فقیر اردو فاروق ارگلی: اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے اک جہان

https://urdu.indianarrative.com/Farooq-Argali.webp

فقیر اردو فاروق ارگلی

 فقیر اردو فاروق ارگلی سے کون واقف نہیں، انہوں نے متعدد کتابیں ترتیب دی ہیں، وہ عمر کے اس پڑاؤ پر ہیں جہاں اکثر لوگ اپنے کام سمیٹ کر آرام کا گوشہ تلاش کرتے ہیں، وہ اس عمر میں بھی اتنے متحرک ہیں کہ ان کے سامنے کسی جوان کا حوصلہ بھی ہیچ ہے۔ میرے پاس فاروق ارگلی صاحب کی کچھ ہی کتابیں ہیں، انہی میں سے ایک  ان کا مرتب کردہ علمی ادبی جریدہ 'جہان کتب' کا مصور فطرت خواجہ حسن نطامی نمبر ہے جو ان دنوں زیر مطالعہ ہے۔اس علمی و ادبی جریدے کے مدیر اعلٰی الحاج محمد ناصر خاں ،مینیجنگ ڈائریکٹر فرید بک ڈپو دہلی ہیں۔اس کی ضخامت 896 صفحات پر مشتمل ہے، اس کی اشاعت 2015 ء میں عمل میں آئ۔یہ خاص نمبر فرید بک ڈپو کے اس سلسلے کی کڑی ہے جو انہوں نے عظیم قلم کاروں کی حیات و خدمات پر مکمل معلوماتی خاص نمبر شائع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

اس کے ابتدائی دس گیارہ صفحات پر شمس العلماء حضرت خواجہ حسن نظامی سے متعلق تصاویر ہیں۔اس بعد فہرست ہے۔ابتدا میں خواجہ مھدی نظامی مرحوم نے 'حضرر خواجہ حسن نظامی -ذاتی اور خاندانی حالات' کے عنوان سے نام، تاریخ پیدائش، خاندانی حالات ،تعلیم،پہلی شادی ،پہلا مضمون، دوسری شادی، تصنیف و تالیف اور خواجہ صاحب کا شجرہ پیش کیا ہے۔
خواجہ حسن نظامی کا شجرہ نسب حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔خواجہ حسن نظامی نے پہلا مضمون 'انڈیا کی نازک حالت' کے عنوان سے 'انڈیا گزٹ 'ممبئ میں لکھا۔خواجہ حسن نظامی کا عکس تحریر بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔اس میں آغا حیدر حسن دہلوی، ڈاکٹر محی الدین قادری زور، پروفیسر نثار احمد فاروقی، پروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر گوپی چند نارنگ، مولانا عبد الماجد دریابادی کے علاوہ خواجہ حسن ثانی نظامی، پروفیسر مھمد حسن، ڈاکٹر خلیق انجم، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر شارب ردولوی، پروفیسر اخترالواسع، شمس کنول، اور دیگر ادبا کی تحریریں شامل ہیں۔پروفیسر شارب ردولوی خواجہ ھسن نظامی کی انشاپردازی سے متعلق لکھتے ہیں " خواجہ حسن نظامی اردو کے صاحب طرز انشا پرداز ہیں۔ان کے اسلوب میں بلا کی شگفتگی اور دلکشی ہے۔اور انہوں نے اس ہر ایسی قدرت حاصل کی ہے کہ دنیا کا کوئ موضوع ہو، وہ اسی سادگی اوت بے تکلفی سے لکھتے چلے جاتے ہیں جس طرح نظیر اکبر آبادی نے شاعری میں کسی موضوع کو نہیں چھوڑا خواہ وہ کتنا ہی غیر شاعرانہ کیوں نہ رہاہو، اسے پوری طرح شعری کج ادئ کے ساتھ نظم کیا ہے۔اسی طرح کوئ ایسا موضوع نہیں جس پر خواجہ حسن نظامی نے کچھ نہ کچھ نہ لکھا ہو، پھر یہ کچھ نہ کچھ، ایسا نہیں ہے جسے کوئ نظر انداز کرسکے۔" اس میں دورائے نہیں کہ خواجہ حسن نظامی نے اس طرح کے موضوعات کا انتخاب کیا ہے کہ عام آدمی کے لیے بھی وہ کوئ معنی نہیں رکھتا۔لیکن جب مضمون پڑھتے ہیں تو اس کی گرہیں کھلتی جاتی ہیں اور بات سے بات پیدا ہوتی جاتی ہے اور موضوع کی اہمیت واضح ہوتی جاتی ہے۔ خواجہ حسن نظامی کے نام اکبر الٰہ آبادی کے تقریباً 255 خطوط اس جریدے میں شامل ہیں۔
زندگی کے کسی بھی مسئلے پر اظہار کرنا ہو تو خواجہ حسن نظامی واقعہ نگاری سے کام لینا نہیں بھولتے۔اکثر مقامات پر وہ ان واقعات کا سہارا زیادہ لیتے ہیں جو پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔'اس جریدے میں 'سناتن سندیسہ' کے عنوان سے خواجہ حسن نظامی کی وہ تقریر بھی شامل ہے جو انہوں نے تبلیغ اسلام کے جلسے میں بحیثیت صدر متھرا میں جون 1925 میں ہندو و مسلمان کے سامنے پڑھی تھی۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تقریر کو منظر عام پر لایا جائے۔جس طرح کا فرقہ وارانہ فساد کا ماحول آج کی فضا کو زہریلا کررہا ہے اور ایک دوسرے کے دلوں میں نفرت کے بیج بورہا ہے، امید ہے کہ یہ تقریر کچھ حد تک اس معاملے کو سمجھنے میں معاون ہوگی۔وہندو و مسلمان سے متعلق ایک جگہ لکھتے ہیں ' آپ دونوں لڑ رہے ہیں اور اپ دونوں کو کچھ لڑانے والے لرارہے ہیں اور بیان کیا جاتا ہے کہ میں بھی انہی لڑانے والوں میں سے ایک شریر آدمی ہوں۔ یہ خواجہ حسن نظامی کا اعتراف ہے کہ وہ پہلے انگلی اپنی طرف اٹھاتے ہیں تب کسی کو اس میں شامل کرتے ہیں۔حالانکہ وہ ان شریر لوگوں میں شام نہیں۔خواجہ حسن نظامی نے مذہبی لٹریچر کے میدان میں جو جگہ بنائی وہ اصل میں قرآن کے ترجمے اور تفسیر کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے قرآن کا ترجمہ اس لیے کیا کہ قرآن کو عام فہم اردو ہندی میں لوگوں کے سامنے پیش کردیا جائے۔وہ ایک جگہ لکھتے ہیں " ۔۔۔۔۔۔مجھ کو ایسی تفسیر لکھنی چاہئیے جو آج کل کی ساف اور سلیس زبان میں تو ہو مگر زبان دانی کے محاورے لکھنے کی تلاش میں قرآن شریف کے مفہوم کی ادائیگی فوت نہ ہوجائے، نہ اس میں بہت زیادہ طوالت ہو، نہ اختصار ہو بلکہ صرف قرآن شریف کے مطالب اور مقاصد اور احکام اور قوانین کو عام فہم بنادیں۔" بات صاف ہے کہ وہ ایسا ترجمہ چاہتے تھے جو آسانی اے سمجھ میں آ سکے۔
اس کے علاوہ بھی بہت سے مضامین ہیں جو خواجہ حسن نظامی کی شخصیت اور فن کا احاطہ کرتے ہیں۔
یوسف رضا