کون تھے وہ مولانا جو شاعری کرتے تھے ، پتنگ بناتے تھے اور فلمی دنیا میں نغمہ نگاری بھی کی

https://urdu.indianarrative.com/Maulana-Amir-Usmani.webp

اردو کے ممتاز، مصنف، محقق، ادیب اور شاعر مولانا عامرؔ عثمانی صاحب

 .دیوبند  سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز، مصنف، محقق، ادیب اور شاعرمولانا عامرؔعثمانی صاحب کا یومِ ولادت.... 

نام امین الرحمن اور تخلص عامرؔ تھا۔
30؍نومبر 1920ء کو ہردوئی میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مطلوب الرحمن تھا جو انجنیر تھے۔ آبائی وطن دیوبند تھا، پوری تعلیم دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی، فارغ التحصیل ہونے کے بعد پتنگیں بنا کر بیچنے لگے، ایک عرصے تک اس کام سے جڑے رہے، لیکن اس سے ضروریات پوری نہیں ہوتی تھیں، اس لئے شیشے پر لکھنے کی مشق کرنے لگے اور اس میں وہ مہارت حاصل کی کہ اچھے اچھوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ مولانا کے مشہور ماہنامہ "تجلی" کے اکثر سرورق خود مولانا نے بنائے ہیں۔ اس کے بعد مولانا پر وہ دور بھی آیا کہ ان کا قلم ممبئی کی گندی فلم نگری کی طرف مڑ گیا، مگر یہ دنیا مولانا کی طبیعت سے میل نہیں کھاتی تھی اور والد مرحوم نے یہ بھی کہہ دیا کہ فلم سے کمایا ہوا ایک پیسہ بھی میں نہیں لوں گا۔ اسی لئے جلد ہی مولانا دیوبند لوٹ گئے۔ ذریعۂ معاش کے طور پر ماہنامہ "تجلی" کا اجراء کیا۔ ماہنامہ "تجلی" کا اجراء 1949ء میں کیا گیا جو مولانا کی وفات تک یعنی 25 سال تک مسلسل بلا کسی انقطاع کے شائع ہوتا رہا۔ حالات و آزمائشوں کے باوجود اس رسالے نے علمی و ادبی دنیا میں بہت کم مدت میں خوب شہرت حاصل کی، منظر عام پر آتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا، اس کے سلسلہ مضامین کا اہل علم و ذوق شدت سے انتظار کرتے تھے۔
مولانا عامرؔ عثمانی شاعر کی حیثیت سے ادبی دنیا میں شہرت حاصل کر چکے تھے۔ مرض الموت میں جب انہیں ڈاکٹروں نے چلنے پھرنے سے منع کر دیا۔ سفر کی سخت ممانعت تھی۔ مگر شاید مولانا کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ یہ ان کا آخری سفر ہے۔ پونے کے ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے مولانا نے پونے کا طویل سفر اختیار کیا۔ اور اپنی مشہور نظم ’’جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں‘‘ سنانے کے دس منٹ بعد ہی 12؍اپریل 1975ء کو جہان فانی سے کوچ کر گئے۔
#بحوالہ_ویکیپیڈیا
         پیشکش : شمیم ریاض
                     
 نامور شاعر مولانا عامرؔ عثمانی صاحب کے یومِ ولادت پر منتخب اشعار بطور خراجِ عقیدت.... 
آبلوں کا شکوہ کیا ٹھوکروں کا غم کیسا 
آدمی محبت میں سب کو بھول جاتا ہے
----------
باقی ہی کیا رہا ہے تجھے مانگنے کے بعد 
بس اک دعا میں چھوٹ گئے ہر دعا سے ہم
----------
عشق کے مراحل میں وہ بھی وقت آتا ہے 
آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے
----------
اس کے وعدوں سے اتنا تو ثابت ہوا اس کو تھوڑا سا پاس تعلق تو ہے 
یہ الگ بات ہے وہ ہے وعدہ شکن یہ بھی کچھ کم نہیں اس نے وعدے کیے
----------
چند الفاظ کے موتی ہیں مرے دامن میں 
ہے مگر تیری محبت کا تقاضا کچھ اور
----------
سبق ملا ہے یہ اپنوں کا تجربہ کر کے 
وہ لوگ پھر بھی غنیمت ہیں جو پرائے ہیں
----------
مری زندگی کا حاصل ترے غم کی پاسداری 
ترے غم کی آبرو ہے مجھے ہر خوشی سے پیاری
----------
یہ قدم قدم بلائیں یہ سواد کوئے جاناں 
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری
----------
ہمیں آخرت میں عامرؔ وہی عمر کام آئی 
جسے کہہ رہی تھی دنیا غم عشق میں گنوا دی
----------
کتنی پامال امنگوں کا ہے مدفن مت پوچھ 
وہ تبسم جو حقیقت میں فغاں ہوتا ہے
----------
ظاہراً توڑ لیا ہم نے بتوں سے رشتہ 
پھر بھی سینے میں صنم خانہ بسا ہے یارو
----------
عقل تھک کر لوٹ آئی جادۂ آلام سے 
اب جنوں آغاز فرمائے گا اس انجام سے
----------
عشق سر تا بہ قدم آتش سوزاں ہے مگر 
اس میں شعلہ نہ شرارہ نہ دھواں ہوتا ہے
----------
یہ قدم  قدم اسیری  یہ حسین  قید خانا
کوئی طوق ہے نہ بیڑی کوئی دام ہے نہ دانا
          مولانا عامرؔ عثمانی  
            انتخاب : شمیم ریاض