Urdu News

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا: آہ گوپی چند نارنگ

ڈاکٹر صالحہ صدیقی

ڈاکٹر صالحہ صدیقی(الٰہ آباد)

عہد حاضر کا صف اول کا اردو نقاد، محقق اور ادیب گوپی چند نارنگ 91 برس کی عمر میں اس دار فانی سے15 جون 2022کوکوچ کر گئے۔ہندوستان کے ممتاز اردو نقاد اور ماہر تعلیم پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کل امریکہ میں اپنی آخری سانس لی۔اب اردو دنیا میں سناٹا ہے۔ ایک اہم ستون گر چکا ہے۔ اہل اردو اس ناقابل تلافی نقصان پر اظہار افسوس کررہے ہیں۔ گوپی چند نارنگ کی سوانحی کوائف پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ 11 فروری 1931 کو بلوچستان کے ضلع دُکی میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے آبا واجداد کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ سے تھا۔ان کے والد دھرم چند نارنگ مظفر گڑھ میں سرکاری ملازم تھے۔ وہ فارسی اور سنسکرت کے اچھے اسکالر اور قلم کار تھے۔

جہاں تک بات ان کے علمی سفر کی ہے توگوپی چند نارنگ اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنی والدہ کے ساتھ 1947 میں دہلی آگئے تھے۔ جب کہ ان کے والد ملازمت سے سبکدوشی کے بعد 1956 میں دہلی آئے۔گوپی چند نارنگ نے دہلی کالج سے اردو میں ایم اے کیا پھر وہیں سے پی ایچ ڈی کی۔ اس کے بعد انہوں نے 1957 میں دہلی کے سینٹ اسٹیفنز کالج سے درس و تدریس کا آغاز کیا۔ اُنہوں نے 1959 میں دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لیکچررشپ شروع کی۔وہ 1961 سے 1974 تک شعبہ اردو کے ریڈر کے عہدے پر فائز رہے۔ اسی دوران 1963 سے 1965 تک وسکونسن یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ 1969 میں منی سوٹا یونیورسٹی منی ایپلس اور 1968 سے 1970 کے دوران پھر وسکونسن یونیورسٹی کے وزٹنگ پروفیسر رہے۔وہ 1974 سے 1981 تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اُردو میں پروفیسر جب کہ 1984 اور 85 میں اُردو فاصلاتی کورس کے ڈائریکٹر بھی رہے۔اس کے علاوہ وہ 1981 اور 1982 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قائم مقام وائس چانسلر بھی رہے۔ اس کے بعد 1986 میں دہلی یونیورسٹی میں شعبہئ اردو میں پروفیسر ہو گئے۔ 1987 سے 1990 کے درمیان نیشنل فیلو یو جی سی اور 1997 میں ناروے کی اوسلو یونیورسٹی اور راک فیلر یونیورسٹی اٹلی کے وزٹنگ فیلو کے عہدے پر فائز رہے۔دہلی یونیورسٹی سے سبکدوشی کے بعد 1996 سے 1999 تک اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چیئرمین رہے۔ انہیں 2002 میں دو سال کے لیے اندرا گاندھی فیلو شپ بھی ملی۔ وہ 1996 سے 1999 تک غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی کے نائب صدر اور 1998 سے 2000 تک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے چیئرمین بھی رہے۔انہیں فروری 2002 میں ساہتیہ اکادمی کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس طرح ساہتیہ اکیڈمی کی تاریخ میں پہلی بار کوئی اردو ادیب و نقاد اس کا صدر ہوا۔جو اردو زبان کے لئے بھی فخر و ناز کی باتھ تھی۔ ساہتیہ اکیڈمی کا کام 24 زبانوں کی ترویج و اشاعت کا سلسلہ ہے۔گوپی چند نارنگ 20 فروری 2008 تک ساہتیہ اکیڈمی کے صدر کے منصب پر قائم رہے۔ انھوں نے بڑھ چڑھ کر اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے کام کیا،بے شمار کتابیں اکادمی کی جانب سے منظر عام پر آئیں،اردو لائبریری کا قیام کیا۔اپنے منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے جتنے اردو سمیناروں کا انعقاد کروایا وہ اپنے آپ میں ایک تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس منصب پر رہتے ہوئے متعدد اردو ادیبوں اور شاعروں کو ساہتیہ اکیڈمی کے ایوارڈز دلوائے اور یہ سلسلہ ابھی تک قائم و دائم رہا،آخری فیصلہ ہمیشہ انھیں کا ہوتا تھا،چاہے وہ چھوٹا ایوارڈ ہو یا بڑا،حالانکہ اس منصب پر رہتے ہوئے کئی بار ان کے فیصلوں پر ناراضگی بھی رہی،لیکن کسی نے کبھی بھی کھل کر اعتراض نہیں کیا نہ کوئی سوال اٹھایا،انھوں نے جو بھی کہا پتھر کی لکیر ثابت ہوئی۔

