Urdu News

بپن شرما شررؔ کا شعری مجموعہ: لفظوں کی دھڑکن

بپن شرما شررؔ کا شعری مجموعہ: لفظوں کی دھڑکن

ڈاکٹر افروز عالم (جدہ)

خطہ ٔسارن کے شعرا کی فہرت میں محترم بپن شرما شررؔ کا نام بہت حد تک نمایاں ہے۔ اس خطہ کی ادبی تاریخ کافی قدیم اور پر کشش ہے،حال میں جب کہ سارن تیں اضلع میں منقسم ہو چکا ہے، پھر بھی چھپرا، سیوان اور گو پال گنج ادبی حوالوں سے اپنی ا پنی شناخت رکھتے ہیں۔ عوامی ذرائع ابلاغ اور مطبوعہ ذرائع اس بات کے شاہد ہیں کہ اس دیار میں شعری نششتوں کے انعقاد کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔پیش نظر اس مختصر مضمون میں ہمارا مقصد محترم بپن شرما شرر ؔ کی تازہ شعری تصنیف'لفظوں کی دھڑکن 'کے حوالے سے چند نقطے آپ سب کے گو ش گزار کرنا ہے تاکہ کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں کچھ مثبت باتیں آپ کی نگاہ سے اجھل نہ ہو آ جائیں۔  اس لئے ملاحظہ فرمائیں بپن شرما شررؔ کے حوالے سے چند باتیں۔

محترم حضرات و جناب صدر! نفیس رکھ رکھاؤ والے بھائی بپن شرما شر ر کا ذاتی اور گھریلو پس منظر کچھ یوں ہے۔ اللہ نے آپ کو درمیانی قد اور گورا رنگ دیا ہے اورآپ اپنے تین بھائیوں اور ایک بہن میں دوسرے نمبر پر ہیں۔محترم بپن شرما شررؔ کے اجداد کا تعلق تو شہر سیوان(بہار) کے محلہ مہدیوا سے ہی ہے، لیکن آپ کے والد محترم چند گپت شرما تلاش رزق میں آپ کی والدہ لکچھ می دیوی کے ہمراہ چترنجن (مشرقی بنگال) کے مکین ہوئے، جہاں 28دسمبر 1956کو بپن شرما کی پیدائش ہوئی۔ چونکہ والد کی ملازمت وہیں رہی اس لئے آپ کا پریوار والد محترم چند گپت شرما کے تکمیل خدمات تک وہیں ساتھ رہا۔ اس لئے بھائی بپن شرما شررؔ کی گریجویشن تک کی تمام تر تعلیم چترنجن اور آس پاس کے شہروں میں مکمل ہوئی۔1974میں بی اس سی کی تعلیمی سند لینے کے بعد آپ کسی دوا کی کمپنی میں بہ حیثیت مندوب مامور ہوئے اور کولکاتا میں لگاتار چھ سال اور ایک سال کیرلا میں اپنی خدمات انجام دیا۔1980میں والد کے تکمیل خدمات کے بعد آپ کا پریوار اپنے آبائی شہر سیوان آگیا۔ سیوان (بہار) آنے کے بعد بھائی بپن شرما نے اپنا کاروبار شروع کیا، اللہ نے ترقی دی اور آپ ایک کامیاب تاجر بنے۔زندگی کی اسی بھاگ دوڑ میں سیوان کے استاد شاعر محترم فہیم جوگا پوری سے ملاقات ہو گئی، جس کے بعد آپ کے دل میں دبی ہوئی شاعرانہ امنگوں نے طوفان کا رخ اختیار کیا جس نے بپن شرما کو بپن شرما شرر ؔسیوانی  بنا دیا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ آپ بنیادی طور پر ایک کامیاب تاجر ہیں۔ شہر سیوان میں آپ کا اچھا خاصہ کاروبار ہے۔ آم طور پر ایسے لوگوں کی زندگی میں علم کا دخل اتنا ہی ہوتا ہے جتنا سے کہ نوٹوں کی گڈیوں میں کوئی ہیر پھیر نہ کردے، لیکن واضع رہے کہ انہیں جیالوں کے دم سے فنون لطیفہ کا جہاں آباد ہے۔

