نامیاتی کاشتکاری پر قومی منصوبہ بندی

https://urdu.indianarrative.com/Jackfruits.jpg

نامیاتی کاشتکاری پر قومی منصوبہ بندی

 

 

نامیاتی کاشتکاری پر قومی منصوبہ بندی (این پی او ایف) کی کیپٹل انویسٹمنٹ سبسڈی اسکیم (سی آئی ایس ایس) کے تحت، ریاستی حکومت/ سرکاری ایجنسیوں کو میکانی فروٹ / سبزی منڈی میں زرعی فضلہ کھاد بنانے والی یونٹ تشکیل دینے کے لیے 100 فیصد امداد فراہم کی جاتی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد 190.00 لاکھ فی یونٹ (کل 3000 سالانہ صلاحیت) ہے۔ اسی طرح افراد/ نجی ایجنسیوں کے لیے لاگت کی حد کا 33 فیصد تک 63 لاکھ / یونٹ تک کی سرمایہ کاری فراہم کی جاتی ہے۔ سی آئی ایس ایس کے تحت اب تک 12 پھل اور سبزی کھاد یونٹ قائم کیے جا چکے ہیں جن میں 4 یونٹ ریاست تمل ناڈو میں ہیں اور اس مقصد کے لیے ریاست کو 148.332 لاکھ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

 

سی آئی ایس ایس کے تحت 2012-13 سے اب تک پروڈکشن یونٹوں کے مکمل پروجیکٹس (NABARD کے مطابق) مندرجہ ذیل ہیں۔

نمبر شمار

ریاستیں

پھل سبزی فضلہ کھاد یونٹ

یونٹ/مکمل منصوبوں کی تعداد

جاری کردہ فنڈ (لاکھ میں

1

آندھر پردیش

02

48.0

2

ہریانہ

01

33.00

3

کرناٹک

03

139.234

4

مدھیہ پردیش

01

19.191

5

منی پور

01

17.53

6

تمل ناڈو

04

148.332

 

کل

12

405.287

   

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

    

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