Urdu News

سعودی عرب میں خلائی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے برطانوی کمپنیوں کو پیش کش

سعودی عرب

لندن میں سعودی عرب نے جدت، ٹیکنالوجی، خلائی، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں کام کرنے والی 80 سے زائد برطانوی کمپنیوں کے سامنے مملکت میں سرمایہ کاری کے مواقع کی پیش کش کی۔ اس پیش کش کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع اور مسابقتی فوائد، ڈیجیٹل اور لاجسٹک پلیٹ فارم اور براعظموں کو جوڑنے کا مرکز، تحقیق، ترقی، جدت اور خلائی معیشت کے میدان میں سعودی عرب کے میدان میں عالمی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

ورکشاپ جس میں 80 سے زائد برطانوی کمپنیاں شریک تھیں۔ ورکشاپ کی صدارت سعودی عرب کے وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ’کاکجسٹ‘ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور سعودی خلائی اتھارٹی کے سربراہ انجینیر عبداللہ بن عامر السواحہ نے کی۔سعودی عرب کی طرف سے شامل ہونے والے وفد کی قیادت سعودی خلائی اتھارٹی کے نامزد سربراہ ڈاکٹر محمد بن سعود التمیمی نے کی۔ اس دورے کا مقصد مْملکت اور برطانیہ کے درمیان جدت اور خلائی معیشت کے شعبوں میں تعاون، دونوں ممالک میں مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کے مابین شراکت داری قائم کرنا اور بہترین طریقوں کے تبادلے کے لیے موثر چینلز کھولنے کی اجازت دینا ہے۔یہ ورکشاپ دونوں ممالک کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی اور مملکت کے وڑن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔

کمپنیوں سے اپنے خطاب میں السواحہ نے ایک متحرک معاشرہ، ایک پھلتی پھولتی معیشت اور ایک موثر حکومت کی تعمیر کے لیے مملکت کے وڑن کے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کی مارکیٹ اور سرمایہ کاری کا ماحول، ڈیجیٹل اجزاء، نوجوانوں اور خواتین کی صلاحیتوں، خطے کی دیگر منڈیوں تک رسائی کے لیے مثالی پلیٹ فارم کی نمائندگی کرتی ہیں۔اْنہوں نے برطانوی کمپنیوں کے ساتھ ڈیجیٹل ہیلتھ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، توانائی کے منصوبوں اور مستقبل کے شہروں میں مملکت میں سرکاری اور نجی شعبے کی کامیاب کمپنیوں کی مثالیں پیش کیں۔

Recommended