کھیل کود

غزل خان کی لگن نے بھارت میں دویانگ کرکٹ کو مضبوط بنانے میں کیسے کی مدد؟

میں نے اپنی دوسری زندگی خصوصی طور پر معذور لوگوں کے لیے وقف کر دی  ہے ۔دیویانگ کرکٹ کنٹرول بورڈ آف انڈیا (DCCBI) کے سی ای او  اور آگرہ، اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ غزل خان وہیل چیئر کرکٹ کے فروغ میں شامل ہونے والی دنیا کی سب سے کم عمر خاتون ہیں۔ وہ انٹرنیشنل کونسل آف وہیل چیئر کرکٹ کی وائس چیئرپرسن اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل فار دی فزیکل چیلینجڈ کی سیکرٹری برائے بین الاقوامی امور بھی ہیں۔

غزل خان نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ سنایا جس نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا،21 سال کی عمر میں، غزل نے موت کے ساتھ ایک قریبی تجربہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ  22 دسمبر 2015 کو جب میں ایم بی اے کے دوسرے سمسٹر کے امتحان کی تیاری کر   رہی تھیتو اچانک میرا بلڈ پریشر گر گیا۔ جب یہ ہوا تو میں اسکوٹر پر سوار  تھی۔ میں بے ہوش ہو کر اس سے گر گئی۔ آگرہ کے ایک اسپتال کے آئی سی یو میں 9 دن کے بعد میری آنکھ کھلی۔غزل نے 20 دن آئی سی یو میں گزارے۔ اسے بتایا گیا کہ وہ تشویشناک حالت میں تھی اور 2 دن سے وینٹی لیٹر پر تھی۔

 ڈاکٹروں نے اسے تقریباً مردہ قرار دے دیا تھا اور اسے زندہ رہنے کا صرف 2 فیصد موقع دیا تھا۔”میں اسی سال 24 دسمبر کو اپنی سالگرہ پر دوبارہ پیدا ہو ئی ۔ میں 9 دن سے کوما میں تھی۔ زخموں کو بند کرنے کے لیے میرے چہرے کو سلایا گیا تھا۔ میں نے اپنے چہرے کی خوبصورتی کھو دی۔ جب میں نے آئینے میں دیکھا تو میں خود کو نہیں پہچان سکی۔

اس تجربے کے بعد غزل نے سوچا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے اسے 2 فیصد موقع دینے کے بعد بھی وہ کیوں بچ گئی۔”میں نے اپنے آپ سے پوچھا، اللہ نے مجھے کیوں بچایا..؟ اس عرصے کے دوران مجھے اپنے والد کی ایسوسی ایشن سے معذور کرکٹرز کے کئی کالز موصول ہوئے۔غزل کے والد ہارون رشید ہندوستانی ٹیم کے مشہور فاسٹ بولر تھے۔ وہ بھی ایک حادثے کا شکار ہوئے اور ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں کرکٹ چھوڑنا پڑی۔انہوں نے دیویانگ کرکٹ کنٹرول بورڈ آف انڈیا (DCCBI) کی بنیاد رکھی تاکہ معذوری کا سامنا کرنے والے کرکٹرز کو ان کے مفادات کو آگے بڑھانے کے قابل بنایا جا سکے۔

 وہ بورڈ کے جنرل سیکرٹری اور غزل سی ای او ہیں۔غزل کہتی ہیں، “میں نے 2015 میں پہلے ایشیا کپ کے دوران رضاکارانہ طور پر ان کی مدد کی۔ اس نے مجھے معذور کرکٹرز کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے میں بھی مدد کی۔”میں نے محسوس کیا کہ میں نے اپنے چہرے کی خوبصورتی کھو دی ہے، لیکن وہ اپنے جسم کے اعضاء کھو چکے ہیں اور پھر بھی وہ بہت خوش ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔ تو میں اپنے بدصورت چہرے پر کیوں شرمندہ ہوں؟  “میں نے محسوس کیا کہ اللہ نے مجھے ایک وجہ سے بچایا ہے۔ میں نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کی تیاری کرنے اور آئی ایف ایس  آفیسر بننے کا فیصلہ کیا۔”مجھے پہلی کوشش میں ہی امتحان میں کامیابی کا یقین تھا۔ تاہم، میں اپنے ابتدائی امتحان سے ایک دن پہلے، میں نے اپنی منگیتر سے لڑائی کی۔ اس کے بعد میں افسردہ ہو گئی اور مجھے شدید طبی ڈپریشن کی تشخیص ہوئی۔

آئی این بیورو

Recent Posts

رجنی کانت کی فلم ’جیلر‘ پر شائقین کا ردعمل

رجنی کانت کی ’جیلر‘ جمعرات کو ریلیز ہوئی۔ فلم کو پہلے دن سینما گھروں میں…

9 months ago

کشمیر میں’میری ماٹی، میرا دیش‘مہم کے تحت متعدد تقریبات منعقد

مضمون نگار: زبیر قریشی میری ماٹی، میرا دیش مہم نے وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع…

9 months ago

یُگ پریورتن: جموں و کشمیر کا تبدیلی کا سفر

جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری میں تنظیم نو کے بعد ہونے والی اہم تبدیلیوں…

9 months ago

بھارت کے نقشے کی تصویر کا قالین بُننے والا کشمیری قالین باف محمد مقبول ڈار سے ملیں

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنا والا محمد مقبول ڈار نامی قالین…

9 months ago

زعفران کی آسمان چھوتی قیمت کشمیر کے کسانوں کے چہروں پر لے آئی مسکراہٹ

زعفران کی جی آئی ٹیگنگ کے بعد، کسانوں نے اس کی پیداوار میں اضافہ کیا…

9 months ago

لال چوک پر تجدید شدہ کلاک ٹاور سری نگر کے قلب میں لندن کی جھلک کررہا ہے پیش

سری نگر میں، لال چوک پر نئے تجدید شدہ تاریخی کلاک ٹاور ایک خوشگوار حیرت…

9 months ago