فاصلاتی نظامِ تعلیم، اُردو اور مسلمان

https://urdu.indianarrative.com/Ignou-urdu-program-launch.webp

اِگنو کا شمار صرف ہندوستان کے نہیں بلکہ دنیا کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ 1985میں مرکزی حکومت کے ذریعے قائم اِگنو کا مرکزی دفتر نئی دہلی کے میدان گڑھی میں ہے اور ملک بھر میں اس کے 67ریجنل سینٹرس اور لا تعداد اسٹڈی سینٹرس قائم ہیں

 

 

 


 
فاصلاتی نظامِ تعلیم، اُردو اور مسلمان 
فاصلاتی نظامِ تعلیم کی اہمیت سے ناواقف مِلّت کے نوجوان  
ڈاکٹر شفیع ایوب 

فاصلاتی نظامِ تعلیم دوئم درجہ کا نظامِ تعلیم ہے۔ غلط، بالکل غلط۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں فاصلاتی نظامِ تعلیم کاتصوربالکل بدل چکا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں 1960-70میں یہ تصور عام تھا کہ روایتی نظامِ تعلیم ہی اصل تعلیمی نظام ہے، یہاں ناکام رہنے والے لوگ ہی فاصلاتی نظامِ تعلیم کے سہارے محض سند حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت اسے خط و کتابت کورس بھی کہا جاتا تھا۔ کئی لوگ اب تک خط و کتابت کورس، مراسلاتی نظامِ تعلیم، مواصلاتی نظامِ تعلیم اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کی اصطلاحوں میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ جبکہ فاصلاتی نظامِ تعلیم اب دنیا بھر میں روایتی نظام تعلیم کے مقابل ایک بہتر متبادل کے طور پر موجود ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اندرا گاندھی نیشنل اُوپن یونیورسٹی، نئی دہلی (اِگنو)، مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، حیدر آباد (مانُو)، اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اُوپن اسکولنگ، نئی دہلی (این آئی او ایس) جیسے معیاری اور با وقار تعلیم ادارے برسوں سے فاصلاتی نظامِ تعلیم کے میدان میں اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ 
سب سے پہلے اندرا گاندھی نیشنل اُوپن یونیورسٹی (اِگنو) کی بات کرتے ہیں۔ اِگنو کا شمار صرف ہندوستان کے نہیں بلکہ دنیا کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ 1985میں مرکزی حکومت کے ذریعے قائم اِگنو کا مرکزی دفتر نئی دہلی کے میدان گڑھی میں ہے اور ملک بھر میں اس کے 67ریجنل سینٹرس اور لا تعداد اسٹڈی سینٹرس قائم ہیں۔ چالیس لاکھ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے ساتھ یہ سینٹرل یونیورسٹی دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے۔ راقم السطور نے سو سے زائد پڑھے لکھے لوگوں سے اگنو کے تعلق سے بات کی۔ بیاسی فیصد لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اِگنو میں اُردو کی پڑھائی ہوتی ہے۔ یہ بات لوگوں کے لئے اور زیادہ حیران کن تھی کہ اردو میڈیم سے بھی اِگنو سے گریجوایشن کیا جا سکتا ہے۔ چالیس فیصد لوگوں کو اِگنو کی ڈگری کے معتبر ہونے پر شک تھا۔جہاں ملک اور بیرون ملک کے چالس لاکھ سے زیادہ طلبہ و طالبات اِگنو سے مختلف مضامین کی پڑھائی کر کے روزگار حاصل کر رہے ہیں وہیں ملت کے نوجوان اس بات سے بے خبر نظر آتے ہیں کہ اِگنو کی ڈگریاں ان کی زندگی میں خوشیاں بکھیر سکتی ہیں۔ ہم کس منھ سے خدا سے کہیں کہ مشکلیں اُمت مرحوم کی آساں کر دے۔ اِگنو کے وائس چانسلر پروفیسر ناگیشور راؤ، اور پرو وائس چانسلر پروفیسر ستیہ کام جیسے لوگ چاہتے ہیں کہ فاصلاتی نظام تعلیم کا فائدہ ہر ہندوستانی شہری کو ملے۔ لیکن جب کوئی قوم بریانی اور قورمہ کھا کر گہری نیند سو رہی ہواور اکابرین قوم مسلکی جھگڑوں میں اُلجھے ہوں تو پوفیسر ناگیشور راؤ اور پروفیسر ستیہ کام کیا کر لیں گے؟ اِگنو کے سابق رجسٹرار اور ہندی کے ممتاز شاعر پروفیسر جتندر شریواستو اور اِگنو میں ایس او ایچ کے ڈائریکٹر پروفیسر شتروگھن پرساد اُردو کے حامی اور اُردو کی شیرینی کے دلدادہ ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اُردو والے بھی بڑی تعداد میں اس یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کریں اور روزگار حاصل کریں۔ لیکن پھر وہی بات کہ قوم کو خواب غفلت سے کون بیدار کرے؟ اب کوئی سر سید تو نظر نہیں آتا۔ کیا چمن سر سید کے تربیت یافتہ افراد یہ ذمہ داری اُٹھائیں گے؟ 
اسی طرح مانو بھی فاصلاتی نظام تعلیم کا ایک عظیم اور معتبر ادارہ ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز جیسے سائنسداں اور محب ملک و ملت جب سے مانو کے وائس چانسلر بنے، اس ادارے نے بہت ترقی کی۔ اس کے تعلیمی معیار میں بہت سدھار ہوا ہے۔ اب ضرورت اس بات کہ ہے کہ مسلمان اور اُردو والے مانو کے تعلیمی معیار کو گرنے نہ دیں اور اپنی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے اپنا اور قوم کا بھلا کریں۔ ان دو اداروں کے علاوہ اب تقریباً تمام یونیورسٹیوں میں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ فاصلاتی نظام تعلیم کا نظم بھی کیا گیا ہے۔ اس سے بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 
یہ تو اعلیٰ تعلیم کی بات تھی، جہاں تک اسکولی تعلیم کی بات ہے تو این آئی او ایس کے قیام نے اسکولی تعلیم نظام میں جو انقلابی تبدیلی پیدا کی اس کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ 1989میں نیشنل اُوپن اسکول کا قیام عمل میں آیا۔ بعد میں اس کا نام بدل کر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اُوپن اسکولنگ کر دیا گیا۔ پندرہ لاکھ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے ساتھ یہ تعلیمی ادارہ حکومت ہند کا اپنا خاص ادارہ ہے۔ تقریباً ساڑھے تین لاکھ طلبہ و طالبات ہر سال این آئی او ایس سے منسلک ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر شعیب رضا خاں جیسے اردو دوست اکیڈمک افسر نے اس ادارے میں اردو کی تعلیم کا بہتر نظام قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دسویں اور بارہویں کی اُردو کتابوں کی تیاری میں ملک بھر کے ماہرین کی خدمات حاصل کر کے ڈاکٹر شعیب رضا خان نے تاریخ، جغرافیہ، سائنس، کامرس وغیرہ کی سیکڑوں کتابیں اردو میں شائع کرائیں۔ اب اُردو والوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ قوم کے نونہالوں کو اس ادارے کے بارے میں بتاتے۔ جو لوگ بغیر پڑھے سچر کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر تقریریں کر کے قوم کے غم میں گھڑیالی آنسو بہاتے رہے ہیں انھیں بھی کبھی توفیق نہ ملی کہ فاصلاتی نظام تعلیم کی برکتوں سے قوم کو آگاہ کرتے۔ کاش کہ ہم اب بھی بے دار ہو جائیں اور فاصلاتی نظام تعلیم کی سہولتوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی قوم کو ناخواندگی کی تاریکی سے علم کی روشنی کی طرف لانے میں معاون و مدد گار ہوں۔   
  (مضمون نگارڈاکٹر شفیع ایوب، جے این یو، نئی دہلی میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں)