Urdu News

حکومت ہند100 ایل ایم ٹی تک چینی کی برآمدات کی اجازت دے گی

حکومت ہند100 ایل ایم ٹی تک چینی کی برآمدات کی اجازت دے گی

حکومت نے چینی کا موسم 22-2021)اکتوبر – ستمبر)کے دوران گھریلو دستیابی اور قیمتوں کو مستحکم بنائے رکھنے کی خاطر 100 ایل ایم ٹی تک چینی کی برآمدات کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا۔ڈی جی ایف ٹی کی جانب سے جاری حکم  نامے کے مطابق جو یکم جون 2022 سے 31 اکتوبر 2022 تک یا اگلے احکامات تک ، جو پہلے بھی ہوں ،تک نافذالعمل رہے گااور ان احکامات کے تحت چینی کی برآمدات کے لئے چینی کی ڈائیریکٹوریٹ ،خوراک اور نظام تقسیم کے محکمے سے خصوصی اجازت لینی ہوگی۔ یہ فیصلہ چینی کی ریکارڈ برآمدات کی روشنی میں آیا ہے ۔

چینی کا موسم 18-2017 ،19-2018 اور20-2019 میں تقریباً 6.2 ایل ایم ٹی ،38 ایل ایم ٹی اور 59.60 ایل ایم ٹی چینی کی برآمدات ہوئیں۔موجودہ چینی کا موسم 22-2021 میں 90 ایل ایم ٹی کی برآمدات کے لئے معاہدہ پر دستخط کئے گئے،جس کے تحت تقریباً 82 ایل ایم ٹی چینی برآمدات کے لئے چینی کی میلوں سے بھیجے گئے ہیں اور تقریباً 78 ایل ایم ٹی کی برآمدات ہوئی ہے۔موجودہ چینی کا موسم 22-2021 میں چینی کی برآمدات میں تاریخی طور پر اضافہ ہوا ہے ۔

یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ چینی کا موسم (30 ستمبر 2022) کے اختتام پر چینی کا کلوزنگ اسٹاک 60-65 ایل ایم ٹی رہے جو گھریلو استعمال کے لئے 2 سے3 مہینے کی اسٹاک (ان مہینوں میں ماہانہ ضرورت تقریباً 24 ایل ایم ٹی ہے)کی ضرورت ہوتی ہے۔نئے موسم میں کرناٹک میں اکتوبر کے گذشتہ ہفتے اور مہاراشٹر میں اکتوبر سے نومبر کے آخری ہفتے اور اترپردیش میں نومبر میں کرشنگ  کی شروعات ہوتی ہے  ،اس لئے عام طو ر پر نومبر تک چینی کی سپلائی گذشتہ سال کے اسٹاک سے ہوتی ہے۔چینی کی برآمدات میں غیر مثالی اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک میں چینی کے وافر ذخیرے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ چینی کی قیمتوں کو کنٹرول رکھ کر کے عام شہریوں کے مفادات کے تحفظ کی ضرورت ہے۔

اس لیےحکومت ہند نے یکم جون 2022 سے چینی کی برآمدات کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چینی میلوں اور برآمد کاروں کو چینی ڈائیریکٹوریٹ،خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے محکمہ سے ایکسپورٹ ریلیز آرڈر(ای آر اوز) کی شکل میں اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔حکومت ملک بھر میں تھوک اور خوردہ فروشوں کی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے رجحانات کے ساتھ ساتھ چینی کی پیداوار ،کھپت ، برآمدات  سمیت چینی کے شعبے میں صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہی ہے۔ہندوستان موجودہ سال میں دنیا میں سب سے زیادہ چینی کی پیداوار کرنے والا اور دوسرا سب سے بڑا برآمد کار ہے۔

Recommended