Urdu News

میں فکشن خالد جاوید کے لیے لکھتا ہوں: اشعر نجمی

تصویر میں چار یار: ممتاز و منفرد فکشن نگار، خورشید اکرم، اشعر نجمی، خالد جاوید اور صدیق عالم

مجھے مائک پر بولتے ہوئے بہت ڈر لگتا تھا۔ جوانی میں جب میں نے پہلی بار مائک پر بولا تھا تو میرے چھکے چھوٹ گئے تھے ۔ وہ ایک نیم مذہبی اور نیم سیاسی پروگرام تھا۔ سامنے کم از کم پانچ ہزار کا مجمع تھا۔ منتظمین (جن میں سے زیادہ تر میرے احباب اور شناسا تھے) بضد تھے کہ میں بولوں گا، شاید انھیں میری ’بک چودی‘ سے یہ گمان تھا کہ میں کافی اچھا بول سکتا ہوں۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ میں پوری خود اعتمادی سے بول تو رہا تھا لیکن میرا جسم پسینے سے شرابور تھا اور بولتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میرے پاؤں کانپ رہے ہیں ۔ سامنے پانچ ہزار لوگوں کی آنکھیں میرا معائنہ کررہی تھیں جن میں میرے کالج کے کچھ اساتذہ بھی شامل تھے اور میرے والد کے دوست بھی۔ میں نے چونکہ مدرسہ میں نہیں پڑھا ہے، اس لیے خطابت کی مشق بھی نہیں تھی۔ خیر صاحب ، کسی طرح پانچ منٹ بولنے کے بعد میں جب اسٹیج سے نیچے اتر رہا تھا تو لوگوں کی نظریں میرا تعاقب کررہی تھیں، میرے منتظمین دوست مسکراتے ہوئے مجھے یوں دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں، ’ہم کہتے تھے نا، تم پیدائشی بک چود ہو۔‘ لیکن میں اس تلخ تجربے کی بنیاد پر کافی عرصے تک مائک کا سامنا نہیں کیا، ہمیشہ کترا کر نکل جاتا تھا۔ میرے ایک سینئر استاد جو میرے کالج کے شعبۂ اردو سے وابستہ تھے، ان کے اصرار پر میں نے انھیں بتایا کہ میں مائک سے کیوں بھاگتا ہوں۔ انھوں نے مجھے ایک کمال کا نسخہ عطا کیا، فرمایا ’جب تم اسٹیج پر کھڑے ہوتے ہو تو تم پوری بھیڑ میں ایک دو لوگوں کو اپنی نظروں سے منتخب کرلو اور دوران تقریر ان کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھو، تمھیں بقیہ بھیڑ سے کوئی مطلب نہیں ، لیکن تمھارے مخاطب وہی دو تین لوگ ہوں جنھیں دیکھتے ہوئے تم گفتگو کررہے ہوگے۔ تمھارا ڈر ختم ہوجائے گا، زبان کی لکنت باقی نہیں رہے گی اور خود تم اب بولتے ہوئے مزے لوگے۔

یہ نسخہ کافی کامیاب رہا۔ میں نے ساری زندگی پھر یہی کیا، مشاعرے اور سیمینار کی نظامت بھی کی، مذاکروں میں خوب بولا حتیٰ کہ ایک زمانے میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرشاد یادو (جن کا اس وقت بہار ہی نہیں پورے ملک میں دبدبہ قائم تھا) کے ساتھ اسٹیج بھی شیئر کیا۔ مائک کے سامنے کھڑے ہوتے ہی مجمع میری نظروں سے غائب ہوجاتا تھا اور وہاں صرف ایک دو میرے مخاطب مجھے نظر آتے تھے جن پر میری نظریں ٹکی ہوتی تھیں۔  اب تو یہ سماجی سرگرمیاں سب چھوٹ گئیں بلکہ یوں کہیے کہ میں نے چھوڑدیا لیکن اس نسخے کا استعمال آج بھی کرتا ہوں جو میرے استاد نے برسوں پہلے مجھے سکھایا تھا۔ فکشن لکھتے ہوئے  قارئین کا مجمع میرے ذہن اور میری نظروں کے سامنے نہیں ہوتا اور نہ وہ میرے مخاطب ہوتے ہیں، البتہ دو چار چنندہ لوگ ضرور ہوتے ہیں جن پر مجھے یقین ہے کہ وہ فکشن اور میری دونوں کی زبان سمجھتے ہیں ۔ ان دو چار چنندہ لوگوں میں سر فہرست ایک نام ہے: خالد جاوید۔ میرے اندر یہ بات جانے کیوں جڑ پکڑتی جارہی ہے کہ اگر مجھے لکھنے کی کوئی تحریک دیتا ہے تو وہ خالد جاوید ہی ہیں، اور شاید میں انھی کے لیے لکھتا ہوں۔

Recommended