Urdu News

دستورزندہ باد ہندوستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ نے یوم جمہوریہ منایا

دستورزندہ باد ہندوستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ نے یوم جمہوریہ منایا

عالمی شہرت یافتہ تنظیم آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کی جانب سے بورڈ کے آفیشل پیج پر ”یوم جمہوریہ اور صوفیائے کرام کاپیغام“ پروگرام کا اہتمام کیا گیا اوربورڈ کے ذریعہ ملک بھر میں کووڈ پروٹوکول کے مطابق پرچم کشائی کی گئی۔بورڈ کرناٹک کے ریاستی صدر وقومی ایگزیکیوٹیو باڈی حضرت سید تنویر ہاشمی صاحب نے کہا کہ ہمیں ملک کو آگے بڑھانا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی مخلوط ثقافت کی حفاظت کریں۔ آئینی اداروں کا احترام کریں اور ملک کو بچانے کے لیے اپنی آزادی برقرار رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے سب سے پیار، جس طرح سے نفرت سڑکوں پر پیش کی جا رہی ہے وہ ملک کے لیے خطرہ ہے۔

بورڈ کے قومی ایگزیکیوٹیو باڈی حضرت سیدی میاں صاحب نے کہا کہ ہندوستان ایک شاندار ملک ہے، ایسی انوکھی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی جہاں اتنے مذاہب ایک ساتھ رہتے ہوں۔عطائے رسول خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشین اور بورڈ کے قومی جوائنٹ سکریٹری حاجی سید سلمان چشتی نے کہا کہ ملک میں جس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے وہ ہمارے آئینی ڈھانچے کے لیے خطرناک ہے، لوگ  مذہب کے نام پر نفرت کا کاروبار کر رہے ہیں جس سے ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ اسے بچانے کے لیے دانشوروں کو بھی آگے آنا ہوگا۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے نیشنل ایگزیکیوٹیو باڈی خواجہ سید فرید احمد نظامی نائب سجادہ نشین درگاہ نظام الدین اولیارحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ آئین کا احترام کیے بغیر حب الوطنی محض ایک دکھاوا ہے، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہمیں اپنے جمہوری نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اسکے لیے اس میں اعتماد برقرار رکھنا ہوگا کیونکہ جس طرح ہماری گنگا جمنی تہذیب کو نفرت کی آگ سے خطرہ ہے وہ بہت خوفناک ہے، اگر یہ تہذیب ختم ہوگئی تو نہ قانون کی حکمرانی ہوگی نہ جمہوریت، جس آزادی کی ہم بات کررہے ہیں وہ ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مولانا غلام رسول دہلوی نے لوگوں کو سوشل میڈیا کی طاقت سے روشناس کراتے ہوئے کہا کہ یہ جہاں ترقی کی علامت ہے، اس کا غلط استعمال سب سے بڑا خطرہ ہے تو ہمیں ہوشیار ہونا پڑے گا۔پروگرام کی نظامت یونس موہانی نے کی۔آخر میں ملک میں امن و سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔

Recommended