک کرنا چاہئے۔صنعتی دور میں تبدیلی سہل نہیں تھی، لیکن معلومات دور میں تبدیلی بہت زیادہ وسیع اور گہری ہے۔صنعتی دور میں پہلے آگے بڑھنے والے کا فائدہ ہر چیز تھی۔معلوماتی دور میں  پہلے آگے بڑھنے والے کا کوئی خاص مقام  نہیں، جو سب سے اچھا آگے بڑھنے والا ہوتا ہے، وہی کرتا ہے۔کوئی  بھی شخص کسی بھی وقت کوئی بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے، جو مارکیٹ میں تمام چیزوں کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

صنعتی دور میں حدود کے بہت اہمیت تھے۔معلوماتی دور حدودوں کو ہی پار کررہا ہے۔صنعتی دور میں خام مال حاصل کرنا ایک کلیدی چیلنج تھا اور صرف چند لوگوں کو ہی اس تک رسائی حاصل تھی۔ معلومات دور میں ، خام مال ، جو کہ معلومات ہے، ہر جگہ ہمارے سامنے موجود ہے اور ہر کوئی اس تک رسائی کرسکتا ہے۔ہندوستان معلوماتی دور میں آگے بڑھنے کے لئے منفرد طورپر ملک کی حیثیت سے مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے۔ہمارے پاس بہترین ذہن ہے اور سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ ہمارے مقامی تکنیکی حل عالمی بننے کے قابل ہیں۔ہندوستان ایک اچھے مقام پر ہے۔یہ وقت تکنیکی حل کے لئے ہے، جنہیں تیار تو ہندوستان میں کیا گیا ہے، البتہ یہ دنیا کے لئے نصب کئے گئے ہیں۔

دوستو!  ٹیکنالوجی دفاع کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے راہ ہموار کررہی ہے۔ پہلی جنگوں کا فیصلہ  اس بات پر ہوتا تھا، کہ کس کے پاس  بہتر گھوڑے اور ہاتھی ہیں۔ اس کے بعد فائر پاور کا دور  آیا، اب  ٹیکنالوجی عالمی  تنازعات میں  ایک بہت اہم رول ادا کررہی ہے۔ سافٹ ویئر  سے ڈرونوں اور  یو اے ویز تک ، ٹیکنالوجی دفاعی شعبے کی ازسر نو  تشریح کررہی ہے۔

دوستو! تکنیک کے استعمال میں تیزی کے ساتھ اضافے کے ساتھ ہی اعداد و شمار کا تحفظ اور  سائبر سیفٹی بہت زیادہ اہم ہوگئے ہیں۔ ہمارے  نوجوان  جامع  سائبر سکیورٹی  حل  حاصل کرنے میں بہت بڑا رول ادا کرسکتے ہیں۔ یہ حل  سائبر حملوں اور وائرس کے خلاف  ڈیجیٹل  مصنوعات کو  مؤثر طور پر محفوظ کرسکتے ہیں۔ آج ہماری فنٹک صنعت  بہت اچھا کام کررہی ہے۔ لاکھوں لوگ بنا کسی  ہچکچاہٹ کے لین دین کرر ہے ہیں۔ یہ  لوگوں کے بھروسے کی وجہ سے ہے، جو کہ  محفوظ رہنے اور  مستحکم کرنے کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ آواز کا اعداد ی گورننس خاکہ  بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

 ایک طرف تو میں نے آج معلوماتی  ٹیکنالوجی پر ، خاص طور پر توجہ مرکوز کی ہے، تو اسی کے ساتھ ساتھ اختراع کی ضرورت سائنس کے شعبے میں ناگزیر ہے۔ چاہے یہ  بائیو سائنسز ہو یا  انجینئرنگ ہو،  اختراعی ترقی کی کلید ہے۔ جب اختراع کی بات آتی ہے تو ہندوستا ن کے پاس ایک واضح وسیلہ ہے، جو کہ  ہمارے نوجوانوں کے ٹیلنٹ اور  اختراع کے تئیں  ان کی  جدو جہد  کا جذبہ ہے۔

دوستو!  ہمارے نوجوانوں کی  صلاحیتیں   اور   ٹیکنالوجی کے امکانات  لا محدود ہیں۔ یہی وقت ہے کہ ہم انہیں اپنی طرف سے سب کچھ فراہم کریں۔ مجھے اعتماد ہے کہ ہمارا آئی ٹی کا شعبہ ہمیں فخر کا احساس دلاتا رہے گا۔

بہت بہت شکریہ!

 

To Top