وزیر اعظم نے قومی تعلیمی پالیسی 2020ء کی پہلی سالگرہ کے موقع پر تعلیم سے وابستہ افراد کو خطاب کیا

https://urdu.indianarrative.com/P_M_Modi_addressed_IIT-2020_Global_Summit.JPG

کھلا پن اور دباؤ کی عدم موجودگی نئی تعلیمی پالیسی کی اہم خصوصیات :وزیر اعظم

 نئی دہلی،29؍جولائی2021:

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے قومی تعلیمی پالیسی 2020ء کے تحت اصلاحات کے ایک سال پورا ہونے کے موقع پر ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے ملک بھر میں تعلیم اور صلاحیت سازی کے شعبے میں پالیسی سازوں، طلباء اور اساتذہ کو خطاب کیا۔انہوں نے تعلیم کے شعبے میں متعدد  پہلوں کا بھی مبارک آغاز کیا۔

نئی تعلیمی پالیسی کے ایک سال مکمل ہونے پر ملک کے عوام اور طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کووڈ-19کے مشکل دور میں بھی نئی تعلیمی پالیسی کو زمینی سطح پر اُتارنے میں اساتذہ ، پروفیسروں ، پالیسی سازوں کی کڑی محنت کی ستائش کی۔وزیر اعظم نے ’’آزادی کا اَمرت مہوتسو‘‘کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی اس اہم مدت میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری مستقبل کی ترقی اور پیش رفت ہمارے نوجوانوں کو دی جانے والی تعلیم کی سطح اور سمت پر منحصر ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ قومی ترقی کے مہایگیہ میں یہ ایک بہت بڑا سبب ہے۔

وزیر اعظم نے وباء کے ذریعے لائی گئی تبدیلیوں اور طلباء کے لئے آن لائن تعلیم کس طرح عام ہوگئی، اس پر خاص طور سے زور دیا اور کہا کہ دیکچھا(دیکشا) پورٹل پر 2300کروڑ سے زیادہ ہِٹ، دیکچھا اور سوئیم جیسے پورٹلوں کی اہمیت کی گواہی دیتے ہیں۔

وزیر اعظم نے چھوٹے شہروں کے نوجوانوں کے ذریعے کی گئی پیش رفت کو نوٹ کیا۔انہوں نے ایسے شہروں کے نوجوانوں کے ذریعے ٹوکیو اولمپک میں شاندار مظاہرے کا حوالہ دیا۔انہوں نے روبوٹکس ،اے آئی ، اسٹارٹ اَپ اور صنعت 4.0میں ان کی قیادت کے شعبوں میں نوجوانوں کی کوششوں کی ستائش کی۔انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان نسل کو اُن کے خوابوں کے لئے مناسب ماحول ملے تو ان کی ترقی کی کوئی حد نہیں ہے۔انہوں نے زور دے کہا کہ آج کا نوجوان اپنے سسٹم اور اپنی دنیا کو اپنی شرطوں پر طے کرنا چاہتا ہے۔انہیں جوکھم اور رُکاوٹوں و پابندیوں سے آزادی کی ضرورت ہے۔نئی تعلیمی پالیسی ہمارے نوجوانوں کو یقینی دلاتی ہے کہ ملک پوری طرح سے اُن کے اور اُن کی خواہشات کے ساتھ ہے۔آج شروع کیا گیا آرٹیفیشل انٹلی جنس پروگرام طلباء کو مستقبل کے لئے تیار کرے گا اور اے آئی –سے چلنے والی معیشت کا راستہ ہموار کرے گا۔اسی طرح قومی ڈیجیٹل تعلیم فن تعمیر ،(این ڈی ای اے آر)اور قومی تعلیمی ٹیکنالوجی فورم (این ای ٹی ایف)پورے ملک کو ایک ڈیجیٹل اور تکنیکی ڈھانچہ مہیا کرنے میں ایک لمبا سفر طے کریں گے۔

