Urdu News

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سوشل ورک شعبے کے طلبا جرمنی میں اپلائیڈ سائنسز کی یونیورسٹی میں اکیڈمک ایکسچینج پروگرام میں کی شرکت

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سوشل ورک شعبے کے طلبا جرمنی میں اپلائیڈ سائنسز کی یونیورسٹی میں اکیڈمک ایکسچینج پروگرام میں کی شرکت

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ سوشل ورک کے سوشل ورک میں ماسٹر(ایم ایس ڈبلیو)کرنے والے دس طلبا مع دو فیکلٹی اراکین (پروفیسر ویریندرا بالا جی شہارے اور ڈاکٹر لال ہمنگاوی گنگٹے)کے جرمنی، ایر فرٹ کی اپلائیڈ سائنز کی یونیورسٹی (فکنشولے) میں یکم جون سے بارہ جون دوہزارتیئس کے درمیان بارہ دنوں کے اکیڈمک ایکسچینج پروگرام میں شریک ہوئے۔پروگرام میں سمینار،ورکشاپ، بچوں کے حقوق،معذوریت،پناہ گزیں،نقل مکانی والی آبادی،صنف اور بزرگوں کی آبادی کے کاموں میں مصروف مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے دورے شامل تھے۔

اس ایکسچینج پروگرام کو جرمن اکیڈمک ایکسچینج سروس(ڈی اے اے ڈی) نے مالی تعاون دیا ہے جس سے جامعہ اور فنکشولے کے درمیان دودہائیوں کی ساجھیداری کا نئی اڑان ملی ہے۔ پروگرام کا خاکہ اپلائیڈ سائنسز یونیورسٹی ایر فرٹ کی پروفیسر کرسٹین ریہکلاؤاورڈاکٹر امریتا مونڈل نے تیار کیا تھا۔ہندوستانی طلبا و فیکلٹی کے وفد کے حالیہ جرمنی دورے سے پہلے جرمنی کے ان کے ہم منصب نے فروری۔مارچ 2023میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔

 ایکسینچ پروگرام نے ہندوستانی طلبا کے لیے جرمنی کے سوشل ورک ماہرین،محققین، پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل،سلوینیا، اٹلی،بوسنیا،ہرزیگوینا اور پولینڈ کے ماہرین کے ساتھ بھی نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کیے ہیں۔

جرمنی میں سوشل ورک پریکٹس کا سماجی چیلنجیز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے تدارکی تدبیر اور ابتدائی مداخلت پر خاص زور ہوتاہے۔ہندوستان میں سوشل ورک سے وابستہ ماہرین اس پہلو کو بروئے کار لاکر افراد اور جماعتوں پر ہونے  والے طویل مدتی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مسائل کی نشان دہی کرسکتے ہیں۔خاص ہندوستانی سماج کے فریم ورک میں بعینہ ایسے ہی اپروچ کو اپنانے کے لیے نئے ابھرتے ہوئے سوشل ورکروں کو یہ معلومات ابھارتی ہے۔

 جرمنی میں اپنے قیام کے دوران طلبا اور فیکلٹی اراکین نے آٹھ جون سے دس جون دوہزارتیئس کو ایک بین الاقوامی سوشل ورک کانفرنس میں حصہ لیا۔ایم اے سوشل ورک کے آخر سال کے طلبا نے کانفرنس کے اجلاس میں اپنا ڈیزرٹیشن مقالہ پیش کیا۔پروفیسر ویریندرا بالا جی شہارے اور ڈاکٹر لال ہمنگاوی گنگٹے نے نوجوانوں کے لیے ہندوستان میں پسماندہ گروپس اور ذہنی صحت کے موضوعات پر ورکشاپ منعقد کیے۔بین الاقوامی کانفرنس میں سوشل ایکشن،پسماندہ طبقات،سماجی انصاف،مینٹل ہیلتھ،سوشل ورک اسٹارٹ اپ اور خاص سوشل ورک سمیت سوشل ورک کے مختلف اور متنوع موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ان اجلاسوں میں طلبا کو اس بات کا موقع ملا کہ وہ دنیا بھر میں سماجی مسائل سے نبر دآزما ہونے کے لیے مختلف اپروچیز کو اپناتے ہوئے اپنی تحقیق پیش کریں،افکار و خیالات کا لین دین ہو اور ساتھ ہی انھیں بصیرت اور بیش قیمت تجربات حاصل ہوں۔ متنوع تناظرات کے ساتھ ساتھ تدریسی طریقیات اور تحقیق پریکٹسس سے طلبا کا سامنا ہوا جن سے ا ن کی اکیڈمک نقطہ نظر وسیع ہوااور ان کی شخصیت کا فروغ بھی ہوا۔

تہذیبی ادغام وانضمام کی اہمیت جانتے ہوئے پروگرام میں ایسی سرگرمیاں بھی رکھی گئی تھیں جو ہندوستان اور جرمن مطالعات کی تفہیم کوفروغ دیتاہے۔طلبا اور فیکلٹی اراکین کو اس بات کا موقع ملا کہ وہ تہذیبی وثقافتی پروگرام،کمیو نی ٹی کے ساتھ بات چیت،تاریخی مقامات کی سیر،ہولوکاسٹ یادگاری میں حصہ لیں۔ اس سے ایک دوسرے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور ایک دوسرے کی روایات،طرز زندگی اور تاریخی ارتقا کو سمجھنے میں بھی معاونت ہوتی ہے۔

Recommended