Categories: فکر و نظر

ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کی جانب سے دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد

<p dir="RTL" style="text-align: justify;">
<strong>مقامات و کردارکے بغیر ادب کی تخلیق تقریبا ناممکن ہے: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین</strong></p>
<p dir="RTL" style="text-align: justify;">
ورلڈ اردو ایسوسی ایشن نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور ہندوستانی زبانوں کا مرکز جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اشتراک سے ’اردو ادب میں اہم مقامات و کردار: پس منظر، تاریخی اور تہذیبی اہمیت‘ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس سیمینار کی خاص بات یہ رہی کہ پہلے دن کا پروگرام زوم میٹنگ کے ذریعے آن لائن منعقد ہوا جس میں مصر کی مختلف جامعات کے علاوہ ازبکستان اور پاکستان سے اساتذہ نے اپنے مقالات پیش کیے۔ جن میں ڈاکٹر محیا عبدالرحمنوا، پروفیسر جلال حفناوی، ڈاکٹر مروہ لطفی، ڈاکٹر ایمان شکری، ڈاکٹر بسنت شکری، ریحاب مصطفی ، علیا عبدالعظیم، وردۃ سعودی اور ہما شہزادی شامل ہیں۔</p>
<p dir="RTL" style="text-align: justify;">
دوسرے دن کاپروگرام جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں بحسن و خوبی تکمیل کو پہنچا۔ ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے استقبالیہ کلمات میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور سیمینار کے موضوع کی اہمیت و معنویت پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انھوںنے ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کی سرگرمیوں کا ذکر بھی کیا۔ پروفیسر اوم پرکاش چیئر پرسن ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جے این یو کے افتتاحیہ کلمات سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ جب کہ پروفیسر انور پاشا نے انتہائی پر مغز کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ زبان و ادب کی بھی اپنی ایک قلمرو ہوتی ہے جہاں اس کی اپنی حکمرانی ہوتی ہے۔ اردو کی تمام اصناف میں کرداروں کی بہتات ہے اور دنیا کے تمام مظاہر موجود ہیں۔ نیز ہماری زبان کا تناظر مقامی بھی ہے اور عالمی بھی۔ پروفیسر شہاب عنایت ملک اور پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اس موضوع کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایڈووکیٹ خلیل الرحمن نے کہا کہ کسی بھی زندہ زبان میں ارتقا کا عمل جاری رہتا ہے اور اردو کی خوبی یہ ہے کہ اس کا ارتقائی سفر جاری ہے اور اس کے دامن میں بہت وسعت ہے۔ پروفیسر ابن کنول نے پروگرام کی صدارت فرمائی اور ڈاکٹر محمد رکن الدین نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔</p>
<p dir="RTL" style="text-align: justify;">
پہلے اور دوسرے سیشن میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور اسکالرس مقالہ نگار کی حیثیت سے شریک ہوئے ۔پروفیسر غضنفر علی،پروفیسر ثروت خان، ڈاکٹر سلیم محی الدین، ڈاکٹر سعود عالم، ڈاکٹر محمد حسین، ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر امیر حمزہ، جناب آلوک کمار اور مشرف رضا نے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بہت اہم مقالے پیش کیے۔</p>
<p dir="RTL" style="text-align: justify;">
پروفیسر غضنفر، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، ایڈووکیٹ خلیل الرحمن، پروفیسر ثروت خان اور ڈاکٹر اطہر فاروقی نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ جب کہ پہلے سیشن میں ڈاکٹر مہوش نور نے اور دوسرے میں شہباز رضا نے نظامت کی۔</p>
<p dir="RTL" style="text-align: justify;">
واضح رہے کہ ورلڈ اردو ایسوسی ایشن نے کورونا اور لاک ڈائون کے عہد میں بھی مسلسل اپنی سرگرمیاں جاری رکھی اور دنیا بھر کے شاعر و ادیب سے اہل اردو کو روشناس کرایا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اردو زبان و ادب کی بھرپور نمائندگی کی۔ تاہم کورونا کے بعد یہ پہلا آف لائن پروگرام ہے جو طویل عرصے کے بعد منعقد ہوا اور کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع ورلڈ اردو ایسوسی ایشن پریس کے زیر اہتمام شائع شدہ کتاب " کرناٹک میں اردو: ماضی اور حال"  کا اجرا بھی عمل میں آیا۔</p>

آئی این بیورو

Recent Posts

رجنی کانت کی فلم ’جیلر‘ پر شائقین کا ردعمل

رجنی کانت کی ’جیلر‘ جمعرات کو ریلیز ہوئی۔ فلم کو پہلے دن سینما گھروں میں…

1 year ago

کشمیر میں’میری ماٹی، میرا دیش‘مہم کے تحت متعدد تقریبات منعقد

مضمون نگار: زبیر قریشی میری ماٹی، میرا دیش مہم نے وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع…

1 year ago

یُگ پریورتن: جموں و کشمیر کا تبدیلی کا سفر

جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری میں تنظیم نو کے بعد ہونے والی اہم تبدیلیوں…

1 year ago

بھارت کے نقشے کی تصویر کا قالین بُننے والا کشمیری قالین باف محمد مقبول ڈار سے ملیں

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنا والا محمد مقبول ڈار نامی قالین…

1 year ago

زعفران کی آسمان چھوتی قیمت کشمیر کے کسانوں کے چہروں پر لے آئی مسکراہٹ

زعفران کی جی آئی ٹیگنگ کے بعد، کسانوں نے اس کی پیداوار میں اضافہ کیا…

1 year ago

لال چوک پر تجدید شدہ کلاک ٹاور سری نگر کے قلب میں لندن کی جھلک کررہا ہے پیش

سری نگر میں، لال چوک پر نئے تجدید شدہ تاریخی کلاک ٹاور ایک خوشگوار حیرت…

1 year ago