Urdu News

دریاؤں کی صفائی کی اسکیمیں

نمامی گنگے نے 49 یونیورسٹیوں کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کئے

دریاؤں کی صفائی کی اسکیمیں

جل شکتی کے وزیر مملکت جناب بشویشور ٹوڈو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ریاستوں./مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مقامی اداروں اور صنعتی اکائیوں کی یہ ذمہ داری ہے. کہ وہ ندیوں اور دیگر آبی ذخائر، ساحلی پانیوں یا زمین میں خارج ہونے سے پہلے سیوریج اور صنعتی فضلے کو مقررہ اصولوں کے مطابق ضروری ٹریٹمنٹ کو یقینی بنائیں. اس میں آلودگی کو کنٹرول کریں۔ دریاؤں کے تحفظ کے لیے. آبی وسائل، دریا ؤں کی ترقی اور گنگا کی  صفائی  کا محکمہ  ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ندیوں. کے شناخت شدہ حصوں میں آلودگی کو کم کرنے کے لیے مالی. اور تکنیکی مدد فراہم کر کے ان کی کوششوں میں تعاون کر رہا ہے۔ دریاؤں کی صفائی

نمامی گنگے پروگرام کی مرکزی سیکٹر اسکیم

گنگا طاس میں دریاؤں کے لیے نمامی گنگے پروگرام کی مرکزی سیکٹر اسکیم . اور دیگر دریاؤں کے لیے قومی دریا کے تحفظ کے پلان (این آر سی پی ) کی مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم کے ذریعے ملک میں  ریاستوں/. مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششوں  میں مدد فراہم کرائی جارہی ہے۔

این آر سی پی نے اب تک ملک کی 16 ریاستوں میں پھیلے 80 قصبوں میں 36 ندیوں پر آلودہ پٹیوں  کا احاطہ کیا ہے. جس  پروجیکٹ کی منظور شدہ ہے  6248.16 کروڑ ہے  اور دوسری باتوں کے ساتھ، 2745.7 ملین لیٹر یومیہ. (ایم ایل ڈی) کی سیوریج ٹریٹمنٹ کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ نمامی گنگے پروگرام کے تحت 32,912.40 کروڑ روپے کی لاگت والے  کل 409 پروجیکٹوں کو منظور کیا گیا ہے. جن میں 5269.87 ایم ایل ڈی کے سیوریج ٹریٹمنٹ کے لئے 177 پروجیکٹ اور 5,213 کلومیٹر کا سیور نیٹ ورک شامل ہے۔

شائع کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق

اس کے علاوہ ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت کے اٹل مشن فار ریجووینیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن . (امرت) اور اسمارٹ سٹیز مشن جیسے پروگراموں کے تحت سیوریج کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے۔

نومبر 2022 میں سی پی سی بی کی شائع کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق. 2018 میں شائع ہونے والی 351 آلودہ ندیوں کی پٹیوں. (پی آر ایس) میں. سے 106 کو ڈی لسٹ کیا گیا ہے جبکہ 74 پی آر ایس میں بہتری دیکھی گئی ہے۔

Recommended