Urdu News

جماعت اسلامی ہند اور دیگر تنظیموں کے اعلیٰ سطحی وفدکا آسام دورہ اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات، آسام اقلیت اس دورے کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟

جماعت اسلامی ہند

کچھ لوگ سیاسی مفاد کے لئے قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں، یہی آسام میں ہوا ہے۔کسی بھی اراضی کے انخلا کے لیے قانونی پروسیس کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ قانون کی تشریح کے مطابق جن لوگوں کوبے گھر کیا جاتا ہے ان کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کرنا لازمی ہے مگر درانگ ضلع کے دھولپور گاؤں میں ایسا نہیں کیا گیا۔ وہاں انخلاء کے عمل کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر غیر انسانی رویہ اختیار کیا گیا“۔

یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے مرکز میں منعقدہ کانفرنس میں کہی۔یہ کانفرنس آسام میں نہتے شہریوں پر پولیس کا تشدد اور اموات کا جائزہ لینے گئے وفد کی واپسی پر بلائی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہندکے وفد نے جمعیت علماء ہند اور ایس آئی او (اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا) کے ساتھ متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد جو رپورٹ پیش کی ہے اس کے مطابق انخلاء کا عمل اس طرح نہیں ہوا جس طرح ہونا چاہئے۔ کسی جگہ طویل عرصے سے رہائش پذیر شہریوں کے انخلاء سے قبل ان کی رہائش سمیت معاش، تعلیم اور صحت کا متبادل انتظام کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔مگر یہاں معاملے کو جس طرح فرقہ وارانہ رنگ دے کر ایک مخصوص طبقے کو نشانے پر لیا گیا ہے وہ کسی بھی مہذب ریاست کے لیے بدنما داغ ہے“۔

 اس وفد میں جناب ایس امین الحسن، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا حکیم الدین قاسمی، جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند،  جناب شفیع مدنی، سکریٹری جماعت اسلامی ہند، جناب سلمان احمد صدر ایس آئی او اور دیگر قائدین شامل تھے۔ کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جناب ایس امین الحسن صاحب نے کہا کہ”وفد نے تمام متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، متاثرین سے ملاقات کی اور وہاں غیر انسانی و غیر اخلاقی صورت حال کا جو مشاہدہ کیا، اس سے آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما سے ملاقات کرکے ان کے سامنے رکھی اور اپنی تشویشات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ، شفافیت کے ساتھ جانچ کرائی جائے، خاطی افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثر ہونے والے خاندانوں کی آبادکاری کا فوری بندوبست کیا جائے،  جس کے گھر کی اموات ہوئی ہیں انہیں مناسب معاوضہ دیا جائے۔

ان کی باتیں سن کر چیف منسٹر نے متاثرین کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا۔وفد نے ڈی سی اور ایس پی سے بھی ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنے تاثرات رکھے جس پر انہوں نے بھی متاثرین کو انصاف دلانے میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا یقین دلایا۔ وفد میں شریک جناب شفیع مدنی صاحب نے کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھولپور  کے تقریبا  900 خاندانوں کا حکومت کی جانب سے انخلاء عمل میں آیا ہے،انہیں خالی کرانے کا یہ عمل 25 ہزار ایکڑ زمین پر آرگنائز فارمنگ کے پروجیکٹ کو روبعمل لانے کے لیے انجام دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء ہند نے فوری طور پر کچھ مالی مدد کا اعلان کیا تو جماعت اسلامی ہند نے متاثرین کی امداد کے لئے بنیادی ضرورتوں اور طبی سہولیات کا انتظام کیا ہے اور آنے والے وقتوں میں ان کے لئے مزید انتظامات کئے جائیں گے۔ ایس آئی او نے ایک شہید کے بچوں کی مکمل تعلیم اپنے ذمے لی ہے۔انہوں نے کہا کہ  جماعت اسلامی ہند اپنے مقامی کیڈرز کے ساتھ مربوط رہ کر متاثرین کی امداد اور ان کے جائز حقوق کی بازیابی کے لیے مسلسل کوشاں رہے گی۔

Recommended