70غزلوں پر مشتمل "لفظوں کی دھڑکن" کو عرشیہ پبلیکیشنر دہلی نے بڑے ہی قرینے سے شائع کیا ہے۔ کتاب ان کے والدین کے علاوہ ان کی اہلیہ محترمہ تارا دیوی کے نام انتساب ہے۔ داخلی دونوں فلیپ کا خالی رہ جانا کھٹک رہا  ہے، اس جگہ کو کم سے کم بپن بھائی کے کوائف سے ہی پر کر لیا گیا ہوتا، تو قارئین کو شاعر کی شخصیت کو سمجھنے میں مزید آسانی ہوتی۔ تاہم پشت ورق پر محترم فہیم جوگاپوری کی رائے درج ہے، اس تحریر سے بھائی بپن شرما شررؔ کی فن و شخصیت کی گہرائی تک رسائی حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بھائی فہیمؔ رقم طراز ہیں کہ

 "بپن شرما شررؔمیرے حلقہ احباب میں مارچ 1983سے ہیں، شروعاتی دنوں میں ان کے اندر شعر و شاعری سے دل چسپی اور اردو زبان و ادب سے گہرا لگاؤ ان کے اندرمخفی شاعر کا پتہ دے رہا تھا، سیوان (بہار) اور اس کے مضافات میں برپا ہونے والے مشاعروں اور شعری نشستوں میں وہ میرے ہمراہ جانے لگے یوں ان کے ذوق شعری کی آبیاری ہونے لگی، 1996میں انہوں نے پہلی غزل کہی اور مجھے دیکھائی، میں نے اس غزل کے نین نقش جاذب نظر بنا دیا، یوں ان کے شعری پرواز کا آغاز ہوا، اسی سال میں نے انہیں اردو پڑھنے لکھنے کی طرف راغب کیا اور مجھے خوشی ہے کہ پوری دل جمعی کے ساتھ انہوں نے اردو لکھنے پڑھنے کی طرف خود کو تیار کیا، اتفاق سے سیوان کے معروف شاعر ماسٹر ریاض محی الدین پوری جیسا قابل معلم ملا، جس کے سپرد میں نے شررؔ سیوانی کو کیا، تقریبا دو ڈھائی سال کی محنت شاقہ کے طفیل شرر سیوانی نے نہ ٖصرف یہ کہ اردو لکھنے پڑھنے میں مہارت حاصل کی بلکہ عروض و بحر پر بھی دسترس حاصل کر لی، تب سے بپن شرما شررؔ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، سیوان اور بیرون سیوان کے ادبی حلقوں میں انہیں بغور سنا جانے لگا، شرر سیوانی نے اپنے وادات قلبی کے اظہار کے لئے صنف غزل کو چنا اور غزل میں زندگی کے تمام تر معاملات و مسائل اور تجر بات و مشاہدات اور احساسات و جذبات کو بڑی سادگی، صفائی اور دلکش  پیرائے میں ڈھالنے کا ہنر سیکھ لیا، اس میں یقینا ان کے فنکارانہ ریاضت کے خلوص کا عمل دخل ہے، دعا گو ہوں کہ ان کا یہ پہلا مجموعہ کلام لفظوں کی دھڑکن ادبی حلقوں میں ہاتھو ں ہاتھ لیا جائے"

