Urdu News

گلزار صاحب اور اسکولی طلبا نے ڈرامہ پرواز کے آغاز میں میزائل مین کلام صاحب کو کچھ اس انداز میں پیش کیا

گلزار صاحب اور اسکولی طلبا نے ڈرامہ پرواز کے آغاز میں میزائل مین کلام صاحب کو کچھ اس انداز میں پیش کیا

سامعین جمع تھے، سری فورٹ آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لیکن جو لوگ گلزار صاحب کو دیکھنے اور سننے کے لیے آئے تھے انہیں ایک لمبا انتظار کرنا پڑا۔ جمعہ کی شام  بہت  لمبی لگ رہی  تھی، لیکن بہت جلد  ایک خوب صورت اور یادگار فضا ہال میں دیکھنے کو ملا۔
’’میں اس زمین پر ایک گہرا کنواں ہوں، ان گنت لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے، جو اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں۔ اس کی بے تحاشا رحمت ہر ‘‘ایک کنویں کی طرح برستی ہے جو سب کی پیاس بجھاتی ہے۔ ایسی ہی کہانی ہے میری

اسٹیج پر سنسکارویلی اسکلول کے طلبا پرفام کرتے ہوئے

گلزار صاحب کی بھاری مگر تیز آواز میں دہلی کے لوگوں نے اس لڑکے کی کہانی سنی جو اخبار بیچ کر اپنے بھائی کی مدد کرتا تھا۔ کہانی ابوالفاخر زین العابدین عبدالکلام کی تھی۔ عوام کا صدر، ماضی کا اور ملک کا بے مثال صدر، میزائل مین کی کہانی۔

ہندی اخبار دینک بھاسکر اور سنسکار ویلی اسکول کے بچوں نے تقریباً ایک گھنٹے کے اس ڈرامے’’ پرواز ‘‘کا آغاز میں، اپنی کارکردگی کو ناقابل فراموش بنا دیا۔ سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی زندگی پر مبنی ’پرواز کا آغاز‘ جمعہ کو نئی دہلی کے سری فورٹ آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔

درحقیقت اس ڈرامے کو دیکھنے کے لیے شائقین بھی جمع ہوئے کیونکہ یہ گلزار کا لکھا ہوا تھا۔ اوراس لیے بھی جمع ہوئے کیونکہ اس کا بیانیہ خود گونج رہا تھا۔ لیکن جیسا کہ اناؤنسر نے بتایا گلزار صاحب کی طبیعت کچھ ناساز ہو گئی، کچھ ہی دیر میں گلزار صاحب   آڈیٹوریم میں تشریف لے آئے۔ یہ بات الگ ہے کہ سامعین کو کافی دیر انتظار کرنا پڑا لیکن اس انتظار نے لوگوں میں مزید جوش پیدا کر دیا۔

پروگرام کے آغاز میں اس ڈرامے کی تیاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سنسکار ویلی اسکول کے ڈائریکٹر جیوتی اگروال نے کہا’’اس ڈرامے کا تصور 2019 میں تیار ہوا۔ یہ ڈرامہ پہلی بار اسکول کے یوم تاسیس کے موقع پر پیش کیا جاچکا ہے۔ لیکن اسے اپناتے وقت بہت سے شکوک و شبہات تھے کیونکہ اس میں نہ تو ڈائیلاگ ہیں اور نہ ہی کوئی سین۔ یہ ایک یک زبان ہے، جسے گلزار صاحب نے روایت کیا ہے۔ سوال یہ تھا کہ یہ کیسے کیا جائے گا؟‘‘

لیکن پہلے فلمساز راج کمار ہیرانی اور پھر گلزار صاحب نے خود اس کی پروڈکشن دیکھی اور اسے سراہا۔

کلام صاحب کو گلزار صاحب کی زبانی سننے کے لیے شامعین کا اژدہام

تاہم پروگرام کے آغاز میں مشہور گلوکار موہت چوہان نے اے پی جے عبدالکلام کا لکھا ہوا گانا وژن گا کر ماحول بنایا اور پھر جب پرویز کا ڈیبیو اسٹیج ہوا تو شو کے دوران کئی بار تالیاں بجیں۔ شو ختم ہوتے ہی کھچا کھچ بھرا آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا۔

کلام صاحب کے بچپن سے لے کر میزائل مین بننے تک زندگی اور زندگی کے مختلف صفحات چار طلبانے پیش کئے۔ اس ڈرامے میں ایک کلام نے اپنی کہانی بیان کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بقیہ کلام میں بچپن، اسکول کے دنوں، ایم آئی ٹی کالج کی تعلیم اور سائنسدان بننے کا وقت بھی دکھایا گیا ہے۔

دی سنسکار ویلی اسکول کے طلبا نے اسٹیج پر اپنے تال میل اور جسمانی اشاروں کے ذریعے کلام کی زندگی کو ایسے اسٹیج پر پہنچایا کہ ایسا لگتا تھا کہ ہم زندہ کلام کو سامنے دیکھ رہے ہیں۔ شو کی خاص بات یہ تھی کہ پرفارم کرنے والے طلبہ کبھی لیڈر بن گئے، کبھی ہوائی جہاز، کبھی کشتی، کبھی شیولنگ اور کبھی ٹرین۔

اس میوزیکل ڈانس ڈرامہ میں طلبانے گیت کے عصری انداز، کتھک، بھرتناٹیم، مہاراشٹر کی لوک موسیقی اور صوفی انداز پیش کیے۔

اس شو میں کچھ ایسے ڈائیلاگ تھے جو دل کو چھو گئے۔ مثال کے طور پر، ’’اگنی ایک شعلہ ہے جو ہر ہندوستانی کے دل میں جل رہا ہے۔ اسے میزائل نہ سمجھیں، یہ برادری کے ماتھے پر چمکتی ہوئی آگ کا سنہری تلک ہے‘‘۔ اس کے علاوہ، ’’خدا نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ آسمان ہمیشہ نیلا رہے گا! زندگی بھر پھولوں سے بھرا راستہ ہو گا۔ خدا نے یہ وعدہ نہیں کیا کہ سورج ہے تو بادل نہیں ہوں گے، خوشیاں ہوں گی تو غم نہیں ہوں گے، سکون ہو گا تو دکھ نہیں ہوں گے۔‘‘

Recommended