Urdu News

پونے کی ایک فرم نےوائرل مانع عناصر کے ساتھ مل کر’ تھری ڈی پرنٹیڈ’ ماسک تیار کیا

3D-printed Masks

 

 
 

نئی دہلی،14 جون : تھری ڈی پرنٹنگ اور فارماسیوٹیکلز کے انضمام کے نتیجے میں ایک نئے قسم کا ماسک تیار کیا گیا  ہے جو وائرس پر اس وقت  حملہ کرتا ہے جب وائرل  کے ذرات اس کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں۔ پونے میں واقع ایک  اسٹارٹ اپ فرم تھنکر ٹیکنالوجیز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعہ تیار کردہ ، یہ ماسک وائرل مانع عناصر کی خاصیت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے جسے وائروسائڈز(وائرس کا خاتمہ کرنے والا) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وائروسائڈز ماسک کا یہ پروجیکٹ کووڈ-19 کے خلاف حکومت کی جاری لڑائی کے طور پر، حکومت ہند کے سائنس و ٹکنالوجی کے محکمے کے تحت ایک قانونی ادارہ ٹکنالوجی ڈویلپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) کے ذریعہ تجارتی مقاصد کے لیے منتخب کیے گئے ابتدائی پروجکٹوں میں سے ایک ہے۔

 

اس منصوبے کو ٹی ڈی بی کی جانب سے کووڈ-19 سے لڑنے اور ایک جامع حل تلاش  کرنے کے لیے ، مئی 2020 میں مالی اعانت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ، ماسک تیار کرنے کے لئے 8 جولائی ، 2020 کو ایک معاہدہ کیا گیا۔ 2016 ء میں قائم اس  تجارتی  فرم کا دعوی ہے کہ مؤثر لاگت سے تیار ہونے والے یہ  ماسک عام  این95 ، 3-ply اور کپڑے کے ماسک کے مقابلے میں کووڈ-19کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے زیادہ موثر ہیں۔

اعلی معیاری اور زیادہ موثر ماسکوں کو  بنانا از حد ضروری

تھنکر ٹیکنالوجیز انڈیا نئی دوا ساز فارمولیشن (فارما سیوٹیکل فارمولیشن) اور مختلف ادویات کے ڈرگ لوڈیڈ فیلامینٹس کو  دریافت کرنے کے لئے فیوزڈ ڈیپازیشن ماڈلنگ (ایف ڈی ایم) تھری ڈی پرنٹرز کو ڈیولپ کرنے کا کام کرتی ہے۔  اس کے بانی و ڈائریکٹر ڈاکٹر شیتل کمار زمبد نے اس تعلق سے بتایا کہ: "ہم نے وبائی مرض کے پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں ہی  اس  مسئلہ کے ممکنہ حل  کو تلاش کرنے کے لیے غوروفکر کرنا  شروع کردیا تھا۔ ہم نے محسوس کر لیا تھا کہ چہرے کے ماسک کا استعمال انفیکشن کی روک تھام کے لئے ایک اہم ذریعہ کی حیثیت سے پوری دنیا میں عام ہوجائے گا۔ لیکن ہم نے محسوس کیا کہ زیادہ تر ماسک جو اس وقت دستیاب تھے اور عام لوگوں کی رسائی میں تھے ،وہ گھر کا بنا ہوا اور نسبتاً کمتر یعنی غیر معیاری  تھا۔ اعلی معیار کے ماسک کی از حد ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہم نے انفیکشن کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور ایک بہتر لائحہ عمل تیار کرنے  کے  لیے موثر لاگت اور زیادہ موثر  طور پر وائرس کا خاتمہ کرنے والے ماسک تیار کرنے اور انہیں تجارت کے ذریعہ فروغ دینے  کے لئے ایک پروجیکٹ  پر کام کرنا شروع کیا جس میں ہم کامیاب   بھی رہے۔

ترقی کا سفر

اسی مقصد کے ساتھ ، تھنکر ٹیکنالوجیز نے وائروسیڈل کوٹنگ فارمولیشنوں (وائرس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی اور عملی تحقیق)کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنا شروع کردیا۔ اسے نیرول میں واقع مرک لائف سائنسز کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا ، جس کی تحقیق اور حصولیابی کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ کوٹنگ فارمولیشن کا استعمال کپڑے کی پرت  پردوا کا لیپ لگانے کے  لیے کیا گیا ہے اور تھری ڈی پرنٹنگ کے اصول کو کوٹنگ کو ایک شکل دینے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔  لیپ کی ہوئی پرت کو دوبارہ قابل استعمال بنانے  کے لیے  فلٹر کے ساتھ این -95 ماسک ، 3-پلائی ماسک ، عام کپڑوں کے ماسک ، تھری ڈی پرنٹیڈ یا دیگر پلاسٹک کور ماسک میں ایک اضافی پرت کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ ماسک فلٹریشن کے عمل  کے ذریعہ حاصل شدہ تحفظ سےمزید اور اضافی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

کوٹنگ کے تجربے میں پایا گیا  کہ یہ سارس-کووڈ2وائرس کو غیر فعال  بنانے میں معاون ہے۔ ماسک پر کوٹنگ کے لئے استعمال ہونے والا مواد سوڈیم اولیفن سلفونیٹ پر مبنی مرکب ہے۔ یہ ہائیڈرو فیلک اور ہائیڈروفوبک  کی خصوصیات سے متصف صابن بنانے والا عنصر ہے ۔ لپٹے ہوئے وائرسوں کے ساتھ رابطے میں آنے پر یہ وائرس کی بیرونی جھلی کو متاثر کرتا ہے۔  اس میں استعمال  کیے جانے والے اجزا کمرے کے درجہ حرارت میں مستحکم  رہتے ہیں اور کاسمیٹکس میں اس کا سیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ان ماسکوں میں پھر سے استعمال میں لائے جا سکنے والے فلٹر بھی 3-ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر زمبدکا مزید کہنا ہے  کہ'' ان ماسکوں میں  بیکٹریا کو فلٹر کردینے کی صلاحیت 95 فیصد سے زیادہ پائی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ میں ، پہلی بار ، ہم نے پلاسٹک مولڈیڈ یا تھری ڈی پرنٹ شدہ ماسک کور کے عین مطابق فٹ ہونے کے لئے ملٹی لیئر(کئی پرت والے)کپڑوں کا فلٹر بنانے کے لئے تھری ڈی پرنٹرز کا استعمال کیا ہے۔"

pic4.jpg

کمپنی کے بانی ڈاکٹر زمبد نے مزید بتایا کہ ''تھنکر ٹیکنالوجیز انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ نے اس پروڈکٹ کے پیٹنٹ کے لئے درخواست دی ہے۔ تجارتی مقاصد کے حصول کے لیے اس کی مینوفیکچرنگ بھی شروع ہوگئی ہے'' ۔ دریں اثنا ، ایک این جی او کے ذریعہ نندرور ، ناسک اور بنگلور کے چار سرکاری اسپتالوں میں ، حفظان صحت  کے کارکنوں اور بنگلورو میں ایک لڑکیوں کے اسکول اور کالج میں بھی 6000 وائروسائڈل ماسک تقسیم کیے گئے ہیں۔


 
 
 
 

Recommended