Urdu News

جو ملک اپنی زبان کھو دیتا ہے وہ اپنی اصل فکر بھی کھو دیتا ہے: امت شاہ

جو ملک اپنی زبان کھو دیتا ہے وہ اپنی اصل فکر بھی کھو دیتا ہے: امت شاہ

جو ملک اپنی زبان کھو دیتا ہے وہ اپنی تہذیب، ثقافت اور اپنی اصل فکر بھی کھو دیتا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ باتیں ہفتہ کے روز وارانسی میں دو روزہ ’اکھل بھارتیہ راج بھاشا سمیلن‘ کا افتتاح کرتے ہوئے کہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پہلے ہندی زبان کو لے کرکئی طرح کے تنازعات کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اب وہ وقت ختم ہو گیا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نے ہماری زبانوں کوفخر کے ساتھ دنیا بھرمیں فروغ دینے کام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے ساتھ ساتھ ملک کی نئی تعلیمی پالیسی کا ایک اہم نکات زبانوں کا تحفظ اورقومی زبان کی ترویج وترقی بھی ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں قومی زبان اور مادری زبان پر زور دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ جو نئی تبدیلی کی ہے وہ ہندوستان کا مستقبل بدل دے گی۔

وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی رسم الخط کی زبانیں ہندوستان میں ہیں۔ ہمیں انہیں آگے لے جانا ہے۔ زبان جتنی مضبوط اور امیر ہوگی، ثقافت اور تہذیب اتنی ہی وسیع اور طاقتور ہوگی۔ اپنی زبان سے لگاؤاور اپنی زبان کے استعمال پر کبھی شرم نہ کیجئے۔ یہ فخر کی بات ہے۔

آزادی کے امرت مہوتسو کا تذکرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں ملک کے تمام لوگوں سے یہ مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ قومی زبان کے لیے ہمارا ایک مقصد، جو ہم سے چھوٹ گیا تھا، ہم اس کو یاد کریں اور اسے اپنی زندگی کاحصہ بنائیں۔  انہوں نے کہا کہ ہندی اور ہماری تمام مقامی زبانوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

وہ اپنے دو روزہ وارانسی دورے کے آخری دن ہفتہ کے روز بڑالال پور میں واقع پنڈت دین دیال ہست کلا سنکول (ٹریڈ فیسیلٹی سنٹر) میں ہندوستانی قومی زبان کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

تین تین سیشن میں چلنے والی کانفرنس میں ہندی کے ترقی پسند استعمال کو بڑھانے کے لیے غوروخوض کیا جا رہا ہے۔ پہلے سیشن میں آزادی کی جدوجہد اور آزاد ہندوستان میں رابطہ زبان اور عوامی زبان کے طور پر ہندی کا کردار اور دوسرے سیشن میں قومی زبان کے طور پرہندی کی ترقی کا سفر اور اس کی شراکت داری پر منعقد کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس میں ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، وزیر مملکت برائے داخلہ نتیہ نند رائے، نشیتھ پرمانک اور ملک بھر سے دانشوران شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا اہتمام وزارت داخلہ کے قومی  زبان کے شعبہ نے کیا ہے۔

کانفرنس کے تیسرے سیشن میں ہندوستانی روایت اور زبان کی ثقافت کی تشکیل میں ہندی کے کردار پر ایک سیمینار،عدلیہ میں ہندی کے استعمال اور امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ ایک دن پہلے جمعہ کی شام کو مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ترغیب اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پہل پرقومی زبان کا محکمہ راج بھاشاسمیلن کا انعقاد کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کانفرنس پہلی بار بنارس میں آزادی کے امرت فیسٹیول کے تحت منعقد کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت مشرا نے کہا کہ 2014 کے بعد جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے کام شروع کیا ہے اور اس سے پہلے سے ہی وہ ہندی میں کام کر رہے ہیں۔گذشتہ سات سالوں میں ہم نے بڑے پیمانے پر نتائج دیکھے ہیں۔ پچھلے سات سالوں میں ہندی بولنے، لکھنے اور پڑھنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے ہندی کو آسان بناتے ہوئے روزمرہ کے الفاظ کے استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ بیرون ملک بھی ہندی بولنے والوں کی تعداد 30 کروڑ سے زیادہ ہے۔ دنیا کے 150 ممالک میں 18 سے 20 فیصد لوگ ہندی بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ 600 سے زیادہ کالجوں میں ہندی پڑھائی جا رہی ہے۔

Recommended