Urdu News

من کی بات کی 77ویں قسط میں وزیراعظم کے خطاب کا متن

وزیراعظم

 

 
 

نئی دہلی۔ 30 مئی          میرے پیارے ہم وطنوں ، نمسکار ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کس طرح اپنی پوری قوت کے ساتھ کووڈ – 19 سے لڑ رہا ہے ۔ یہ پچھلے 100 سال میں  اب تک کی سب سے بڑی وباء ہے اور اس عالمی وباء کے دوران بھارت کو  کئی قدرتی  آفات سے بھی   نمٹنا پڑا ہے ۔  اس دوران سمندری طوفان ‘ امفن ’ اور نسرگ   آیا ، کئی ریاستوں میں سیلاب  آئے اور کئی  چھوٹے بڑے  زلزلے بھی آئے اور مٹی کے تودے کھسکنے کے واقعات بھی پیش آئے ۔ ابھی حال ہی میں ، پچھلے 10 دنوں میں  ملک کو  دو  بڑے سمندری طوفانوں  – مغربی ساحل پر  سمندری طوفان تاوتے  اور مشرقی ساحل پر   سمندری طوفان یاس کا سامنا  کرنا پڑا ۔  ان دونوں طوفانوں سے  کئی ریاستیں متاثر ہوئی ہیں  ۔  ملک اور اس کے عوام نے  کم سے کم نقصان کو یقینی بنانے کے لئے ، ان کے ساتھ پوری قوت سے لڑائی لڑی  ۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ  پچھلے وقت کےمقابلے ، اب ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جان بچانے کے قابل ہوئے ہیں ۔  اس مشکل اور غیر معمولی قدرتی آفات  کے دوران  ، اِن  طوفانوں سے متاثر ہونے والی ریاستوں کے تمام لوگوں نے بہت جرات مندی کا مظاہرہ کیا ہے – –  انہوں نے انتہائی تحمل اور ڈسپلن کے ساتھ ، اِس بحران کا سامنا کیا ۔ میں  ، پورے خلوص کے ساتھ تمام شہریوں  کی  احترام کےساتھ ستائش کرتا ہوں ۔ جن لوگوں نے راحت اور بچاؤ کارروائیوں کی قیادت کی ، وہ  اتنی ستائش کے حقدار ہیں ، جسے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔  میں ، اُن سب کو سلام پیش کرتا ہوں ۔  مرکز  ، ریاستی حکومتوں اور  مقامی انتظامیہ کو ، اِس قدرتی آفات کا مل کر سامنا کرنا ہے ۔ میرے تمام جذبات ، اُن لوگوں کے ساتھ ہیں ، جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھویا ہے ۔  آیئے ، ہم اُن سب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں ، جنہیں ، اِن آفات  سےنقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔

میرے پیارے ہم وطنو  ،

چیلنج کتنا ہی بڑا ہو ، بھارت کی جیت  کا عزم بھی ہمیشہ  اتنا ہی بڑا رہا ہے ۔ ملک کی مجموعی قوت اور خدمت کے ہمارے جذبے نے ملک کو ہر طوفان سے باہر نکالا ہے ۔ حال کے دنوں میں ، ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے ہمارے ڈاکٹروں ، نرسوں اور صف اول کے جانبازوں  نے خود کی فکر چھوڑ کر دن رات کام کیا اور آج بھی کر رہے ہیں ۔ اس سب کے بیچ کئی لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کی  کورونا کی دوسری لہر سے لڑنے میں بہت بڑا رول رہا ہے ۔ مجھ سے من کی بات کے  کئی سامعین نے نمو ایپ پر اور خط کے ذریعے ، ان جانبازوں کے بارے میں بات کرنے  کا اصرار کیا ہے ۔


 

نئی دہلی۔ 30 مئی          میرے پیارے ہم وطنوں ، نمسکار ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک کس طرح اپنی پوری قوت کے ساتھ کووڈ – 19 سے لڑ رہا ہے ۔ یہ پچھلے 100 سال میں  اب تک کی سب سے بڑی وباء ہے اور اس عالمی وباء کے دوران بھارت کو  کئی قدرتی  آفات سے بھی   نمٹنا پڑا ہے ۔  اس دوران سمندری طوفان ‘ امفن ’ اور نسرگ   آیا ، کئی ریاستوں میں سیلاب  آئے اور کئی  چھوٹے بڑے  زلزلے بھی آئے اور مٹی کے تودے کھسکنے کے واقعات بھی پیش آئے ۔ ابھی حال ہی میں ، پچھلے 10 دنوں میں  ملک کو  دو  بڑے سمندری طوفانوں  – مغربی ساحل پر  سمندری طوفان تاوتے  اور مشرقی ساحل پر   سمندری طوفان یاس کا سامنا  کرنا پڑا ۔  ان دونوں طوفانوں سے  کئی ریاستیں متاثر ہوئی ہیں  ۔  ملک اور اس کے عوام نے  کم سے کم نقصان کو یقینی بنانے کے لئے ، ان کے ساتھ پوری قوت سے لڑائی لڑی  ۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ  پچھلے وقت کےمقابلے ، اب ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جان بچانے کے قابل ہوئے ہیں ۔  اس مشکل اور غیر معمولی قدرتی آفات  کے دوران  ، اِن  طوفانوں سے متاثر ہونے والی ریاستوں کے تمام لوگوں نے بہت جرات مندی کا مظاہرہ کیا ہے – –  انہوں نے انتہائی تحمل اور ڈسپلن کے ساتھ ، اِس بحران کا سامنا کیا ۔ میں  ، پورے خلوص کے ساتھ تمام شہریوں  کی  احترام کےساتھ ستائش کرتا ہوں ۔ جن لوگوں نے راحت اور بچاؤ کارروائیوں کی قیادت کی ، وہ  اتنی ستائش کے حقدار ہیں ، جسے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔  میں ، اُن سب کو سلام پیش کرتا ہوں ۔  مرکز  ، ریاستی حکومتوں اور  مقامی انتظامیہ کو ، اِس قدرتی آفات کا مل کر سامنا کرنا ہے ۔ میرے تمام جذبات ، اُن لوگوں کے ساتھ ہیں ، جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھویا ہے ۔  آیئے ، ہم اُن سب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں ، جنہیں ، اِن آفات  سےنقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔

میرے پیارے ہم وطنو  ،

چیلنج کتنا ہی بڑا ہو ، بھارت کی جیت  کا عزم بھی ہمیشہ  اتنا ہی بڑا رہا ہے ۔ ملک کی مجموعی قوت اور خدمت کے ہمارے جذبے نے ملک کو ہر طوفان سے باہر نکالا ہے ۔ حال کے دنوں میں ، ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے ہمارے ڈاکٹروں ، نرسوں اور صف اول کے جانبازوں  نے خود کی فکر چھوڑ کر دن رات کام کیا اور آج بھی کر رہے ہیں ۔ اس سب کے بیچ کئی لوگ ایسے بھی ہیں ، جن کی  کورونا کی دوسری لہر سے لڑنے میں بہت بڑا رول رہا ہے ۔ مجھ سے من کی بات کے  کئی سامعین نے نمو ایپ پر اور خط کے ذریعے ، ان جانبازوں کے بارے میں بات کرنے  کا اصرار کیا ہے ۔

Recommended