لافانی ادب مطلوب ہو تو ولی و سراج کو پڑھیں:پروفیسر سلیم محی الدین

https://urdu.indianarrative.com/Saleem_Mohiuddin.jpg

پروفیسر سلیم محی الدین

  انجمن اہل قلم کے تحت ایک شام اہل قلم کے نام مشاعرہ کا انعقاد

سیاسی بصیرت رکھنے والی سماجی کارکن فردوس فاطمہ کی کاوشوں سے اورنگ آباد میں تاریخ کا پہلا نو عمر شعراء کا مشاعرہ
 لافانی ادب مطلوب ہو تو ولی و سراج کو پڑھیں:پروفیسر سلیم محی الدین

(اورنگ آباد) اردو زبان و ادب کی آبیاری اور دکن کے ادبی ورثہ کو نسل نو میں منتقل کرنے کی سمت میں انقلابی قدم بڑھاتے ہوئے انجمن اہل قلم نے اس بار نو عمر شعراء پر مشتمل "ایک شام اہل قلم کے نام" مشاعرہ کا کامیاب انعقاد کیا۔ انجمن کی روح رواں فردوس فاطمہ رمضانی خان کی ادبی فکر نے اس مشاعرہ کو ایسی عظمت بخشی کہ یہ ہمہ جہت مشاعرہ غیر معمولی ادبی کارنامہ قرار پایا۔ انجمن کے زیر انصرام گذشتہ جمعہ کی شب شاہی مسجد سے متصل بیت الیتیم میں منعقدہ مشاعرہ میں نو عمر شعراء نے معیاری کلام کے ذریعہ نہ صرف ادبی دنیا کو متوجہ کیا بلکہ امید بھی پیدا کی کہ دکن کی ادبی زمین آج بھی زرخیز ہے اور ادبی مستقبل کو تابناک بنانے نئی نسل کمر بستہ ہو چکی ہے۔ پربھنی کے کہنہ مشق شاعر سلیم محی الدین کی زیر صدارت منعقدہ مشاعرہ میں صباتحسین نے ابتدائی نظامت اور سعد ملک سعد نے مشاعرہ کی باضابطہ نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دے کر گویا اعلان کیا کہ اردو زبان و ادب کی علمبرداری کا ذمہ اب تازہ دم اور مستحکم کندھوں نے سنبھال لیا ہے۔ محمد فرید کی تلاوت کلام سے مشاعرہ کا آغاز ہوا۔ جس میں تمام نو عمر شعراء نے فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعہ واضح اشارہ دیا کہ مستقبل میں اردو ادب پر انہی کی حکمرانی ہوگی۔ کفیل ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام اور آفتاب فلم کے خالد احمد اور پرنسپل ڈاکٹر مخدوم فاروقی کی زیر سر پرستی منعقدہ مشاعرہ میں نورالحسنین، ڈاکٹر شفیع ایوب (دلی)، اسلم مرزا، ڈاکٹر عظیم راہی، صدر شعبہ اردو یونیورسٹی کیرتی مالنی جاولے، ابو بکر رہبر، ایڈوکیٹ شرینیواس سولنکے، فیروز پٹھان، ڈاکٹر قاضی نوید، الیاس کرمانی، غضنفر جاوید، محسن احمد اور فواد خان مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک رہے۔ مہمانان کے ہمراہ پروفیسر انور پاشا (دہلی) نے شمع فروزی کی رسم ادا کی۔ ادبی افق پر اپنی جگمگاہٹ بکھیرنے کو بے تاب نو عمر شعراء اسرار دانش، عبد العظیم، محمد بلال انور، سعد ملک سعد، اشعر کاشف، مصعب پیارے، صباء تحسین، عادل راہی، عبد الاحد شاہد اور اذعان خان نے صرف داد و تحسین ہی نہیں لوٹیں بلکہ بزرگ و کہنہ مشق ادباء  و شعراء کو حیرت زدہ بھی کیا۔ واضح رہے کہ اورنگ آباد کی ادبی تاریخ میں پہلی مرتبہ خالص نو عمر شعراء  پر مشتمل مشاعرہ منعقد کرنے کا سہرا بلا شبہ انجمن اہل قلم کی صدر فردوس فاطمہ کے سر بندھے گا۔ اس ضمن میں فردوس فاطمہ کی فکر و نظر بھی قابل ستائش ہے کہ موبائل اور سوشل میڈیا کی بھول بھلیوں میں بھٹکتی نسل نو کو اردو زبان و ادب سے ہم آہنگ کرنے کا انہوں نے بیڑہ اٹھایا ہے۔ انجمن کی غرض س غایت بیان کرتے ہوئے فردوس فاطمہ نے کہا سوشل میڈیا کے اس دور میں نئے قلمکاروں کو قلم اٹھانے اور ادب سے رشتہ جوڑنے کی ترغیب دینا ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ اصلاح و ستائش کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد ہی یہ نو عمر شعراء کل ادب کے درخشاں ستارے بن کر ابھریں گے۔  پاستا اور نوڈل کی رغبت میں نئی نسل سیوئیوں کو بھلا چکی ہے۔ غور طلب ہے کہ حوصلہ افزائی کی غرض سے شعراء    کے پرجوش استقبال کے ساتھ ہی مومنٹو، اسنادات اور تحفتاً ادبی کتب سے انھیں نوازا گیا۔ صدر مشاعرہ سلیم محی الدین نے نو عمر شعراء کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے گرانقدر مشوروں سے مستفیض کیا۔ خامیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ تلقین کی کہ کثرت سے مطالعہ کریں، کسی بھی شاعر سے مغلوب نہ ہوں۔ صحیح تلفظ پر توجہ دیں۔ اگر زندہ ادب رقم کرنا ہو تو دکن خصوصا اورنگ آباد کے شعراء کو پڑھیں۔ ولی اور سراج نے دنیا کو دکھایا کہ اردو غزل کیا ہوتی ہے۔ ان شعراء کا کلام آج بھی زندہ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کسی کا بھی اثر قبول نہیں کیا۔ مشاعرہ میں یوں تو سبھی شعراء نے فنی اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا لیکن چند اشعار جو اردو شاعری کے روشن مستقبل کے امکانات کہے جا سکتے ہیں وہ یوں ہیں :
یقیں کرو یہی فساد کرنے والے ہیں 
لباس پہنے ہوئے ہیں جو انکساری کا
                        (عبدالعظیم)
جنت کی آرزو نہیں نہ وحشت جحیم 
آیا ہوں تیری دید کا کاسہ لئے ہوئے
                      (محمد بلال انور)
دم لینے کو بیٹھا تھا وہ سائے میں شجر کے
پھر اٹھ کے وہی شخص شجر کاٹ رہا تھا
                     (سعد ملک سعد)
نہیں ہے کوئی بھی ربط میرا بے ضمیر لوگوں سے
ہمیشہ ملتی ہوں میں با ضمیر لوگوں سے
                  (صباء تحسین)
اپنی نوعیت کے انوکھے مشاعرہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے ابو الحسن کے علاوہ انجمن اہل قلم کی ارکان شہباز زرین، حمیرہ ہاشمی، رعناتبسم، سیدہ نزہت‘سیدہ ہما‘نسیم، شیخ اظہر، شیخ مختار وغیرہ نے اہم کاوشیں کیں۔ انجینئر رمضانی خان کے پر مغز اظہار تشکر پر مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