Urdu News

فرقہ پرستی پر قابو کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری بہترین طریقہ کار:علی انور

سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا علی انور انصاری

پٹنہ، یکم ستمبر(انڈیا نیرٹیو)

آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے قومی صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا علی انور انصاری نے ذات پر مبنی مردم شماری کی پرزور وکالت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 2021 میں ہورہی مردم شماری ہر قیمت پر ذات کی بنیاد پر کرائی جائے اور تمام مذاہب کی تمام ذاتوں کی گنتی ہونی چاہیے تاکہ ان کی فلاح وبہبود کے لیے ٹھیک طرح سے منصوبہ بندی کی جا سکے اور انہیں ان کا جائز حق دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے تناسب میں ملازمت، روزگار، سیاست و اقتدار میں حصہ داری کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے اور ملک میں اس کے لیے ہر طرف سے آواز بلند کی جارہی ہے جسے اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

 انہوں نے کہا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی فرقہ پرستی پر قابو کے لئے ذات پر مبنی مردم شماری ایک بہترین علاج و طریقہ ہے، جسے اختیار کر کے ملک کو فرقہ پرستی کی لعنت سے پاک کیا جاسکتا ہیاو ر ملک میں امن و بھائی چارہ کے خوشگوار ماحول کو برقرار رکھا جا سکتا ہے جو ملک کی بقا وسالمیت کے لئے پہلی ضرورت ہے۔ مسلم محاذ کے قومی صدر و سابق ایم پی علی انور انصاری نے داروغہ رائے بھون میں منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے محاذ کی جانب سے ملک کی مختلف ذاتوں کی سماجی و اقتصادی اور سیاسی صورت حال پر مبنی ایک رپورٹ بھی جاری کی۔

 انہوں نے زور دیکر کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری وقت کی بڑی ضرورت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ذات ہندوستان کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ انگریزوں کے دور میں 1931 تک ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری ہوتی تھی مگر اس کے بعد سے اس پر روک لگا دی گئی ملک میں جن طبقوں کی آبادی بہت کم ہے انہیں ملازمت سے لیکر اقتدار تک تمام جگہوں پر بڑی حصہ داری حاصل ہے، جب کہ بڑی آبادی والے طبقوں کی حصہ داری بہت کم ہے جو ان طبقوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اس طرح کی ناانصافی و حق تلفی برداشت نہیں کی جائے گی۔

 انہوں نے بتایا کہ بہار قانون ساز اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما تیجسوی پرساد یادو نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے نام لکھے گئے خط میں لفظ ”ہندو پسماندہ“ کا استعمال کر کے غلط فہمی پیدا کی تھی، جس سلسلے میں انہوں نے فوراً نشاندہی کرتے ہوئے اصلاح کا مشورہ دیا اور سخت اعتراض ظاہر کیا کہ جان بوجھ کر ذات پر مبنی مردم شماری معاملے کو مذہب سے جوڑا جارہا ہے اور صرف ہندو پسماندوں کی مردم شماری کی بات کہی جارہی ہے جو سراسر غلط ہے۔ ان کیا عتراض کے بعد سی پی ا?ئی ایم ایل کے سربراہ دیپانکر بھٹا چاریہ نے انہیں فون کر کیغلطی کا اعتراف کیا اور پھر ان کی پہل پر تیجسوی یادو نے اصلاح کر لی اور پھر وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے اپنے خط میں لفظ ”ہندو پسماندہ“ کو ہٹا دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کی حمایت میں متعددتنظیموں کے ساتھ مل کر آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ نے منظم تحریک شروع کر دی ہے جس کے تحت پورے بہار میں عوام کو بیدار کیا جارہا ہے، گذشتہ دنوں جہان آباد سے اس مہم کا آغاز کیا گیا۔ اس طرح ان کا تحریکی کارواں پورے بہار میں پہنچے گا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک قوم فاؤنڈیشن کے سربراہ اور مشہور شاعر خورشید اکبر نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری ہر حالت میں ہونی چاہیے جس سے پسماندوں اور تمام محروم ومظلوم طبقوں کو آبادی کے تناسب میں ملازمت و اقتدار سمیت تمام شعبوں میں حصہ داری مل سکے گی اور صحیح تصویر ابھر کر سامنے آئے گی کہ کس کی کتنی آبادی ہے اور کس کو کتنی حصہ داری ملنی چاہیے۔

 پریس کانفرنس سے بہار بیکورڈ کمیشن کے سابق رکن رفیق الرحمن شاکری نیخطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کوئی بھی ہو لیکن پسماندہ،انتہائی پسماندہ اور دیگر تمام محروم طبقوں کی تعلیمی، سماجی اور سیاسی و اقتصادی صورت حال بالکل یکساں ہیں اس لئے مذہب کو کسی بھی قیمت پر بنیاد نہیں بنانا چاہیے بلکہ تمام مذاہب میں ذاتیں موجود ہیں اور ان سبھی ذاتوں کی مردم شماری ہونی چاہیے۔ اس موقع پر باگدوڑ ونچت سماج مورچہ کے قومی صدر کیسوری داس اور دیگر کئی تنظیموں کے عہدیداران سمیت سرگرم سماجی کارکن ڈاکٹر انوار الہدیٰ بھی موجود تھے۔

Recommended