اردو دنیا بھر میں بولی جانے والی سب سے خوبصورت زبانوں میں سے ایک ہے: نائب صدر

https://urdu.indianarrative.com/urdu-language.jfif

اردو دنیا بھر میں بولی جانے والی سب سے خوبصورت زبانوں میں سے ایک

 

 

نئی دہلی،  13/جولائی 2020 ۔ نائب صدر جمہوریہ جناب ایم وینکیا نائیڈو نے آج اردو زبان کی گراں  مائیگی و شادابی کا ذکر کیا اور کہا کہ ’’اردو دنیا بھر میں بولی جانے والی سب سے خوبصورت زبانوں میں سے ایک ہے۔‘‘ مادری زبان کی اہمیت  پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ہمیشہ اپنی دیسی زبان میں بات چیت کریں۔ انھوں نے کہا کہ حیدرآباد خاص طور پر اوردکن بالعموم اردو کے مراکز رہے ہیں۔

جناب نائیڈو نے سینئر صحافی جناب جے ایس افتخار کی تحریر کردہ کتاب ’اردو شعراء و مصنّفین – دکن کے جواہر‘  قبول کی۔ انھوں نےسابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے بارے میں جناب ستیہ کاسی بھارگو کے ذریعے تحریر کردہ کتاب ’منوووتم راما‘ اور جناب ملیکا ارجن کے ذریعہ تحریر کردہ کتاب ’نلاگونڈا کتھالو‘ بھی تلنگانہ اسٹیٹ محکمہ لسانیات و ثقافت کے ڈائریکٹر جناب مامیدی ہری کرشنا کے ہاتھوں قبول کی۔

’جیمس آف دکن‘ یعنی دکن کے جواہر نثر و نظم کا ایک مجموعہ ہے جس میں خطہ دکن کے 51 ممتاز شعراء و مصنّفین کی حیات و خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں حیدرآباد کے بانی محمد قلی قطب شاہ سے لے کر موجودہ عہد تک کی دکن کی گراں مایہ ادبی و ثقافتی روایات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ پر کتاب کی اشاعت کے لئے تلنگانہ حکومت کی عزت افزائی کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے سبھی ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی و علاقائی مثالی شخصیات پر ایسی کتابیں شائع کریں، تاکہ نئی نسلوں کو ان کے بارے میں باخبر کیا جاسکے۔

جناب نائیڈو نے بھگوان رام کی خوبیوں کو ایک مثالی انسانی شخصیت کے طور پر پیش کرنے کے لئے ’منوووتم راما‘ کے مصنف کی کوششوں کی ستائش کی۔ انھوں نے کہا کہ بھگوان رام کی خصلتیں اور خوبیاں ہمیشہ موزوں رہیں گی۔

کتاب ’نلاگونڈا کتھالو‘ قبول کرتے ہوئے نائب صدر نےدیہی کہاوتوں اور مقامی کہانیوں کو تحریر کرنے اور مقبول بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انھیں آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کیا جاسکے۔انھوں نے ادب اطفال کے تعلق سے ایسی کتابوں کی اشاعت کی اپیل کی  جن کی جڑیں ہماری روزمرہ کی زندگی میں پیوست ہوں۔

نائب صدر جمہوریہ نے ان کتابوں کی تصنیف کے لئے ان کی کوششوں کے تعلق سے مصنّفین کی عزت افزائی کی اور انھیں اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