Urdu News

قطر میں مقیم ممتاز شاعر و مدیرعزیز نبیل کیوں ہیں بہت خاص؟

ممتاز شاعر و مدیر عزیز نبیل

نوجوان شعراء میں مقبول، قطر میں مقیم اور مشہور و معروف شاعر” عزیز نبیلؔ صاحب “ کا یومِ ولادت

نام عزیز الرحمن اور تخلص نبیلؔ ہے وہ ٢٦؍جون ١٩٧٦ء کو ممبئی میں پیدا ہوئے۔ فی الحال وہ قطر میں ملازمت کر رہے ہیں۔ "خواب سمندر" اور "آواز کے پر کھلتے ہیں" اب تک دو کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ مجلہ "دستاویز" کے ایڈیٹر ہیں۔

پیش کش : اعجاز زیڈ ایچ

 معروف شاعر عزیز نبیلؔ صاحب کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطورِ خراجِ تحسین

ﺯﻣﯿﮟﮐﯽﺁﻧﮑﮫﮐﺎﻧﻘﺸﮧﺑﻨﺎﺩﯾﺎﮔﯿﺎﮨﮯ

ﺍﻭﺭﺍﯾﮏﺗﯿﺮﻓﻀﺎﻣﯿﮟﭼﻼﺩﯾﺎﮔﯿﺎﮨﮯ

ﯾﮧﮐﺲﻣﻘﺎﻡﭘﮧﻻﯾﺎﮔﯿﺎﺧﺪﺍﯾﺎﻣﺠﮭﮯ

ﮐﮧﺁﺝﺭﻭﻧﺪﮐﮯﮔﺰﺭﺍﮨﮯﻣﯿﺮﺍﺳﺎﯾﮧﻣﺠﮭﮯ

ﻣﺮﺍﺳﻮﺍﻝﮨﮯﺍﮮﻗﺎﺗﻼﻥِ ﺷﺐﺗﻢﺳﮯ

ﮐﮧﯾﮧﺯﻣﯿﻦﻣﻨﻮﺭﮨﻮﺋﯽﮨﮯﮐﺐﺗﻢﺳﮯ

ﯾﮧﮐﺲﻭﺣﺸﺖﺯﺩﮦﻟﻤﺤﮯﻣﯿﮟﺩﺍﺧﻞﮨﻮﮔﺌﮯﮨﯿﮟ

ﮨﻢﺍﭘﻨﮯﺁﭖﮐﮯﻣﺪﻣﻘﺎﺑﻞﮨﻮﮔﺌﮯﮨﯿﮟ

ﺍﺱﺑﺎﺭﮨﻮﺍﺅﮞﻧﮯﺟﻮﺑﯿﺪﺍﺩﮔﺮﯼﮐﯽ

ﭘﮭﺮﻣﯿﺮﮮﭼﺮﺍﻏﻮﮞﻧﮯﺑﮭﯽﺷﻮﺭﯾﺪﮦﺳﺮﯼﮐﯽ

ﺷﺎﻋﺮﯼ، ﻋﺸﻖ، ﻏﻢﺭﺯﻕ، ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ، ﮔﮭﺮﺑﺎﺭ

ﮐﺌﯽﺳﻤﺘﻮﮞﻣﯿﮟﺑﮧﯾﮏﻭﻗﺖﮔﺰﺭﮨﮯﻣﯿﺮﺍ

ﺁﺋﯿﮟﮔﮯﻧﻈﺮﺻﺒﺢﮐﮯﺁﺛﺎﺭﻣﯿﮟﮨﻢﻟﻮﮒ

ﺑﯿﭩﮭﮯﮨﯿﮟﺍﺑﮭﯽﭘﺮﺩۂ ﺍﺳﺮﺍﺭﻣﯿﮟﮨﻢﻟﻮﮒ

ﺧﺎﮎﭼﮩﺮﮮﭘﮧﻣﻞﺭﮨﺎﮨﻮﮞﻣﯿﮟ

ﺁﺳﻤﺎﮞﺳﮯﻧﮑﻞﺭﮨﺎﮨﻮﮞﻣﯿﮟ

ﺧﻮﺩﺍﭘﻨﮯﮨﻮﻧﮯﮐﺎﺍﻧﮑﺎﺭﮐﺮﭼﮑﮯﮨﯿﮟﮨﻢ

ﮨﻤﺎﺭﯼﺯﻧﺪﮔﯽﺍﺏﺩﻭﺳﺮﮮﮔﺰﺍﺭﺗﮯﮨﯿﮟ

وقت ﮐﯽﺁﻧﮑﮫﻣﯿﮟﺻﺪﯾﻮﮞﮐﯽﺗﮭﮑﻦﮨﮯ، ﻣﯿﮟﮨﻮﮞ

ﺩﮬﻮﻝﮨﻮﺗﮯﮨﻮﺋﮯﺭﺳﺘﻮﮞﮐﺎﺑﺪﻥﮨﮯ، ﻣﯿﮟﮨﻮﮞ

ﻭﮦﺩﮐﮫﻧﺼﯿﺐﮨﻮﺋﮯﺧﻮﺩﮐﻔﯿﻞﮨﻮﻧﮯﻣﯿﮟ

ﮐﮧﻋﻤﺮﮐﭧﮔﺌﯽﺧﻮﺩﮐﯽﺩﻟﯿﻞﮨﻮﻧﮯﻣﯿﮟ

ﻣﯿﮟﭼﺎﻧﺪﮨﺘﮭﯿﻠﯽﭘﮧﻟﯿﮯﺟﮭﻮﻡﺭﮨﺎﺗﮭﺎ

ﺍﻭﺭﭨﻮﭨﺘﮯﺗﺎﺭﻭﮞﮐﯽﮨﺮﺍﮎﺳﻤﺖﺟﮭﮍﯼﺗﮭﯽ

سانس لیتا ہوا ہر رنگ نظر آئے گا

تم کسی روز مرے رنگ رنگ میں آؤ تو سہی

بہکا تو بہت بہکا، سنبھلا تو ولی ٹھہرا

اُس چاک گریباں کا، ہر رنگ نرالا تھا

عادتاً میں کسی احساس کے پیچھے لپکا

