Urdu News

ایڈوکیٹ ناصر عزیز کی یادوں میں بسا تاریخی شہر امروہہ

یہ مقفل دروازہ کھنڈہر کی پشت پر جو ان تصویروں میں آپ کو نظر آ رہا ہے میرے بچپن کے قیمتی لمحات اپنی والدہ کے ساتھ یہاں میں نے گزارے ہیں

 یادوں کے کتنے پھول اچانک مہک اٹھے

سوکھا سا‌ایک پھول جو نکلا کتاب میں 
آج کل امروہہ میں قیام ہے ہولی کی چھٹیاں ہیں ۔ کافی دنوں بعد یہاں آنا ہوا ہے ۔  دن بڑے مزے سے گزر رہے ہیں۔  امروہا میں  جہاں سے گزرتا ہوں یا دوں کی بارات  ساتھ چلتی ہے
ہر گلی کونہ نکڑ  سڑک مکان  دو کان، کیا کیا یاد  دلاتا ہے۔ 
یہ مقفل دروازہ  کھنڈہر کیپشت پر جو ان تصویروں میں آپ کو نظر آ رہا ہے میرے بچپن کے قیمتی لمحات اپنی والدہ کے ساتھ یہاں میں نے گزارے ہیں ۔ یہ میری خالہ کا مکان  تھا اور والد کے انتقال کے بعد میری والدہ نے اسی کو مسکن کر لیا تھا۔ یہ بڑا وسیع و عریض مکان تھا۔ کوٹھری ، دالان اور صحن کے علاوہ بہت بڑا آنگن تھا کچی مٹی کا۔ گھر کے اندر ہی میری والدہ نے نیم ا، امرود اور بیری کے پیڑ لگاۓ تھے۔ خرگوش بھی پال رکھے تھے ۔ مجھے خوب یاد ہے  کہ خرگوش آنگن میں سرنگ بنا لیتے تھے اور سرنگ میں دوڑ لگاتے تھے۔اور ہم ان کے پیچھے دوڑتے تھے۔
میرے بچپن کے قریب ترین دوستوں میں افضال ، مہتاب، شاہنواز، اچھن، سرور  اور انور  عباس تھے۔ مہتاب ہمیں چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملا۔ شاہنواز بر طانیہ میں رہتا ہے اور‌افضال، انور اور اچھن دہلی میں سکونت پذیر ہیں جبکہ سرور نوئیڈا میں مقیم ہے۔
اس گھر سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں، کچھ کھٹی کچھ میٹھی۔ لیکن یہ واقعہ کہ اس گھر میں رہ کر میری والدہ نے جو بطور مقرر میری تربیت کا سامان‌مہیا کیا اس نے میری شخصیت سازی میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ والدہ مرحومہ باقاعدہ گھر میں‌موجود تخت کا اسٹیج بناتی تھیں، پھر میرے دوستوں کے گھر پیغام‌بھیجا جاتا تھا اور وقت مقررہ پر میں یا تو کسی کتاب سے پڑھنت کرتا تھا یا کچھ تقریر کرتا تھا ۔ ایکبار تو میں نے نیم کے پیڑ پر چڑھ کر تقریر کی تھی ۔ طری یہ کہ میں اس وقت تتلا کے بولتا تھا لیکن میرا مضحکہ اس لیے نہیں اڑتا تھا کیونکہ زیادہ تر دوست خود تتلاتے تھے۔
بہر حال والدہ کی اس کاوش کا بڑا خاطر خواہ اثر ہوا ، آگے چل کر میں نے اسکول کالج میں تقریری مقابلوں میں انعامات حاصل کیے اور میں بڑے سے بڑے مجمعے کے سامنے بولنے سے نہیں جھجکا۔ مزہ تو تب آیا جب سابق وزیر اعظم آنجہانی باچپئی صاحب سے مختصر ملاقات کے دوران‌میں نے ان سے اجازت لے کر شہیدوں پر لکھی اپنی نظم ان کی موجودگی میں سنا ڈالی۔ وفد کے اراکین میری بیباکی پر بڑے حیران و ششدر رہ گیے لیکن‌میں جانتا ہوں کہ یہ سب میری والدہ اور خالہ جنہیں میں بڑی امی ہی کہتا تھا ، ان کی کاوشوں اور دعاؤں کے طفیل ہے۔ 
بات کہاں پہنچ گئی ، اس مکان کا ذکر کر رہا تھا لیکن یادوں  کا بہاؤ بڑا تیز ہوتا ہے۔ آج اس گھر کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا ۔  اللہ اسے پھر آباد کرے۔ اب یہ مکان بکنے کو تیار ہے ۔ 
اس کے علا وہ دو تصویریں جو پوسٹ کی ہیں ، اس‌میں برادر مرحوم اسرار احمد اپنے تینوں بیٹوں اور ایک بھانجے کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔ دوسری تصویر میں ان کی پوتی آمنہ نظز آرہی ہے۔ اسرار بھائی میرے محسن‌خاص رہے ۔
اللہ غریق رحمت کرے۔ آمین۔
یاد کا سلسلہ نہیں تھمتا
ایک سیلاب سا امنڈتا ہے۔

Recommended