Urdu News

عالمگیر بھائی چارہ، ہندوتوا اور ہندوستان کا بنیادی فلسفہ: ڈاکٹر کرشن گوپال

عالمگیر بھائی چارہ، ہندوتوا اور ہندوستان کا بنیادی فلسفہ: ڈاکٹر کرشن گوپال

حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ہمت کی ضرورت، ورنہ اندھیرے میں رہیں گے: اندریش کمار،انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ناگ پور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ایس این پٹھان کی کتاب ”ہندوتوارتھات بھارتیہ اکاتمتا۔مسلم ودیش نہیں“ کی رسم اجرا

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے’سہ سرکاریہ واہک‘ ڈاکٹر کرشن گوپال نے کہا کہ ہندوتو عالمی اتحاد کی علامت ہے۔ یہ ہندوستان کا بنیادی فلسفہ اور حیات زندگی ہے۔ ”واسودھائیو کٹمبکم“ اس کا نصب العین ہے، جس میں خودمختاری کا احساس ہے، لیکن یہ عالمگیریت نہیں ہے۔کیونکہ اس کی فطرت منافع کی ہے۔وہ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ”ہندتو ارتھات بھارتیہ اکاتمتا- مسلم ودیش نہیں“ کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ اس کتاب کو راشٹر سنت تکڈوجی مہاراج ناگپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ایس این پٹھان نے لکھی ہے۔

ڈاکٹر کرشن گوپال نے کہا کہ ہندوستان کے کسی روایات یا بزرگ شخصیت نے صرف اپنے سماج اور شاگردوں کی بھلائی کی بات نہیں کی بلکہ پوری دنیا کے لوگوں میں اپنا خاندان سمجھا۔ اس خیال سے ہم پوری دنیا کو متحد کر سکتے ہیں، ورنہ جھگڑے اور تنازعے ہوتے رہیں گے۔ بھارت سب کے اندار ایک خدائی عنصر کودیکھتا ہے۔ جو میرے اندر ہے وہی تمہارے اندر، ہم سب ایک ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندو کا لفظ بھی نہیں تھا۔ پوری دنیا نے مخلوقات کی فلاح و بہبود کی خواہش کا یہ احساس صرف کورونا وبا کے دوران  دیکھا۔ ضرورت مندوں کیلئے خوراک ہی نہیں جانوروں اور پرندوں کے خوراک کی بھی فکر کی گئی۔

ہزاروں سالوں سے دنیا اس کی گواہ ہے۔ جس نے بھی یہاں پناہ مانگی، اس کو اپنایا گیا۔ ان کے طریقہ عبادت، کتابوں، رسومات، مذہبی مقامات کو احترام کے ساتھ جگہ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ مذہبی اور سیاسی نظریات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن وہ اس تخلیق سے ہیں اس لیے ہمارے ہیں۔ ہندوتوا کو صرف اس بڑے شکل میں دیکھنے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسے چھوٹی شکل میں دیکھیں گے اور تنوع کو برداشت نہیں کیا جائے گا تو تنازعہ پیدا ہوگا۔

اس موقع پر سنگھ کے سینئر پرچارک اور مسلم راشٹریہ منچ کے بانی اندریش کمار نے حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ راون ایک عظیم دانشور تھا، لیکن اس کے غلط کاموں کی وجہ سے اسے شیطان کہا گیا۔ کنس متھرا کا راجہ تھا لیکن وہاں کے لوگ اس کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ اسی ہمت کی ضرورت ہے۔ ملک میں مسلم حکمرانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی گھر پر قبضہ کرے، اسے گرا دے۔ یہ کہاں کی جمہوریت ہے لیکن چاہے وہ اپنے مذہب کا ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اپنا گھر حاصل کرنے کے لیے لڑیں گے۔ نسل در نسل لڑیں گے۔ اس حقیقت کو کب سمجھو گے؟ کب تک عوام کو اندھیرے میں رکھو گے؟ کبھی نہ کبھی سچ آجائے گا۔ ہم سب کا ڈی این اے ایک تھا، ہے اور ایک ہی رہے گا۔ ہمارے آباؤ اجداد کا تعلق ہندوستان سے تھا، ہم یہ بات جتنی جلدی سمجھ جائیں گے۔ یہ ہم سب کے لیے بہتر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حل تلاش کرنے کے لیے صحت مندانہ بحث ہونی چاہیے۔ تب ہی امن آئے گا اور ترقی ہوگی۔تقریب کے اختتام پر معروف چارٹیڈ اکانٹینٹ(سی اے) اور سماجی کارکن فرید احمد خان نے مسلم راشٹریہ منچ کے بانی اندریش کمار سے ملاقات کی۔اور عوام کیلئے ان کی ذریعہ کئے جارہے فلاحی کاموں کے بارے میں بتایاکہ وہ کس طرح لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔فرید احمدخان نے کہا کہ ہم مسلمانوں اور تمام کمزور طبقات کو مضبوط بنانے کے لئے کام کررہے ہیں تاکہ ان کی پسماندگی کودور کیا جائے۔اندریش کمار نے ان کی باتوں کو غور سے سنا اور ان کے کاموں کی تعریف اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے مزید مشوروں سے بھی نوازا۔ اس موقع پرمسلم راشٹریہ منچ کے عہدیداران، ماہرین تعلیم، ادباء، سیاست دان، خواتین و طالبات اور دیگر افراد موجود تھے۔

Recommended