دالوں کی پیداوار کو بڑھاوا دینا

https://urdu.indianarrative.com/Narendra_Singh_Tomar_1.jpg

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر

 

 

نیشنل فوڈ سیکورٹی مشن (این ایف ایس ایم) کے تحت دال پیدا کرنے والی بڑی ریاستوں کے کسانوں کو دالوں کے بیج کی منی کٹس تقسیم کی گئیں۔ بیجوں کی منی کٹس کی ضلع وار تقسیم اور انتظام متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ کیا گیا۔

نیشنل فوڈ سیکورٹی مشن (این ایف ایس ایم) کے تحت ریاستوں کے ذریعہ براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) نافذ کیا گیا ہے۔ ریاستوں نے آدھار کا استعمال کرتے ہوئے ڈی بی ٹی کے ذریعے ہدف مستفید افراد کو فوائد منتقل کیے۔ متعدد ریاستوں جیسے گجرات، تمل ناڈو، آندھر پردیش، مہاراشٹر وغیرہ نے آدھار کا استعمال کرتے ہوئے بیجوں کے منی کٹس کی تقسیم کی اطلاع دی ہے۔ بیج منی کٹس پروگرام کے تحت دالوں کی پیداوار اور پیداوری کی نگرانی بنیادی طور پر ریاستی حکومت کے فیلڈ افسران اور اسٹیٹ فوڈ سیکیورٹی مشن ایگزیکٹو کمیٹی (ایس ایف ایس ایم-ای سی) کے زیر نگرانی چیف سکریٹری/ زراعت پروڈکشن کمشنر کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، بیج منی کٹس فیلڈز کے فیلڈ وزٹ بھی نیشنل لیول مانیٹرنگ ٹیمیں (این اے ایل ایم او ٹی ایس) کرتی ہیں جو محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کے ذریعہ تشکیل دی جاتی ہیں۔ این ایف ایس ایم - دالوں کے پروگرام کے تحت مختلف مداخلت کے نتیجے میں، دالوں کی پیداوار 2015-16 میں 16.32 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2020-21 (تیسرا ایڈوانس تخمینہ) میں 25.56 ملین میٹرک ٹن ہو گئی ہے۔ اسی مدت کے دوران دالوں کی پیداواری صلاحیت بھی 655 کلوگرام فی ہیکٹر سے بڑھ کر 878 کلوگرام فی ہیکٹر ہو گئی ہے۔

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