تعلیم

کوہیما گاؤں میں رات کے اسکول بچوں کے لیے امید کی کرن،کیسے دیکھتے ہیں آپ؟

 کوہیما گاؤں میں کوہیما ویلج اسٹوڈنٹس یونین (KVSU) کے زیراہتمام رات کے اسکول بچوں کے لیے امید کی کرن فراہم کرتے ہیں، اس کے علاوہ ان کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔

کے وی ایس یو کے جنرل سکریٹری البرٹ روتسا نے کہا کہ نائٹ اسکول 1980 کی دہائی کے اوائل میں شروع کیے گئے تھے جس کا مقصد سب کے لیے سیکھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا تھا تاکہ ہر طالب علم اپنی صلاحیتوں کا ادراک کر سکے اور معاشرے کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے اساتذہ  ہر طالب علم پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور ہمہ جہت ترقی کے لیے اس کی صلاحیتوں کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں چار نائٹ اسکول تھے جو تمام طلبا کو مفت ٹیوشن فراہم کرتے تھے، ان کے معاشی پس منظر سے قطع نظر، اور ایک ایسی جگہ جہاں وہ آزادانہ طور پر اظہار خیال کر سکتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام زمروں کے طلباء کے لیے اسکولوں تک رسائی آسان ہے۔ جب کہ دو نائٹ اسکول سرکاری اسکول کی عمارت میں چل رہے تھے۔

ایک پبلک لائبریری میں اور دوسرا کمیونٹی ہال میں۔رتسا نے بتایا کہ اوسطاً طالب علم سے استاد کا تناسب 10:1 تھا – مجموعی طور پر 122 اساتذہ 275 طلبا کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

 اسکول ہفتے میں پانچ دن ہر کام کے دن کم از کم دو گھنٹے کام کرتے  ہیں۔ امتحانات کے دوران ٹیوشن کا وقت بڑھا دیا گیا  جاتا ہے تاکہ طلباء کی اضافی دیکھ بھال اور توجہ دی جا سکے۔ اسکولوں نے بہت سے نئے گریجویٹس کے لیے تربیتی مراکز کے طور پر بھی کام کیا جن کا مقصد تدریسی پیشے میں شامل ہونا تھا۔اسکول فی الحال کمیونٹی، تنظیموں اور افراد کے تعاون سے منظم اور زیر انتظام تھے۔ KVSU اور اس

کی اکائیوں نے اخراجات کو پورا کرنے اور اسکولوں کو چلانے کے لیے فنڈ جمع کرنے کا بھی اہتمام کیا۔بڑی رکاوٹوں پر بات کرتے ہوئے، رتسا نے تسلیم کیا کہ فنڈنگ سب سے مشکل حصہ ہے اور کہا کہ اس کی وجہ سے بعض اوقات طلبا کی سرگرمیوں کو کم کرنا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ نائٹ اسکولوں کا ٹریک ریکارڈ بہترین ہے اور وہ گزشتہ برسوں سے بورڈ کے تمام امتحانات میں اچھی پاس فیصدی کا اندراج کر رہے ہیں اور ریاستی بورڈ کے امتحانات میں باقاعدگی سے ٹاپرز اور سبجیکٹ ٹاپرز پیدا کر رہے ہیں۔

رتسا نے اعتراف کیا کہ کووڈ۔ 19 وبائی امراض کے دوران بہت سارے طلبا اپنے نوٹوں کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے کیونکہ کلاسز آن لائن منعقد کی گئی تھیں اور نوٹ واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے بھیجے گئے تھے۔

اس لیے نائٹ اسکولوں کو پرنٹ آؤٹ لے کر اور لائبریری کھول کر طلبا کی مدد کرنی پڑتی تھی تاکہ طلبہ کتابوں کا حوالہ دے سکیں اور اپنے شکوک و شبہات کو بھی دور کر سکیں۔

اس کے علاوہ کلاس رومز کی چار دیواری کے اندر سیکھنے کے لیے مختلف سرگرمیاں جیسے ادبی تقریبات، فلمی راتیں، نمائش کے دورے، شخصیت کی نشوونما کی سرگرمیاں وغیرہ کا سال بھر انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تلاش کرنے اور تجربات حاصل کرنے کا موقع ملے۔ ہونہار طلبااور اساتذہ کو ان کی خدمات پر ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔

آئی این بیورو

Recent Posts

رجنی کانت کی فلم ’جیلر‘ پر شائقین کا ردعمل

رجنی کانت کی ’جیلر‘ جمعرات کو ریلیز ہوئی۔ فلم کو پہلے دن سینما گھروں میں…

9 months ago

کشمیر میں’میری ماٹی، میرا دیش‘مہم کے تحت متعدد تقریبات منعقد

مضمون نگار: زبیر قریشی میری ماٹی، میرا دیش مہم نے وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع…

9 months ago

یُگ پریورتن: جموں و کشمیر کا تبدیلی کا سفر

جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری میں تنظیم نو کے بعد ہونے والی اہم تبدیلیوں…

9 months ago

بھارت کے نقشے کی تصویر کا قالین بُننے والا کشمیری قالین باف محمد مقبول ڈار سے ملیں

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے تعلق رکھنا والا محمد مقبول ڈار نامی قالین…

9 months ago

زعفران کی آسمان چھوتی قیمت کشمیر کے کسانوں کے چہروں پر لے آئی مسکراہٹ

زعفران کی جی آئی ٹیگنگ کے بعد، کسانوں نے اس کی پیداوار میں اضافہ کیا…

9 months ago

لال چوک پر تجدید شدہ کلاک ٹاور سری نگر کے قلب میں لندن کی جھلک کررہا ہے پیش

سری نگر میں، لال چوک پر نئے تجدید شدہ تاریخی کلاک ٹاور ایک خوشگوار حیرت…

9 months ago