وہ بھی تصویر سے نکل آیا : پروفیسر شہپر رسول

https://urdu.indianarrative.com/Shahpar-Rasool-with-Rizvanuddin-.webp

پروفیسر شہپر رسول اپنے احباب کے ساتھ

 میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی 

وہ بھی تصویر سے نکل آیا
मैं ने भी देखने की हद कर दी 
वो भी तस्वीर से निकल आया
Shehpar Rasool 
آج معروف ادیب اور میرے پسندیدہ شاعر پروفیسر شہپر رسول صاحب کا یومِ ولادت ہے. اس پرمسرت موقع پر میں انھیں صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ پاک صحت و تندرستی کے ساتھ عمر دراز کرے.. آمــــــــــین یا رب العالمین..
موقع کی مناسبت ڈاکٹر خالد محمود کے ذریعے پروفیسر شہپر رسول پر لکھے گئے خاکے کا ابتدائی حصہ باذوق احباب کی بصارتوں کی نذر کیا جارہا ہے. پڑھیں اور محظوظ ہوں
#قصہ_پروفیسرشہپر_رسول_کے_درج_ذیل_شعر_کا👇👇👇
مجھے بھی لمحہء ہجرت نے کردیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
شہپر رسول 
ڈاکٹر خالد محمود  رقمطراز ہیں کہ تقریباً تیس پینتیس برس پہلے کی بات ہے، جب ٹیلی ویژن کی گرفت گھروں پر اتنی مضبوط نہیں ہوئی تھی کہ ہمارے کان ریڈیو کی آواز کو ترس جاتے۔ نہ مشاعرے نوٹنکیوں میں تبدیل ہوئے تھے۔ چنانچہ ایک دن ہم نہایت اطمینان سے گھر کے ریڈیو پر ایک مشاعرے کا لطف لے رہے تھے کہ ریڈیو سے اچانک یہ شعر پھڑکتا ہوا نکلا اور آناً فاناً دل میں اتر کر بیٹھ گیا۔
شعر کیا تھا حیاتِ انسانی کی طویل ترین داستان سفر کے الم ناک مناظر کا متحرک پیکر تھا جسے شاعر کی مہارت فن نے تاثیر کا طلسم بنا دیا تھا۔ شاعر کا نام شہپر رسول نشر ہوا جو کچھ دنوں تک یادداشت کی زینت بنا رہا۔ پھر طاقِ نسیاں کی نذر ہوگیا۔ تاہم یہ شعر نہ صرف خود یاد رہا بلکہ اس نے تاریخ کے ناقابلِ فراموش اور تاریخ ساز واقعات بھی یاد دلا دیے۔ مجھے یاد آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے وطن مکہ معظمہ کو خیر باد کہہ کر مدینہ طیبہ کی جانب رخ کرکے فرماتے ہیں کہ اے ارض مکہ تو مجھے دنیا کی ہر زمین سے زیادہ عزیز ہے ۔ میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا مگر تیری قوم نے مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ وطن عزیز کے تئیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تڑپ اور انداز سفر کی اس مصرع نے کیسی سچی عکاسی کی ہے   ع:
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
تقسیم ہند کا خیال آیا تو محسوس ہوا کہ لاکھوں مہاجرین کی پیشانیوں پر یہ شعر چسپاں ہے اور ادھر سے آنے والا یا اِدھر سے جانے والا ہر فرد اس شعر کی منہ بولتی تصویر بنا ہوا ہے۔
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کردیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
