دوسری جنگ عظیم کا ایک سپاہی دیہی اعزاز سے سر فراز

https://urdu.indianarrative.com/Second_World_War_soldier.jpg

دوسری جنگ عظیم کے سپاہی بوئت رام ڈوڈی

راجستھان کے ضلع جھنجھنو کے بھوڑکی گاؤں کے بزرگ شہری اور دوسری جنگ عظیم کے سپاہی بوئت رام   ڈوڈی 98سال کو گاؤں والوں کی جانب سے ’گرام گورو سمان‘سے نوازا۔

فوج کے ریکارڈ کے مطابق بوئت رام  ڈوڈی جولائی 1923 کو پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1942 میں فوج کے راجریف یونٹ میں شمولیت اختیار کی۔دوسری جنگ عظیم میں، لیبیا، جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک کے محاذوں پر  جاری جنگ میں حصہ لیا۔ انہوں نے لیبیا میں لڑائی کے فرنٹ لائن پر نیتا جی سبھاش چندر بوس سے بھی ملاقات کی۔ پہلی جنگ عظیم میں انہیں پیٹ میں گولی بھی لگی تھی۔ انہوں نے جنگ کے بعد بہادری کے  4 تمغے حاصل کیے۔ وہ 1957 میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔ وہ پچھلے 64 سالوں سے پنشن لے  رہے ہیں۔

 بوئت رام ڈوڈی  فوجیوں کے ضلع   جھنجھنومیں طویل ترین پنشنرز میں سے ایک ہیں۔ 1957 میں جب انہیں پنشن ملی تو وہ 16 روپے ماہانہ پنشن لیتے تھے جو اب بڑھ کر 35 ہزار ماہانہ ہو گیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اس یونٹ کے بیشتر فوجی  محاذ پر ہی شہید ہوگئے۔ لڑائی کے بعد واپس وطن لوٹنے والوں میں شامل  بوئت رام  ڈوڈی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے بھی ملاقات کی۔ انہیں گاؤں کے  سر پنچ نیمی  چندجانگیڑ   سمیت گاؤں والوں نے شال پہنا کر اور یادگار دے کر اعزاز سے نوازا۔   سب سے بزرگ شہری کے ہاتھوں اسٹیڈیم میں آم کا پودا لگوا کر شجر کاری بھی کی گئی۔