Urdu News

بھارت میں خواتین کی آزادی، وقار، اختیارکاری اور آئینی برابری کو لے کر ’’طالبانی سوچ‘‘کو برداشت نہیں کیا جائے گا

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی

 نئی دہلی، 18 دسمبر 2021:

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ بھارت میں خواتین کی آزادی، وقار، اختیارکاری اور آئینی برابری کو لے کر ’’طالبانی سوچ‘‘ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ موصوف آج نئی دہلی میں نیشنل کمیشن فار مائناریٹیز، این سی ایم، کے ذریعہ منعقدہ ’’مائناریٹیز ڈے سیلبریشن‘‘ پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔

جناب نقوی نے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے طلاق ثلاثہ کی سماجی برائی کو جرم قرار دینے کی مخالفت کی یا مسلم خواتین کے ذریعہ صرف محرم کے ساتھ حج کرنے کی پابندی کو ہٹانے پر سوال کھڑے کیے اور اب خواتین کی شادی کی عمر کے تعلق سے آئینی برابری کو لے کر ہنگامہ کھڑا کر رہے ہیں، یہ لوگ بھارتی آئین کی روح کے ’’پیشہ ور مظاہرین‘‘ ہیں۔

جناب نقوی نے کہا کہ  حکومت نے ’’وقار کے ساتھ ترقی کے عزم‘‘ کے ذریعہ ’’بہلا کر خوش کرنے‘‘ کی سوچ کو ختم کر دیا ہے۔ بھارتیوں خصوصاً اکثریتی برادری کی آئینی اور سماجی عہدبستگی نے اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں اقلیتی برادریوں کے سماجی ۔اقتصادی۔تعلیمی، مذہبی اور دیگر حقوق بالکل محفوظ و سلامت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف، دنیا کے تقریباً تمام مذاہب کو ماننےوالے بھارت میں رہتے ہیں؛ وہیں دوسری جانب ملحد افراد کی ایک بڑی تعداد بھی وقار، آئینی برابری اور سماجی حقوق کے ساتھ ملک میں رہتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گذشتہ سات برسوں کے دوران ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘‘ کی اپنی عہدبستگی کے ساتھ کام کیا ہے، جس نے اقلیتی برادریوں سمیت سماج کے تمام طبقات کی مبنی بر شمولیت ترقی اور غیر معمولی اصلاحات کو یقینی بنایا ہے۔

Recommended