اس مجموعہ کے مشاہدے سے بہ خوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برادرم بپن شرما شررؔ کی پہلی اور آخری پسند غزل ہے، یوں بھی عصر حاضر میں غزل پر ثبات ہے، غزل جو کبھی صرف محبوب سے گفتگو کے ارد گرد طواف کرتی تھی اب اس نے اپنے پنکھ اس طرح پسار لئے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی ایسا مضمون و نقطہ نہیں جو کہ اردو غزل کا حصہ نہ ہو۔ خاص طور سے جدید د ور کے شعرا نے ان مضامین کو بھی غزل میں شامل کر لیا،جسے شامل کرنے کے لئے ترقی پسند شعرا کے پاس وقت کا فقدان رہا، یا یوں کہئے کہ ضروری نہیں سمجھا۔ یوں بھی چند ناموں کو چھوڑ کر ترقی پسند شعرا میں غزل کے لئے کوئی ایمان داری نظر نہیں آتی ہے یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے موضوعات کے لئے آزاد نظمیں ہی زیادہ موثر تھیں۔  "لفظوں کی دھڑکن" بپن شرما شررؔ کا پہلا شعری مجموعہ ہے، عام طور سے کسی بھی انسان کا پہلا کارنامہ اس کی شناخت کا ذریعہ اور اس کے محنت کا پیرامیٹرر بنتا ہے، یہ بات واضع کرنا اس لئے ضروری ہے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی دیکھ لئے جائیں تاکہ دوسری اور تیسری کتاب کے وقت یہ جانچ کرنے میں آسانی ہو سکے کہ فنکار اپنے فنکارانہ سفر میں گمرہی کا شکار تو نہیں ہوا ہے؟  پہلا کارنامہ ہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے شاعر کے مستقبل کا تعین ہوتا ہے،اسی لئے لفظوں کی دھڑکن پر کھلے دل اور مثبت ذہنیت سے ایک ایک شعر پر پر مغز اور مدلل گفتگو ہونی چاہئے، اور شاعر کو اس کا استقبال کرنا چائے۔ اس لئے مجھے اپنا حلفیہ بیان درج کرنے دیجئے اور کہنے دیجئے کہ برادرم بپن شرما شررؔ نے اپنی غزلوں میں نہایت ہی ایمان داری کے ساتھ اپنے فن کو برتا ہے اور اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے سماجی مسائل کو موضوع سخن بنایا ہے، جس کے سبب اشعار میں چمک کا احساس ہو رہا ہے۔ اشعار میں پختگی، نغمگی، سلاست اور روانی کی کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی ہے۔ یہ مجموعہ اس بات کی عکاشی کرتا ہے کہ بھائی بپن شرما شررؔ نے کھلے چشم و ذہن کے ساتھ اپنا ادبی سفر طے کیا ہے اور اپنے ا شعار کو بہتر سے بہترین بنانے اور سنوارنے میں صرف کرتے ہوئے کمال ادبی دیاند داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کامیابی پر شررؔ کے اساتذہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ طویل مضمون کی شکل میں کتاب کا دیباچہ محترم ڈاکٹر ارشاد احمد صاحب نے تحریر کیا ہے جو کہ کتاب کے صفحہ رقم ۱۱سے ۲۲تک پھیلا ہوا ہے۔ میں اپنی اس گفتگو میں صفحہ رقم ۴۱سے ایک مختصر اقتباس پیش کرنا چاہوں گا۔ آپ رقم طراز ہیں کہ       "بپن شرما شررؔ کی غزلوں میں زندگی کی نیرنگوں کے ساتھ ساتھ انسان کے حسن اخلاق اور بلند و بالا کرداد کی شعاعیں نکلتی نظر آتی ہیں۔ ان کی شعری کاوش درحقیقت ان کی پاک و صاف شخصیت کردار اور عادات و اطوار کی آئینہ دار ہے۔ نیز جب کسی فنکار کی ذاتی اور شخصی پہلوؤں کا احاطہ کرنے لگے تو وہیں تحلیل نفسی کا عمل شروع ہوتا ہے اور اس کی ذات میں جب آفاقی عناصر داخل ہوتے ہیں تو وہ تخلیق لافانی اور عالمی بن جاتی ہے۔ بپن شرما شرر کی غزلوں میں مذکورہ بالا عناصر اور جہتوں کو بہ خوبی دیکھا جا سکتا ہے۔"

صاحبان! پچھلے کئی سال سے آپ سب محترم بپن شرما شرر کی شاعری سنتے اور پڑھتے آئے ہیں اور آج آپ کی شاعری مجلد ہو کر شعری مجموعہ 'لفظوں کی دھڑکن' کی شکل میں اس وقت ہم سب کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ کتاب ان کے شب و روز کی محنتوں کا ثمرہ ہے، اس کے لئے شاعر مبارک باد کا مستحق ہے، سو میں مبارک باد پیش کرتے ہوئے، آپ سب سے کہنا چاہوں گا کہ اس کتاب کا مطالعہ بھائی بپن کی محنتوں کا بدلہ ہوگا۔       

ہوائے ظلم سے ڈر کر رہو گے چپ کب تک

اٹھاؤ  سر کہ  ضرورت ہے  سر اٹھانے کی

مضمون ںگار

ڈاکٹر افروز عالم (جدہ)، صدر۔ گلف اردو کونسل

E-mail: [email protected]

Recommended