Urdu News

حضرت موسیٰ کا مجسمہ کس نے اور کب بنایا تھا ؟

کیا یہ مجسمہ حضرت موسیٰ کا ہے ؟

کہتے ہیں کہ موسی کا یہ مجسمہ مکمل کرتے ہی مائیکل اینجلو نے اپنی ہتھوڑی اس کے بایاں گھٹنے پر مارتے ہوئے کہا۔ دنیا کا آج تک کا سب سے خوب مجسمہ۔ سنگ مر مر سے بنایا گیا یہ مجسمہ تکنیکی لحاظ سے مکمل ترین شاہکار ہے۔ جذبات، زندگی اور مقصد سے بھرپور۔ یہ مجسمہ سان پیٹرو ان ون کولائی روم میں ہے۔ پندرہ سو تیرہ سے لے کر پندرہ سو پندرہ میں اسے مائیکل اینجلو نے اپنے وقت کے جنگجو حکمران اور پوپ جولیس دوم کے مقبرے کے لئے بنایا۔

موسی کا مجسمہ اٹھ فٹ اونچا ہے۔ اور اس کے ارد گرد کئی اور بھی مجسمے ہیں۔ یہ منظر موسی کا کوہ سینائی سے واپس آنے کا ہے۔ موسی اپنی قوم کو ایک پچھڑے کی پوچا کرتے دیکھ شدید غصے میں ہے۔ موسی علیہ السلام کی بغل میں دو مقدس تختیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ بحوالہ خروج کی کتاب عبرانی بائبل، ان کے بارے یہ کہا جاتا تھا یہ کہ دس احکامات خدا نے خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر موسی کو دیے۔ جو موسی نے بعد میں کوہ سینا سے واپس پہنچ کر غصے میں زمین پر مار کر توڑ دیے۔ موسی کے واپس آنے پر ان کی قوم واپس مصری خدا جو کہ بچھڑے کی صورت کا تھا کی پوجا کرنا شروع ہو گئی تھی۔

مجسمے کے دونوں پیروں کو غور سے دیکھیں۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان زمین سے آدھا گھوم کر اٹھتا ہے۔ موسی کی ٹانگوں اور جسم کے مسل تک اسی حالات میں ہیں۔ ڈاڑھی ہوا میں لہرا رہی ہے۔ جسم کا رخ دائیں طرف اور سر بائیں طرف ہے۔ آگ برساتی آنکھیں اور غصے سے بھر چہرہ دیکھ کے یہی لگتا ہے کہ ابھی آٹھ کھڑا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایسا کچھ بھی دوبارہ بنانے کے مائیکل اینجلو چائیے ورنہ ایسا شاہکار اور سوچ ناممکن ہے۔
اس زمانے میں عبرانی بائبل کے لاطینی بائبل میں ایک عبرانی لفظ کاران کے غلط ترجمے سے عوام میں یہ مشہور ہو گیا تھا کہ نبیوں کے سر پر سینگھ اگ اتے ہیں۔ اس لئے آپ موسی کے سر پر سینگھ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

 
Courtesy Muhammad Kashif
 
بہ شکریہ ایاز انجم

Recommended