دہلی پولس نے ٹوئٹر کے خلاف آئی ٹی اور پاکسو ایکٹ میں درج کی ایف آئی آر

https://urdu.indianarrative.com/Twitter12.jpg

@Twitter

نئی دہلی،30جون(انڈیا نیرٹیو)

دہلی پولس کی سائبر سیل نے ٹوئٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس میں ٹوئٹر پر بے حد سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ این سی پی سی آر کی شکایت پر ٹوئٹر پر کیس درج کیا گیا ہے۔ پولس کے سینئر افسر کے مطابق نئے آئی ٹی قانون کے تحت ٹوئٹر پر یہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس سے قبل یوپی پولیس نے بھی ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ اس مقدمے میں ٹوئٹر انڈیا کے سربراہ منیش مہیشوری کا نام بھی شامل ہے۔ یہ رواں ماہ ٹوئٹر انڈیا کے سربراہ منیش مہیشوری کے خلاف یوپی پولیس نے یہ دوسری ایف آئی آر درج کی ہے۔

خیال رہے کہ ٹوئٹر پر ظاہر کئے گئے ہندوستان کے نقشہ میں جموں و کشمیر اور لداخ کو الگ الگ ممالک کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ غلط نقشہ ٹوئٹر کے ’ٹویپ لائف‘ سیکشن میں ظاہر کیا گیا تھا، جس کے بعد لوگوں میں ناراضگی دیکھی گئی تھی اور ٹوئٹر پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد میں تنازعہ ہونے پر ٹوئٹر نے ہندوستان کے اس غلط نقشہ کو ہٹا دیا۔

دراصل، حکومت ہند کے نئے ڈیجیٹل قوانین کے حوالہ سے ٹوئٹر انڈیا اور مرکزی حکومت میں تناوچل رہا ہے اور دونوں کے درمیان کئی معاملوں پر تنازعہ رہا ہے۔ دو دن قبل ہی ٹوئٹر نے آئی ٹی کے وزیر روی شنکر پرساد اور پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور کانگریس لیڈر ششی تھرور کے کھاتوں کو ایک گھنٹے کے لئے بند کر دیا تھا۔ وہیں، کچھ دن پہلے ٹوئٹر انڈیا کے سربراہ کو غازی آباد میں ایک مسلمان بزرگ کی پٹائی کے معاملے میں گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا۔

وہیں، ٹوئٹر کے ذریعہ آر ایس ایس کے کچھ رہنماؤں کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے ’بلیو ٹِک‘ ہٹانے کا معاملہ بھی شہ سرخیوں میں رہا تھا۔ حکومت نے 26 مئی کی ڈیڈ لائن کے اندر ڈیجیٹل کمپنیوں پر لاگو نئے آئی ٹی قواعد پر عمل درآمد نہ کرنے کی پاداش میں ٹوئٹر کو قانونی کارروائی سے دی گئی رعایت واپس لے لی۔ ایسی صورت حال میں اسے اپنے پلیٹ فارم پر کسی بھی قابل اعتراض مواد کے لئے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مرکزی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے حال ہی میں سوشل میڈیا فورموں سے کہا تھا کہ ’‘زادی اظہار رائے‘ اور ’جمہوریت‘ کے معاملہ میں وہ ہندوستان کو بھاسن نہ دیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر منافع کمانے والی یہ کمپنیاں ہندوستان میں کاربار جاری رکھنا چاہتی ہیں تو انہیں آئین ہند اور ہندوستانی قوانین کی پیروی کرنا ہوگی۔