ہمیشہ گوپی چند نارنگ کی علمی و ادبی حلقوں میں ان کی علمیت کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اردو کی نشستوں اور مذاکروں میں شرکت کرنے کے لیے وہ ساری دنیا کا سفر کرتے رہتے تھے اس لیے انھیں ”سفیر اردو“کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گوپی چند نارنگ عالمگیر شہرت یافتہ ہندوستانی ادیب،محقق،نقاد اور دیگر تخلیقی ذہنیت کے مالک ہمہ جہت ہمہ صفت تخلیق کار تھے۔ جن کی تحریروں میں بر صغیر ہند و پاک کی تہذیبی روایات کی بازیافت دیکھی جا سکتی ہے۔انھوں نے خود شعر و ادب کے تفہیمی منازل کا سفر طے کیا پھر اپنے قارئین کو اس عمل میں شامل کیا۔وقت کے ساتھ ان کے اظہار کی نوعتیں بدلتی رہے اور خیال کی پرواز اور بلند ہوتی رہی۔گوپی چند کی ادبی فتوحات کا سلسلہ بہت طویل رہا ہے۔ ان کی تصنیفات کی دیگر زبانوں میں بھی ترجمے کیے گئے۔ انہوں نے اردو تنقید میں ساختیات اور اُسلوبیات کی بحثوں کی ابتدا ئکی۔ اردو کے چاروں بڑے شاعروں میرؔ، غالبؔ، انیسؔ اور اقبالؔ پر بے مثل کتابیں لکھیں۔مرحوم کی لسانیات اور فکشن پر بھی گہری نظر تھی۔ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے گوپی چند کو بھارتی حکومت نے 2004 میں پدما بھوشن ایوارڈ اور حکومت پاکستان نے 2012 میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔اس علاوہ انھیں متعدد ملکوں میں بڑے انعامات و اعزازات سے نوازا گیا جن میں شامل ہیں:میزینی گولڈ میڈل (اٹلی)، امیر خسرو ایوارڈ (شکاگو)، کینیڈین اکیڈمی آف اردو لینگویج اینڈ لٹریچر ایوارڈ (ٹورنٹو)، یورپی اردو رائٹرز سوسائٹی ایوارڈ (لندن)، اردو مرکز انٹرنیشنل ایوارڈ (لاس اینجلس)، عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ (دوحہ قطر)، پدم بھوشن (2004)، پدم شری (1991)، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، غالب ایوارڈ، اقبال اعزاز، بہادر شاہ ظفر ایوارڈ، گریٹر ممبر ساہتیہ اکادمی وغیرہ۔ان بڑے اعزازات و انعامات کے علاوہ دنیا بھر کے ملکوں میں مختلف تنظیموں اور اداروں سے سینکڑوں اعزازات و انعامات ان کی جھولی میں آئے،جن کی فہرست نامکمل ہے۔