وزیر اعظم نے نئی تعلیمی پالیسی میں کھلے پن اور دباؤ کی عدم موجودگی پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پالیسی کی سطح پر کھلا پن ہے اور طلباء کے لئے دستیاب متبادل میں بھی کھلا پن دکھائی دیتا ہے۔کثیر رُخی داخلہ اور انخلاء جیسے متبادل طلباء کو ایک درجہ اور ایک نصاب میں رہنے کی پابندی سے آزاد کریں گے۔اسی طرح جدید تکنیک پر مبنی اکیڈمک بینک آف کریڈٹ سسٹم ا نقلابی تبدیلی لائے گا۔اس سے طلباء میں اسٹریم اور نصاب کے انتخاب میں خود اعتمادی آئے گی۔’’لرننگ لیول  کے تجزیے کے لئے اسٹرکچرڈاسسمنٹ‘‘(ایس اے ایف اے ایل) امتحان کا خوف دور کرے گا۔وزیر اعظم نے دوہرایا کہ نئے پروگراموں میں ہندوستان کی تقدیر کو بدلنے کی صلاحیت ہے۔

مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ہدایات  کی بنیاد کی شکل میں مقامی زبانوں کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر اعظم نے بتایا کہ 8ریاستوں کے 14 انجینئرنگ کالج 5ہندوستانی زبانوں ہندی، تمل، تیلگو، مراٹھی اور بنگلہ میں تعلیم دینا شروع کررہے ہیں۔انجینئرنگ کے نصاب کا 11 زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لئے ایک آلہ وضع کیا گیا ہے۔تعلیم کی بنیاد کی شکل میں مادری زبان پر زور دینے سے غریب، دیہی اور قبائلی پس منظر کے طلباء میں خود اعتمادی پیدا ہوگی۔ ابتدائی تعلیم میں بھی مادری زبان کو بڑھاوا دیا جارہا ہے  اور آج شروع کیاگیا ودیا پرویش پروگرام ، اس میں بڑا کردار ادا کرے گا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستانی اشاراتی زبان کو پہلی بار ایک زبانی نصاب کا درجہ دیاگیا ہے۔ طلباء اسے زبان کے طورپر بھی پڑھ سکیں گے۔ تین لاکھ سے زیادہ  طلباء ایسے ہیں، جنہیں اپنی تعلیم کے لئے اشاراتی زبان کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے ہندوستانی اشاراتی زبان کو فروغ ملے گا  اور  معذور افراد کو مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے اساتذہ کے اہم رول کو نشان زد کرتے ہوئے بتایا کہ تیاری کے مرحلے سے لے کر عمل درآمد تک اساتذہ نئی تعلیمی پالیسی کا سرگرم حصہ ہیں۔آج لانچ کیا گیا نشٹھا2.0اساتذہ کو اُن کی ضرورت کے مطابق تربیت دے گا اور وہ محکمے کو اپنے مشورے دینے کے اہل ہوسکیں گے۔

وزیر اعظم نے اکیڈمک بینک آف کریڈٹ کا آغاز کیا ، جو اعلیٰ تعلیم میں طلباء کے لئے کثیر داخلے اور انخلاء کا متبادل مہیا کرے گا۔ علاقائی زبانوں میں پہلے سال کے انجینئرنگ پروگرام اور اعلیٰ تعلیم کو بین الاقوامی رُخ دینے میں بھی یہ اہم رول ادا کرے گا۔ جو پہل شروع کی گئی ہے انُن میں ودیا پرویش بھی شامل ہے، جو گریڈ ون کے طلباء کے لئے تین مہینے کا ناٹک پر مبنی تیاری ماڈیول وضع کرے گا۔سکینڈری سطح پر ایک مضمون کی شکل میں ہندوستانی اشاراتی زبان نشٹھا2.0 این سی ای آر ٹی کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا اساتذہ کی تربیت کا ایک جدید پروگرام ہے۔ ایس اے ایف اے ایل(سیکھنے  کی  سطح  کےتجزیے کے لئے ڈھانچہ جاتی نمونہ)، سی بی ایس ای اسکولوں میں گریڈ 3،5 اور8 کے لئے ایک اہلیت پر مبنی تجزیاتی ڈھانچہ اور آرٹیفیشل انٹلی جنس  کو وقف ایک ویب سائٹ ۔ اس پروگرام میں قومی ڈیجیٹل تعلیمی فن تعمیر (این ڈی ای اے آر)اور قومی تعلیمی تکنیکی فورم (این ای ٹی ایف)کا مبارک آغاز بھی کیا گیا ۔