Urdu News

آم ہم ساگر پہ آخر کیوں فریفتہ ہیں اہل بنگال؟

بنگال کا سب سے مشہور ہم ساگر آم

آم ہم ساگر پہ آخر کیوں فریفتہ ہیں اہل بنگال؟

(ہم ساگر)

آموں کی دنیا میں اہل رتناگری کے لئے جو مقام الفانسو کا ہے، یا اہل گورکھپور کے لئے جو مقام گورجیت آم کا ہے وہی مقام و مرتبہ اہل بنگال کے لئے ”ہم ساگر آم“ کا ہے۔Himsagar Mangoکا ذائقہ اہل بنگال کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ مغربی بنگال کے علاوہ بنگلا دیش میں بھی اس آم کی دھوم ہے۔ یہ وزن میں مالدے، لنگڑا آم کے لگ بھگ برابر ہوتا ہے۔ اس کی شکل و صورت اس آم سے ملتی ہے جسے بہار میں مالدے آم، دہلی میں لنگڑا آم اور مشرقی اتر پردیش میں کپوری آم کہتے ہیں۔  اس کا وزن عام طور پر ڈھائی سو گرام سے ساڑھے تین سو گرام تک ہوتا ہے۔یہ گہرے ہرے رنگ کا آم ہے۔ پکنے کے بعد بھی اس کا ہراپن کسی حد تک قائم رہتا ہے۔اس میں بھرپور گوداPulpہوتا ہے۔ پکنے کے بعد اسے کئی روز تک کھایا جا سکتا ہے یعنی بہت جلدی خراب نہیں ہوتا ہے۔ مئی اور جون کے مہینے میں یہ آم پک کر تیار ہوتا ہے۔ جولائی کے پہلے ہفتے میں بھی بازاروں میں مل جاتا ہے۔ زیادہ مہنگا آم نہیں ہے۔ جس طرح دسہری آم ملیح آباد کا مشہور ہے اسی طرح بنگلا دیش میں چاپئی نواب گنج کا ہم ساگر آم سب سے زیادہ مشہور ہے۔ مغربی بنگال میں مالدہ، مرشد آباد، ہوگلی اور نادیا ضلع میں ہم ساگر آم کی خوب پیداوار ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس آم کو جی آئی ٹیگG I Tagملا ہوا ہے۔ کل ملا کر ڈھاکہ اور کلکتہ کے بازاروں میں آپ مئی جون کے مہینے میں اس آم کا خوب نظارہ کریں۔ آم کے شوقین اس ہم ساگر آم کا ذائقہ خوب پہچانتے ہیں۔ 

آم، ہم ساگر، بنگال، نادیہ، بنگلہ دیش، آموں کی فصل، آم کا پھل، آم کا درخت، الفانسو، ہاپوس آم،

بنگال کا سب سے مشہور ہم ساگر آم

Recommended