گوپی چند نارنگ کے تخلیقی سفرکا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا۔ ان کا پہلا افسانہ کوئٹہ شہر کے ہفتہ وار اخبار ’بلوچستان سماچار‘ میں اس وقت شائع ہو ا تھا جب وہ اسکول میں زیر تعلیم تھے۔جب 1947 میں وہ دہلی آئے تو یہاں پر بھی ان کے متعدد افسانے ’بیسویں صدی‘ اور ’ریاست‘ جیسے رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ 1953 کے بعد گوپی چند نارنگ نے افسانہ نگاری ترک کرکے تحقیق و تنقید کے میدان میں قدم رکھا۔ان کا اوّلین مضمون ’اکبر الٰہ آبادی سخن فہموں اور طرفداروں کے درمیان‘ رسالہ ’نگار‘ میں جون 1953 میں شائع ہوا۔ان کی پہلی تصنیف ’ہندوستانی قصّوں سے ماخوذ اردو مثنویاں‘ ہے جو پہلی بار 1959 اور دوسری بار 1961 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب پر ان کو 1962 میں ’غالب ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔گوپی چند نارنگ کی 2014 میں ’غالب: معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘نامی تحقیقی اور تنقیدی کتاب شائع ہوئی۔ اسے غالب شناسی کے حوالے سے بہت اہم کتاب سمجھا جاتاہے۔ ان کی کتاب ’سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ‘ کو بھی کافی شہرت حاصل ہوئی۔پروفیسر گوپی چند نارنگ چونسٹھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کتابوں میں پینسالیس اردو میں، بارہ انگریزی میں اور سات ہندی میں لکھی گئی ہیں۔ چند کے نام یہ ہیں،(۱)ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات(۲)ادب کا بدلتا منظر نامہ(۳)ادبی تنقید اور اسلوبیات(۴)امیر خسرو کا ہندی کلام(۵)سانحہ کربلا بطور شعری استعارہ(۶)اردو افسانہ، روایت اور مسائل(۷)ہندوستانی قصوں سے ماخوذ اردو مثنویاں (۸)تحریک آزادی اور ہندوستان کی اردو شاعری(۹)ترقی پسندی، جدیدیت، مابعد جدیدیت(۰۱)جدیدیت کے بعد(۱۱)ولی دکنی، تصوف، انسانیت اور محبت کا شاعرآ(۲۱)انیس اور دبیر(۳۱)بیسویں صدی میں اردو ادب(۴۱)فراق گورکھپوری(۵۱)اطلاقی تنقید(۶۱)سجاد ظہیر(۷۱)اردو کی نئی بستیا(۸۱)اقبال کا فن(۹۱)فکشن شعریات(۰۲)کاغذ آتش زدہ(۱۲)تپش نامہء تمنا(۲۲)جدید ادبی تھیوری(۳۲)غالب، معنی آفرینی، جدلیاتی وضع (۴۲) اردو غزلیں اور ہندوستانی ذہین و تہذیب (۵۲) اردو زبان اور لسانیت (۶۲)ادبی تنقید اور اسلوبیت (۷۲) اردو زبان و ادب: تنقیدی تناظر (۸۲)خلوت دریچہ اردو پر(۰۳) صداقت پاس تصنیف اور مشرقی شریعت،(۱۳)افسانہ شریعت: تشکیل و مسالک۔(۲۳) آواز (۳۳)سفر آشنا (۴۳)امیر خسرو: ہندی لوک شاعری کا ایک مجموعہ، شونیتا اور شیریات (اردو اور ہندی ساہتیہ اکادمی نے شائع کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کا انگریزی ترجمہ شامل ہے) وغیرہ کتابیں شامل ہیں۔ان کی متعدد کتابوں کا دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔لیکن ان کو سب سے زیادہ شہرت ان کی کتاب ’ساختیات پس ساختیات اور مابعد جدیدت‘ سے حاصل ہوئی۔ دراصل اس میں تین کتابیں ہیں اور اسی سے مابعد جدید نقاد کی حیثیت سے پوری دنیا میں ان کو جانا گیا۔ شمس الرحمن فاروقی کو جدید نقاد تو گوپی چند نارنگ کو مابعد جدید نقاد کی حیثیت حاصل تھی۔گوپی چند نارنگ بیسویں صدی کے آخری 25 برسوں اور اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک اردو زبان و ادب کے افق پر چھائے رہے۔

اپنے علمی تجزیوں اور نظریات سے انھوں نے اردو ادب میں ادبی تنقید کو علم کی ایک مکمل شاخ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔انھوں نے اردو کی 400 سالہ فکری اور تہذیبی تاریخ کو اپنی تحقیق اور تنقید کا موضوع بنایا۔پروفیسرنارنگ کی بنیادی تصنیف ’اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب‘ کو اردو غزل کی ابتدا کا سراغ لگانے کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ان کی تخلیقات ’ہندوستانی قصوں سے ماخوز اردو مثنویاں‘ اور ’ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعری‘ نے نہ صرف اردو نثر اور شاعری کی باریکیوں کو بلکہ سماجی و ثقافتی سیاق و سباق کو بھی سمجھنے میں ایک نئی راہ دکھائی۔ پروفیسر نارنگ نے اپنی پوری زندگی اردو کو راسخ العقیدہ اور فرقہ واریت کی قید سے نکالنے کے لیے وقف کر دی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ’زبان ایڈجسٹ کر لے گی اور زندہ رہے گی، دریا کی طرح جو اپنے کنارے بدلتا رہتا ہے۔‘پروفیسر نارنگ نے تو اردو ادب پر کتابیں لکھیں ہی خود ان پر اور ان کی ادبی خدمات پر بھی کئی ادیبوں نے کتابیں تصنیف کی ہیں۔

