نئی دہلی،02اگست؍2021:
اقلیتی امور کی وزارت ، ان اقلیتی طلباء کو تعلیمی طورپر بااختیار بنانے کےلئے جو حکومتی یا پرائیویٹ اداروں میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے پروفیشنل اور تکنیکی کورسیز کررہے ہیں۔ میرٹ کم مینس کے بنیاد پر اسکالر شپ فراہم کرتی ہے۔ایسے طلباء کا انتخاب ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام انتظامیہ کے ذریعے شفاف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ایک وہ منتخب شدہ طالب علم ، جو 85ممتاز اداروں میں سے کسی ایک سے یہ کورس کررہا ہے،اس اسکیم کے تحت وہ پورے اکیڈمک سال کے دوران مکمل کورس کی فیس کےلئے اس اسکیم کے تحت اسکالر شپ کا اہل ہے۔اس کے ساتھ ہی اقلیتی امور کی وزارت کی طرف سے شروع کئے گئے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے تحت بھی اقلیتی فرقے کے طلباء پروفیشنل تعلیم کےلئے اسکالر شپ حاصل کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اقلیتی امور کی وزارت پڑھو پردیش اسکیم بھی لاگو کررہی ہے اورقومی اقلیتی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی)کے ذریعے اقلیتی طلباء کو تعلیم کےلئے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ (ایم اے این ایف)کے تحت تعلیم کےلئے قرض بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔پڑھو پردیش اسکیم کے تحت اقلیتی طلباء کو غیر ممالک میں اعلیٰ تعلیم کےلئے جو قرض فراہم کیاجاتا ہے، اس پر سودمیں رعایت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ایم اے این ایف فیلو شپ میں مالی مدد کی شکل میں اقلیتی فرقے کے طلباء کو تحقیقی کاموں کےلئے ریگولر طریقے سے اور کل وقتی طورپر مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، تاکہ وہ اندرون ملک ایم فل؍ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرسکیں۔
سردست میریٹ-کم-مینس پر مبنی اسکالر شپ اسکیم پر مبنی اقلیتوں کے لئے اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اسکیم موجود گائیڈ لائنز کے مطابق جاری ہے۔
پچھلے تین سالوں کے دوران میرٹ-کم-مینس اسکاپر شپ اسکیم کے تحت 1163.51کروڑ روپے مختص کئے گئے اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اسکیم کے تحت 1517.66کروڑ روپے مختص کئے گئے۔
پچھلے تین سال کے دوران پری میٹرک، پوسٹ میٹرک، میرٹ –کم-مینس پر مبنی اسکالر شپ اور بیگم حضرت محل قومی اسکالرشپ اسکیم کے تحت جاری کی گئی اسکالرشپ کی ریاست ؍قومی خطہ ریاست وارتفصیل ضمیمے دی جارہی ہے:
ضمیمہ
پچھلے تین سال کے دوران یعنی 19-2018 سے 21-2020ء کے دوراندوران پری میٹرک، پوسٹ میٹرک، میرٹ –کم-مینس پر مبنی اسکالر شپ اور بیگم حضرت محل قومی اسکالرشپ اسکیم کے تحت جاری کی گئی اسکالرشپ کی ریاست ؍قومی خطہ ریاست وارتفصیل۔ |
||
نمبر شمار |
ریاستیں؍مرکز کے زیر انتظام علاقے |
*منظور شدہ اسکالر شپ کی تعداد |
1 |
آندھرا پردیش |
503541 |
2 |
تلنگانہ |
545797 |
3 |
اروناچل پردیش |
7 |
4 |
آسام |
785310 |
5 |
بہار |
826909 |
6 |
چھتیس گڑھ |
22576 |
7 |
گوا |
2630 |
8 |
گجرات |
468516 |
9 |
ہریانہ |
41778 |
10 |
ہماچل پردیش |
7190 |
11 |
جموں و کشمیر |
1346483 |
12 |
جھارکھنڈ |
192458 |
13 |
کرناٹک |
1736186 |
14 |
کیرالہ |
2160475 |
15 |
لداخ |
16250 |
16 |
مدھیہ پردیش |
450830 |
17 |
مہاراشٹر |
2369230 |
18 |
منی پوری |
123099 |
19 |
میگھالیہ |
54920 |
20 |
میزورم |
153414 |
21 |
ناگالینڈ |
169217 |
22 |
اُڈیشہ |
52641 |
23 |
پنجاب |
1487991 |
24 |
راجستھان |
548423 |
25 |
سکم |
1516 |
26 |
تمل ناڈو |
1237697 |
27 |
تریپورہ |
16389 |
28 |
اترپردیش |
2608329 |
29 |
اتراکھنڈ |
88214 |
30 |
مغربی بنگال |
1419702 |
31 |
انڈمان و نکوبار |
3248 |
32 |
چنڈی گڑھ |
4901 |
33 |
دادر اینڈ نگرحویلی اور دمن اینڈ دیو |
966 |
34 |
دہلی |
22501 |
35 |
لکشدیپ |
2 |
36 |
پڈوچیری |
11568 |
میزان |
1,94,80,904 |
*عبوری(22-2021 میں جاری اسکیموں کےلئے منظور ی ؍تقسیم کے اعدادو شمار )
**اس میں بیگم حضرت محل قومی اسکالر شپ اسکیم کے تحت منظور شدہ رقم اور تعداد شامل ہے۔
نوٹ:اروناچل پردیش اور لکشدیپ پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اور میرٹ-کم-مینس پر مبنی اسکالرشپ اسکیموں کے تحت کوئی اسکالر شپ نہیں حاصل کرتیں۔
یہ اطلاع آج راجیہ سبھا میں اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے ایک تحریری جواب میں دی۔