دفعتاً ایک غ دشےِ سخن سے نکل

جب جال مچھیرے نے سمیٹا ہے، علی الصّبح

ٹوٹا ہوا اک چاند بھی تالاب سے نکلا

نہ جانے کس کے قدم چومنے کی حسرت میں

تمام راستے دل کی طرح دھڑک رہے تھے

عادتاً سلجھا رہا تھا گتھّیاں کل رات مَیں

دل پریشاں تھا بہت اور مسئلہ کوئی نہ تھا

میں اپنی ذات کا سفر تمام کرکے رک گیا

پھر اس کے بعد راستوں سے میری گفتگو ہوئی

اب ہمیں چاک پہ رکھ یا خس و خاشاک سمجھ

کوزہ گر ہم تری آواز پہ آئے ہوئے ہیں

یہ دریا کچھ زیادہ ہنس رہا ہے

اِسے صحرا کی جانب موڑدوں کیا

اعتبارِ دوستی کا رنگ ہوں

بے یقینی میں اتر جاوں گا مَیں

تم نے آواز کو زنجیر سے کسنا چاہا

دیکھ لو ہوگئے اب ہاتھ تمہارے زخمی

اک تعارف تو ضروری ہے ، سر ِ راہ ِ جنوں

دشت والے نئے برباد کو کب جانتے ہیں

مجھ کو اغوا کرلیا ہے میرے خوابوں نے نبیل

اور مری آنکھیں انہیں مطلوب ہیں تاوان میں

سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو

سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم

ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیل

اک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

قلم ہے ہاتھ میں کردار بھی مرے بس میں

اگر میں چاہوں کہانی بدل بھی سکتا ہوں

تمام شہر کو تاریکیوں سے شکوہ ہے

مگر چراغ کی بیعت سے خوف آتا ہے

قید کرکے گھر کے اندر اپنی تنہائی کو مَیں

مسکراتا گنگناتا گھر سے باہر آگیا

روز دستک سی کوئی دیتا ہے سینے پہ نبیلؔ

رعز مجھ میں کسی آواز کے پر کھلتے ہیں

ﻏﺰﻝﮐﮩﻨﺎﺑﮭﯽﺍﺏﺍﮎﮐﺎﺭﺑﮯﻣﺼﺮﻑﺳﺎﻟﮕﺘﺎﮨﮯ

ﻧﯿﺎﮐﭽﮫﺑﮭﯽﻧﮩﯿﮟﮨﻮﺗﺎﺑﺲﺍﮎﺗﮑﺮﺍﺭﭼﻠﺘﯽﮨﮯ

ﻧﺒﯿﻞؔ ﺍﺱﻋﺸﻖﻣﯿﮟﺗﻢﺟﯿﺖﺑﮭﯽﺟﺎﺅﺗﻮﮐﯿﺎﮨﻮﮔﺎ

ﯾﮧﺍﯾﺴﯽﺟﯿﺖﮨﮯﭘﮩﻠﻮﻣﯿﮟﺟﺲﮐﮯﮨﺎﺭﭼﻠﺘﯽﮨﮯ

ﺍﮎﺁﺭﺯﻭﮐﮯﺗﻌﺎﻗﺐﻣﯿﮟﯾﻮﮞﮨﻮﺍﮨﮯﻧﺒﯿﻞ

ﮨﻮﺍﻧﮯﺭﯾﺖﮐﯽﭘﻠﮑﻮﮞﭘﮧﻻﺑﭩﮭﺎﯾﺎﻣﺠﮭﮯ

عزیز نبیلؔ

Recommended