Urdu News

جامعہ ملیہ اسلامیہ تحریک آزادی کی پیداوار ہے: پروفیسر شہزاد انجم

جامعہ ملیہ اسلامیہ تحریک آزادی کی پیداوار ہے

شعبۂ  اردو کے زیر اہتمام نووارد ریسرچ اسکالرز کے لیے اورینٹیشن اور تعارفی پروگرام کا انعقاد

جامعہ ملیہ اسلامیہ کوئی عام ادارہ نہیں، بلکہ یہ تحریک آزادی کی پیداوار ہے۔ جامعہ محض تعلیم گاہ ہی نہیں، ایک تہذیبی دانش گاہ ہے۔اس کے بانیان کا مقصد قوم کو محض ڈگری اور روزگار فراہم کرنا نہیں تھا۔ ان کے پیش نظر ہندوستان کی تعمیر نو تھی۔ اردو، تحریک آزادی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک ایسی تثلیث ہے جس میں کسی ایک کے بغیر قومی تصور کا یہ مثلث ناقص ہوگا۔ شعبہ اردو سے درجنوں نابغۂ روزگار شخصیات وابستہ رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شعبہ اردو کے زیراہتمام نووارد ریسرچ اسکالرز کے لیے منعقدہ اورینٹیشن اور تعارفی پروگرام میں صدر شعبہ پروفیسر شہزاد انجم نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔

 ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول نے نئے ریسرچ اسکالرز کو تحقیقی عمل کی سنجیدگی، عرق ریزی، مسائل و مشکلات اور اس کے مختلف لوازم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ مطالعہ، مشاہدہ، علما کی صحبت اور مستقل غور و فکر سے ہی تحقیق معنی خیز اور وقیع ہوتی ہے۔ کلاسیکی ادب کے رمز شناس پروفیسر احمد محفوظ نے جامعات میں تحقیقی معیار کی زوال آمادگی اور غیر سنجیدہ رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علم، تحقیق و تنقید اور ادبی وابستگی کے جذبے میں کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں بیشتر پی ایچ۔ ڈی مقالوں نے اس اعلیٰ ترین تعلیمی سند کے وقار و اعتبار کو مجروح کیا ہے۔ ایسے حالات میں نئے ریسرچ اسکالرز کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں۔ معروف تہذیب شناس پروفیسر کوثر مظہری نے تن آسانی، سہل انگاری، تقلیدی رجحان اور تساہل سے گریز اختیارکرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالر کو بے باکی، انحراف، دیانت اور شفافیت کے ساتھ اپنا تحقیقی و تنقیدی سفر جاری رکھنا چاہیے۔ بزم جامعہ کے ایڈوائزر ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ انسانی ارتقا کا راز تحقیق میں پوشیدہ ہے۔

 اس نے ہجری دور سے لے کر ڈیجیٹل عہد تک کا سفر اسی تحقیق کی بنیاد پر طے کیا ہے۔ آج کے مشینی دور میں زبان و ادب کی اہمیت و افادیت جذباتی، اخلاقی و روحانی اقدار کی بازیافت کے حوالے سے مزید فزوں تر ہوگئی ہے۔ اس موقعے پر تقریباً تین درجن نووارد ریسرچ اسکالرز نے اپنا ذاتی تعارف اور علمی و ادبی مشاغل کی تفصیلات پیش کیں۔تعارفی سیشن کی نظامت کے فرائض شعبے کی ریسرچ اسکالر صدف نایاب نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز توحید حقانی کی تلاوت اور اختتام ذیشان رضا کے اظہار تشکر پر ہوا۔ اس موقعے پر پروفیسر خالد جاوید، پروفیسر ندیم احمد، ڈاکٹر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سرور الہدیٰ، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹرثاقب عمران، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر روبینہ شاہین زبیری اور ڈاکٹر آس محمد صدیقی کے علاوہ شعبے کے ریسرچ اسکالرز موجود تھے۔

Recommended