پوری اُردو دنیا میں شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ کا طوطی بولتا تھا۔ اردو ادیبوں اور ناقدوں کا کہنا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کے جانے کے بعد گوپی چند نارنگ کا جانا اردو زبان وادب کا ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی تقریباً نا ممکن ہے۔وہ نہ صرف اردو کے ادیب و محقق تھے بلکہ اردو تہذیب کے بھی جیتا جاگتا نمونہ تھے۔ انہیں اردو سے عشق تھا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دنیا بھر کا سفر کرکے جگہ جگہ اردو زبان و ادب کی ترویج کی۔ اسی لیے ان کو سفیر اردو بھی کہا جاتا تھا۔انہیں صرف برصغیر پاک و ہند میں نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور دیگر زبانوں کے ادبی حلقوں میں بھی انہیں وہی پذیرائی حاصل تھی جو اردو حلقوں میں حاصل تھی۔ انہوں نے اپنی تصنیف ’جدیدت کے بعد‘ میں اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میں اردو کا خادم ہوں۔ اردو میری ضرورت ہے، میں اردو کی ضرورت نہیں۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو کسی بھی کام کو شہرت کے لیے نہیں کرتے۔ اگر لوگ میری باتوں پر دھیان دیتے ہیں یا جو کچھ میں کہتا ہوں اس کا کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہے تو یہ میرے قارئین کی محبت ہے۔ان کے مطابق اردو سے میرا معاملہ عشق کا ہے اور عشق میں سود و زیاں نہیں ہوتا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے امور میں میری مخالفت بھی ہوتی ہے اور کئی بار بغض و عناد کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔گوپی چند نارنگ کے انتقال پر اردو دنیا سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ادیبوں، ناقدوں، محققوں اور شاعروں کی جانب سے خراج عقیدت کی بھرمار ہے۔

 گوپی چند نارنگ اپنے آپ میں ایک دارہ تھے ان کا جانا اردو ادب کا بہت بڑا خسارہ ہے،ان کے طویل علمی و ادبی سفر کو ایک مضمون میں سمیٹنا یقینا ایک ناممکن عمل ہے۔القصہ مختصر یہ کہ ان کا جانا یقینا اردو ادب کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔وہ بہت سارے موضوعات پر لگاتار باتیں کر رہے تھے،ابھی چند روز قبل ہی قالب انٹی ٹیوٹ کے ایک پروگرام میں انھوں نے امریکہ سے آن لائن شرکت کی تھی۔ان کی یادداشت اور ادبی فنون پر گرفت کا اندازہ ان کے ایک ایک لفظ سے عیاں تھا،وہ اس عمر میں بھی متحرک رہتے تھے اور اردو ادب کی ہر چھوٹی بڑی سرگرمیوں پر بارک نظر رکھتے تھے جو کسی معجزے سے کم نہیں جس عمر میں لوگ چارپائی پکڑ لیتے ہیں وہ ادب کی ڈور مظبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ان کی اچانک موت نے پورے اردو ادب کو سناٹے میں ڈال دیا ہے۔لیکن جو کچھ وہ لکھ گئے اردو کی خدمات کر گئے وہ اردو ادب کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔یقینا اردوادب کی تاریخ ان کے نام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔بلاشبہ  گوپی چند نارنگ کا انتقال صرف ان کے اہل خانہ کا نہیں بلکہ پوری اردو دنیا کا نقصان ہے اور ایسا نقصان ہے جس کی تلافی جلد ممکن نہیں ہے۔لیکن انھوں نے جو چراغ علم و ادب کا روشن کیا ہے ہمیں اس کی روشنی میں آگے کا سفر طے کرنا ہے۔

Recommended