Urdu News

ویکسی نیشن سے متعلق حقائق سامنے رکھ کرمرکز نے اس پر ہورہی سیاست کو مایوس کن قراردیا

@IndianGovtt

مرکزی حکومت نے جمعرات کے روز ملک بھر ٹیکہ کاری مہم سے متعلق افواہوں اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپوزیشن رہنماوں سے سیاست کرنے سے باز آنے کے لیے کہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ کچھ قائدین آئے دن بیانات دے رہے ہیں ، جبکہ یہ متحد ہوکر کوشش کرنے کا ہے۔

نیتی آیوگ کی جانب سے تیار کردہ سات افواہوں اور ان سے متعلق حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ، حکومت نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ویکسین کی پیداوار کوئی آسان عمل نہیں ہے ، پوری دنیا ویکسین کی کمی کا شکار ہے اور اس کے باوجود مرکزی حکومت کی کوششوں سے سال کے آخر تک ملک میں 200 کروڑ ویکسین کی خوراکیں تیار ہوگی جو کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ واٹس ایپ میسجز کے ذریعہ خوف پھیلایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ بچوں کو ویکسین دی جانی چاہیے۔ اس پر کچھ سیاستدان سیاست کررہے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی بچوں کو کوئی ویکسین نہیں دی جارہی ہے اور یہاں تک کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی بچوں کو ویکسین دینے کی سفارش نہیں کی ہے۔ حکومت سائنسی بنیادوں پر ہی فیصلہ لے گی۔

حکومت نے ویکسی نیشن پروگرام کے بارے میں پائی جانے والی الجھن کو دور کرنے کے لیے تفصیلی مواد دینے کی کوشش کی ہے۔ اس میں حکومت کی کوششوں ، ویکسین کی منظوری دینا، پیداوار ، جبراً لائسنس دینا ، ریاستوں کو ٹیکے خریدنے کا اختیار فراہم کرنا ، ریاستوں کو مناسب ویکسین دینا اور بچوں کی ٹیکہ کاری جیسے سات موضوعات ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان پر مسخ شدہ بیانات ، آدھی سچائی اور جھوٹ پیش کیا جارہا ہے۔

حکومت نے کہا کہ اپریل تک ، مرکزی حکومت نے اپنی طرف سے ویکسین پروگرام کرایالیکن پھر بھی کچھ ریاستیں فرنٹ لائن کے ہیلتھ ورکرس اور کورونا جانبازوں کی ٹیکہ کاری تک نہیں کر سکے ۔ مئی میں مرکز نے ریاستوں کی درخواست پر ویکسین کی خریداری کی چھوٹ بھی دے دی ہے جو ایک اضافی متبادل ہے۔ اس کے باوجود ، ریاستیں بین الاقوامی سطح پر ویکسین کی خریداری کے لئے کوئی معاہدہ نہیں کر سکی ہیں کیونکہ دنیا اس کی قلت سے دوچار ہے اور یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ صحت ریاستوں کا موضوع ہے اور حکومت جتنی بھی ویکسین خرید رہی ہے ، ریاستوں کو مقررہ معیار کے مطابق مختص کر رہی ہے ۔ ساتھ ہی انہیں ا س کی دستیابی کے بارے میں پیشگی معلومات بھی دے رہی ہے۔

حکومت کے مطابق ، گزشتہ سال سے ہی حکومت بین الاقوامی سطح پر یہ ویکسین خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ تاہم ، ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اپنی ترجیحات ، منصوبے اور مجبوریاں ہیں۔ انہیں پہلے ہندوستان کی طرح اپنے ملک میں ویکسین دینا ہوگی۔ حکومتی کوششوں کی وجہ سے ہی اسپوتنک ہندوستان پہنچی ہے۔

پیداوار کے موضوع پر ، حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال سے ہی ملک میں اس سلسلے میں تمام کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہندوستان ساختہ کوویکسین کو تین دیگر کمپنیوں کے ذریعہ تیار کرانے کا بھی فیصلہ لیا گیاہے۔ اکتوبر تک 10 کروڑ ویکسین خوراکیں ہر ماہ تیار ہوں گی۔ وہیں دوسری کمپنیاں بھی 4 کروڑ خوراکیں بنائیں گی۔ سیرم کی کووڈشیلڈ کی پیداوار بھی ماہانہ 6.5 کروڑ سے بڑھ کر 11 کروڑ کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کمپنیوں کو بھی دیسی ویکسین بنانے میں مدد کی جارہی ہے۔

جہاں تک لازمی لائسنس کا سوال ہے ، حکومت نے کہا کہ محض لائسنس ہی ہوناکافی نہیں ہے۔ ویکسین بنانے کے لیے ادارے ، ہنرمند کارکن ، ضروری مواد اور بایو سیفٹی بھی اہم ہیں۔ امریکی موڈرنا کمپنی نے اپنی ویکسین تیار کرنے کی چھوٹ دی ہے ، لیکن پھر بھی کوئی کمپنی آگے نہیں آئی ہے کیوں کہ یہ آسان عمل نہیں ہے۔ 

Recommended