یہ شعر جو مہاجرین کی پیشانیوں پر بوقت ہجرت چسپاں تھا بعد میں جب مہاجرین سے ملاقاتیں ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اب وہ پیشانیوں سے اتر کر ان کے دل و دماغ اور روح پر کندہ ہوگیا ہے۔ یہ مناظر جوہ ہیں جو کتابوں اور گواہوں کے توسط سے ہماری معلومات کا حصہ بنے تھے مگر پھر ایک مختلف اور منفرد جذباتی منظرہم نے بچشم خود دیکھا جو اس شعر کو نئی تشریح و تعبیر عطا کرتا ہے۔
جب ہمیں حج کی سعادت حاصل ہوئی اور طوافِ وداع سے فارغ ہوکر مطاف سے کوچ کرنے کا وقت آیا تو ہماری آنکھوں نے دیکھا کہ تمام حجاج کرام  بھاری بھاری قدموں سے بادلِ ناخواستہ حرم پاک سے رخصت ہورہے ہیں۔ بار بار پیچھے مڑکر دیکھتے ہیں۔ ان کے قدم سفر کی طرف ہیں مگر ان کی گردنیں مستقل پیچھے گھومی رہتی ہیں اور حسرت بھری اشک آلود آنکھیں اس وقت اللہ  کے گھر کو دیکھتی رہتی ہیں جب تک کہ وہ منظر آنکھوں سے اوجھل نہ ہوجائے بالکل وہی منظر   ع:
نگاہ گھر کی طرف ہے اور قدم سفر کی طرف
بے شمار نگاہوں اور قدموں کی تقسیم کا حال زار پڑھ کر، سن کر اور پھر دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اس شعر کا دامن تو دامنِ قیامت سے بندھا ہوا ہے۔ یہ شہپر صاحب سے میری پہلی شناسائی تھی اور وہ بھی غائبانہ۔
📚ماہنامہ شگوفہ خالد محمود نمبر میں شامل خاکہ "قصہ شہپر رسول کا" سے اقتباس
#منتخب_کلام
میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں 
اس نے کہا کیا بات ہے میں نے کہا کچھ بھی نہیں 
ہر ذہن کو سودا ہوا ہر آنکھ نے کچھ پڑھ لیا 
لیکن سر قرطاس جاں میں نے لکھا کچھ بھی نہیں 
دیوار شہر عصر پر کیا قامتیں چسپاں ہوئیں 
کوشش تو کچھ میں نے بھی کی لیکن بنا کچھ بھی نہیں 
جس سے نہ کہنا تھا کبھی جس سے چھپانا تھا سبھی 
سب کچھ اسی سے کہہ دیا مجھ سے کہا کچھ بھی نہیں 
چلنا ہے راہ زیست میں اپنے ہی ساتھ ایک عمر تک 
کہنے کو ہے اک واقعہ اور واقعہ کچھ بھی نہیں 
اب کے بھی اک آندھی چلی اب کے بھی سب کچھ اڑ گیا 
اب کے بھی سب باتیں ہوئیں لیکن ہوا کچھ بھی نہیں 
دل کو بچانے کے لیے جاں کو سپر کرتے رہے 
لوگوں سے آخر کیا کہیں شہپر بچا کچھ بھی نہیں 
------
سخن کیا جو خموشی سے شاعری جاگی 
چراغ لفظوں کے جل اٹھے روشنی جاگی 
ضد ملال و مسرت میں عمر بیت گئی 
یہ دیو سویا نہ وہ خواب کی پری جاگی 
تو برف درد سمندر میں اضطراب آیا 
تو خشک چشم جزیرے میں کچھ نمی جاگی 
وہاں زباں پہ سمندر کی خشکیاں ابھریں 
یہاں زمین کے ہونٹوں پہ کچھ ہنسی جاگی 
نظر نظر میں سمائیں حلاوتیں شہپر
خیال لمس و نظارا میں سر خوشی جاگی 
----
دل میں شعلہ تھا سو آنکھوں میں نمی بنتا گیا 
درد کا بے نام جگنو روشنی بنتا گیا 
ایک آنسو اجنبیت کا ندی بنتا گیا 
ایک لمحہ تھا تکلف کا صدی بنتا گیا 
کیا لبالب روز و شب تھے اور کیا وحشی تھا میں 
زندگی سے دور ہو کر آدمی بنتا گیا 
کب جنوں میں کھنچ گئی پیروں سے ارض اعتدال 
اور اک یوں ہی سا جذبہ عاشقی بنتا گیا 
رفتہ رفتہ تیرگی نے دشت جاں سر کر لیا 
روشنی کا ہر فسانہ ان کہی بنتا گیا 
زندگی نے کیسے رازوں کی پٹاری کھول دی 
آگہی کا ہر تیقن گمرہی بنتا گیا 
شہر کا چہرہ سمجھ کر دیکھتے تھے سب اسے 
اور وہ خود سے بھی شہپر اجنبی بنتا گیا 
®فـــاروقی