Urdu News

قلم کے کوہ کنوں میں ایک نمایاں نام ساحر شیوی کا ہے: پروفیسر یونس اگاسکر

ڈاکٹر پی پی کلکرنی (پرنسپل، گوگٹے جوگلے کر کالج رتناگری) نے اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر محمد دانش غنی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پچھلے آٹھ سال کے دوران ڈاکٹر محمد دانش غنی نے گوگٹے جوگلے کر کالج میں اردو کے متعدد پروگرام کیے ہیں

 قلم کے کوہ کنوں میں ایک نمایاں نام ساحر شیوی کا ہے:  پروفیسر یونس اگاسکر


”ساحرؔ شیوی: ایک ہشت پہلو فنکار“ کے موضوع پر گوگٹے جوگلے کر کالج رتناگری میں یک روزہ قومی سمینار
رتناگری: قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی اور شعبہئ اردو، گوگٹے جوگلے کر کالج رتناگری کے باہمی اشتراک سے ”ساحرؔ شیوی: ایک ہشت پہلو فنکار“ کے عنوان پر رادھا بائی شیٹے سبھا گرہ، کالج کیمپس میں ایک روزہ قومی سمینار ۰۳ / مارچ کو منعقد کیا گیا جس میں صبح ساڑھے دس بجے سے شام چھ بجے تک پانچ اجلاس بڑی کامیابی سے پایہئ تکمیل کو پہنچے۔ ڈاکٹر پی پی کلکرنی (پرنسپل، گوگٹے جوگلے کر کالج رتناگری) کی صدارت میں منعقدہ سمینار میں خطہئ کوکن کے اردو پروانوں کی بڑی تعداد آخری اجلاس تک محظوظ و مستفید ہوتی رہی۔
سمینار کا افتتاح رتناگری ایجوکیشن سوسائٹی کے سیکریٹری جناب ستیش شیوڑے نے کیا اور اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ جب سے ڈاکٹر محمد دانش غنی نے شعبہئ اردو کی کمان سنبھالی ہے تب سے اخبارات کے ذریعہ ہم شعبہئ اردو کی کارکردگی دیکھتے آئے ہیں جس سے ہمیں خوشی بھی ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں نے انھیں این ایس ایس پروگرام آفیسر کی حیثیت سے دیکھا ہے اوراین ایس ایس میں ان کے کیے گئے کاموں کی سراہنا بھی کی ہے۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ڈاکٹر دانش غنی جیسی فعال شخصیت ہمارے کالج کی نیک نامی کا حصہ ہے۔ میں انھیں اس قومی سمینار کے انعقاد پر خلوصِ دل سے مبارک باد دیتا ہوں۔ 
معروف اسکالر پروفیسر یونس اگاسکر صاحب (گرو دیو ٹیگور پروفیسر و سابق صدر شعبہئ اردو، ممبئی یونیورسٹی) طبیعت کی خرابی کے باعث اس سمینار میں شرکت نہیں کرسکے لیکن انھوں نے مرحوم ساحر شیوی کے متعلق ایک پیغام لکھ کر ارسال فرمایا جس میں انھوں کہا کہ ارضِ کوکن کے قسمت آزما جیالوں میں فاصلوں کی طنابیں کھینچ کر دنیا کے مختلف علاقوں کو اپنی جائے سکونت بنالیا۔ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے یہاں کی سنگلاخ وادیوں اور مردم خیز ساحلوں کے باشندوں نے افریقہ، امریکہ، یورپ اور خصوصاً انگلستان کے محنت کشوں اور صنعت کاروں کے کندھوں سے کندھا ملا کر کوہکنی کی تاریخ ساز روایت کو پروان چڑھایا ہے۔ اس میں قلم کو بنا کر شعر و ادب کے کوہساروں سے تخلیقی جوئے شیر نکالنے کا سلسلہ بھی جڑ گیا ہے۔ ان قلم کے کوہ کنوں میں ایک نمایاں نام ساحر شیوی کا ہے۔ ساحر کے اب تک سات شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں جن سے ان کے تخلیقی سفر کی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ سفر رومانویت سے حقیقت پسندی کی طرف ہے۔ ایک حساس فنکار ہونے کے ناطے وہ محض اپنے آپ میں گم نہیں رہتے، اپنے گرد و پیش سے بھی باخبر ر رہتے ہیں نیز اپنے اور دنیا کے دکھوں کا مداوا تلاش کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش شخصی اور تخلیقی دونوں سطحوں پر جاری رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی فنی اور شخصی تکمیل کا مرحلہ شوق کبھی طے نہیں ہوتا اور اس میں ہر لحظہ نیا طور، نئی برقِ تجلی کا سماں نظر آتا ہے۔ساحر نے کئی ہجرتیں کیں مگر وہ باالفاظِ افتخار عارف سگِ زمانہ کبھی نہیں ہوئے۔ ان کی سرچشمی اور کشادہ ذہنی نے انھیں ہر جگہ عزت و حرمت دلائی اور ایک درد آشنا فنکار کی حیثیت سے وہ ادب اور سماج کے لیے افادیت کا سر چشمہ بنے رہیں۔ ان کی شاعری میں بھی ان کی درد مندی اور ان کا سماجی شعور جھلکتا ہے۔ 
معروف افسانہ نگار، محقق اور نقاد ڈاکٹر نورالامین (شعبہئ اردو، شاردا کالج، پربھنی) نے کلیدی خطبہ میں ساحرؔ شیوی کی شخصیت اور ان کے محرکات پر بھر پور روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مجھے تعجب ہے وہ ادبی، سماجی اور ذاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پچیسواں گھنٹہ کہا ں سے لاتے تھے۔ زندگی کی سنگلاخ راہوں کو خود کے لیے نخلستان بنانا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں لیکن اوروں کے لیے یہ نخلستان وقف کرنا ساحر شیوی جیسے سکندر کا وصفِ خاص کہ جس نے اپنے اپنوں پر سب کچھ نچھاور کردیا اور کوکن کی ادبی فضا میں اردو ادب کو سانس لینے کے لیے دائرہ وسیع کردیا۔ 
مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شعبہئ اردو، ممبئی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد نے شرکت کی اور ساحرؔ شیوی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساحر شیوی نے اپنی قابلِ قدر اور شائستہ تخلیقات کے ذریعہ نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ اردو ادب کے بہی خواہوں، ادیبوں اور شاعروں کی شناخت بنانے کے لیے بھی ایک ادبی ادارے ”کوکن اردو رائٹرس گلڈ“ کی بنیاد بھی ڈالی جس کے زیرِ اہتمام اردو کی کئی کتابیں شائع ہوئیں۔
ڈاکٹر پی پی کلکرنی (پرنسپل، گوگٹے جوگلے کر کالج رتناگری) نے اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر محمد دانش غنی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پچھلے آٹھ سال کے دوران ڈاکٹر محمد دانش غنی نے گوگٹے جوگلے کر کالج میں اردو کے متعدد پروگرام کیے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سمینار کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں ملک اور بیرن ملک کی بیشتر ادبی ہستیاں ہمارے کالج میں تشریف لائیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹرمحمد دانش غنی نے اہم موضوعات پر کانفرس اور سمینار منعقد کیے ہیں۔ ”ساحرؔ شیوی: ایک ہشت پہلو فنکار“ بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ 
ڈاکٹر محمد دانش غنی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور سمینار کی غرض و غائیت بھی بیان کی۔ محترمہ شاذیہ بڑھیے (معلمہ، مستری ہائی اسکول، رتناگری) نے نظامت کے فرائض انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کئے۔ڈاکٹرسریندر ٹھاکور دیسائی (وائس پرنسپل، آرٹس فیکلٹی) نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
اس سمینار میں جناب سعید کنول (ممبئی)، جناب منظر خیامی (باغ مانڈلہ)، ڈاکٹر غضنفر اقبال (گلبرگہ)، ڈاکٹر اسرار اللہ انصاری (برہانپور)،  ڈاکٹر تابش خان (ممبئی)، ڈاکٹر شیخ احرار احمد (ممبئی)،  ڈاکٹر ظہیر دانش عمری (حیدر آباد)، ڈاکٹر جاوید رانا (برہانپور)،  ڈاکٹر ابرار احمد (پونے)، ڈاکٹر ارشاد احمد خان (نانڈیڑ)  ڈاکٹر سید تاج الہدا خطیب (بیلگام)، ڈاکٹر محسن احمد (گلبرگہ)، شعیب ایبجی (ممبئی) اور کئی دوسرے شہروں سے اردو کے اہلِ قلم اور ریسرچ اسکالرس نے شرکت کی۔ جناب نظام الدین سعد (مہاڈ) عبدالرؤف محی الدین خطیب (کھیڈ)، جناب رفیق مقادم (مجگاؤں)، عبدالکریم محمد شریف منیار (رتناگری)، سیدہ تبسم ناڈکر (ممبئی) اور جناب منظور ناڈکر (ممبئی) مہمانان کی حیثیت سے شریک تھے۔ 
اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل ڈاکٹرپی پی کلکرنی نے سمینار کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیااور ڈاکٹر محمد دانش غنی کو مبارک باد پیش کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر دانش غنی اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے پوری طرح سرگرم ہے اس لیے ہمیں ان پر ناز ہے۔ انھوں نے ملک کے مختلف شہروں سے تشریف لائے ہوئے مقالہ نگاروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر عبداللہ امتیاز احمد، ڈاکٹر نورالامین، جناب نظام الدین سعد (مہاڈ) اور عبدالرؤف محی الدین خطیب (کھیڈ) نے سمینار کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر محمد دانش غنی کے اظہارِ تشکر پر سمینار کا اختتام ہوا۔ 
سمینار کے آخر میں جناب نظام الدین سعد کی صدارت میں ایک شعری نشست منعقد کی گئی جس میں جناب صابر مجگانوی، جناب تاج الدین شاہد، جناب سعید کنول، جناب منظر خیامی، محترمہ سیدہ تبسم ناڈکر، ڈاکٹر شیخ احرار احمد،  ڈاکٹر ابرار احمد، جناب، جناب امتیاز ناکاڑے، جناب عباس میاں ثاقبؔ اور جناب نسیم کرلوی نے کلام سے نوازا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر جاوید رانا (برہانپور) نے انجام دیے۔ رتناگری اور کوکن کے کئی دوسرے مقامات سے آئے ہوئے سامعین نے شریک ہو کر سمینار کی رونق بڑھائی۔ ڈاکٹر محمد دانش غنی کی محنت و صلاحیت کو بھی سراہا گیا۔  
 

Recommended