Urdu News

غالب نے جو لکھا وہ دل کی آواز نہیں تھی، حالات کا دباؤ اور تاریخ کا جبر تھا:شریف حسین قاسمی

دائیں سے: اردو اکادمی کے سکریٹری محمد احسن عابد، وائس چیئرمین حاجی تاج محمد، پروفیسر ایس۔ عنایت علی زیدی، پروفیسر نجمہ رحمانی، پروفیسر سنیتا زیدی، نظام جلسہ ڈاکٹر خالد مبشر اور مائک پر پروفیسر شریف حسین قاسمی خطبہ پیش کرتے ہوئے

اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام پانچواںتوسیعی خطبہ ’’غالب کی دلّی‘‘کا انعقاد

اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام ’’دہلی کی تاریخ و ثقافت‘‘کے عنوان سے دس خطبات پر مشتمل توسیعی خطبات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سیریز کے تحت پانچویں توسیعی خطبہ بعنوان’’غالب کی دلّی‘‘کااردو اکادمی، دہلی کے قمررئیس سلور جبلی ہال میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا باضابطہ آغاز مہمانوں کو گلدستہ پیش کرکے کیاگیا۔

تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری محمد احسن عابد نے کہاکہ میری نظر میں اردو تہذیب نے غالب سے بڑا دانشور پیدا نہیں کیا ہے۔ شاعر تھے دلی کے مورخ بھی رہے، لیکن دہلی سے ان کا اہم تعلق رہا ہے۔ اس عنوان سے دہلی کی تاریخ کا جائزہ لینا دلچسپ اور معلومات سے بھرا ہوا ہوگا۔

جس میں اردو و فارسی کے نامور اسکالر اور دہلوی تہذیب کی نمائندہ شخصیت پروفیسر شریف حسین قاسمی نے توسیعی خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے دوران گفتگو کہاکہ سرسید اور حالی نے جس دور کی دہلی کا ذکر کیا ہے،اس کو ایک معاصراور ایک معتبر مورخ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔ ان کے بیان میں حقائق کا ذکر ہے ، وہاں تاریخی بصارت بھی کار فرما ہے۔

غالبؔ تقریباً 49 برس دہلی میں مستقل قیام پذیر رہے۔ غالب نے دہلی کو اپنا وطن کہا ہے، لیکن انھوں نے اپنا کوئی مکان نہیںبنایا تھا، وہ ہمیشہ کرائے کے مکان میں رہے،اوائل میں شعبان بیگ کی حویلی میں رہا کرتے تھے۔گلی قاسم جان یا پھاٹک حبش خاں کے قرب وجوار کے سوا کہیں اور نہ رہے۔1857کے بعد لکھے گئے اپنے خط میں غالب نے دہلی کی سماجی صورت حال کا اشارۃًذکر کیا ہے۔

لکھتے ہیں دہلی کی ہستی منحصر کئی ہنگاموں پر ہے۔قلعہ،چاندنی چوک، ہر روز مجمع ، بازار جامع مسجد کا، ہر مہینے سیر جمنا کے پل کی،ہر سال میلہ پھول والوں کا۔ یہ پانچوں باتیں اب نہیں ہوتیں۔ اب دہلی دہلی والوں کے پاس نہیں ہے۔یہاں اب ایک سامراجی حکومت رہتی ہے۔1857کے بعد کے ایک دوسرے خط میں بھی وہ دہلی میں اپنے پہلے کے دن یاد کرتے ہیںکہتے ہیں وہ انسان غالب جو 1857میں دہلی میں رہتا تھاوہ انسان اب نہیں ہے۔

میں وہ دہلی کا غالب نہیں ہوں جسے تم دیکھ گئے تھے۔ دستنبو میں غالب نے اپنے خطوط میں تفصیلات کے ساتھ دہلی کے حالات لکھے ہیں۔غالب نے دہلی کی بربادی کی جو تصویر دکھائی ہے،وہ حالیؔ، داغؔ یا ظہیر دہلوی وغیرہ کے مرثیوں پر بھاری ہے۔

غالب نے انگریزوں کے قتل عام کی تعریف کی ہے،جسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ غالب اس لیے غلط تھے، فی الحال اس کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے۔ دستنبو میں غالب نے جو کچھ لکھا وہ ان کے دل کی آواز نہیں تھی، وہ حالات کا دباؤ اور تاریخ کا جبر تھا۔

وہ اپنے اور اپنے اہل خاندان کی جان وآبرو بچانے کی آرزو کا ایک بہانہ تھا۔ غالب نے کہیں یہ اشارہ نہیں کیا کہ دہلی کی جس بربادی کا وہ خاص طور پر دستنبو میں ذکر کر رہے ہیں اس کے ذمہ دار کون ہیں، لیکن دیگر قاری بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے واحد ذمہ دار انگریز تھے۔

توسیعی خطبے کی صدارت پروفیسر ایس۔ عنایت علی زیدی، ریٹائرڈ ، شعبۂ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔ انھوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ دہلی ایشیا کی تہذہب و ثقافت کو نمایاں کرتی ہے۔ دہلی کے اندر ہر قسم کا کلچر ملتا ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ دہلی کے مختلف مقامات کے ناموں پر کام ہونا چاہئے، اس قسم کی ریسرچ کافی دلچسپ ثابت ہوگی۔

ہمیں اپنی تہذیب و ثقافت کو سنبھالنا چاہئے جو مشترکہ تہذیب وثقافت کی دین ہے۔ ہمیں کسی معاملے میں شدت پسند بننے کی ضرورت قطعی نہیں ہوتی ہے۔ ہمیں ہندوستان کے کلچر کو اسی طریقے سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔پروفیسر سنیتا زیدی نے کہاکہ دہلی کو مختلف عہد میں تباہ و برباد کیا گیا، اس کے باوجود یہاں مختلف قسم کی تہذیب و ثقافت ملتی ہے، اس قدر ہوئی تباہی نے دہلی کو مزید استحکام بخشا ہے۔دہلی سات دفعہ بسی اور اجڑی ہے اور آج ہمارے سامنے دہلی کی ایک شکل یہ بھی ہے۔دہلی کی تہذیب اور ثقافت ہمیشہ رچی رہی ہے۔

بطور مہمانِ خصوصی صدر شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی پروفیسر نجمہ رحمانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دہلی کی ثقافتی تاریخ جس طریقے سے شمس الرحمن فاروقی نے پیش کی ہے’کئی چاند تھے سر آسماں ‘میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔

اپنے ماضی کی دہلی کو نئی نسل کو جاننا چاہئے۔ اردو اکادمی، دہلی قابل مبارکباد ہے کہ وہ ماضی کی دہلی کو اس سیریز کے ذریعہ پیش کر رہی ہے اور دہلی کی تہذیب وثقافت کو نئی نسل سے متعارف کرا رہی ہے۔

مہمان اعزازی اردو اکادمی، دہلی کے وائس چیئرمین حاجی تاج محمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ غالب کی دہلی پر بہت ہی خوبصورت گفتگو ہوئی اور اس پر انھوں نے چار چاند لگائے ہیں۔ انھوں نے تمام شرکا کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے استاذ ڈاکٹر خالد مبشر نے کی۔

شرکا میں خورشید حیات، اقبال مسعود، متین امروہوی، ڈاکٹر عقیل احمد،شمیم احمد، شعیب رضا فاطمی ، نگار عظیم، اقبال فردوسی ، گورننگ کونسل کے ممبران میں اسرار قریشی، جاوید رحمانی، ضیاء اللہ اور نفیس منصوری وغیرہ نے شرکت کی۔

Recommended