Urdu News

صدرِ جمہوریۂ ہند نے تیز پور یونیورسٹی کے 19 ویں تقسیمِ اسناد کے جلسے میں شرکت کی

صدر جمہوریۂ ہند جناب رام ناتھ کووند

 

نئی دلّی ،26 فروری / صدر جمہوریۂ ہند جناب رام ناتھ کووند نے کہا ہے کہ تیز پور یونیورسٹی  کی برادری کو مقامی اور قومی مسائل کا اختراعی حل فراہم کرنا چاہیئے ۔ وہ آج (26 فروری  ، 2022 ء ) آسام کے تیز پور میں تیز پور یونیورسٹی کے 19ویں تقسیمِ اسناد  کے جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تیز پور یونیورسٹی کے طلباء اور فیکلٹی کو اسے جدت طرازی کا ایک بڑا مرکز بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ انہوں نے  ، ان پر زور دیا کہ وہ کمیونٹی کی شرکت کی حوصلہ افزائی کریں اور مقامی اور قومی مسائل کے حل کے لئے  مقامی وسائل کا استعمال کریں۔ آسام کے بہت سے دیہاتوں تک پینے کے صاف پانی کو پہنچانے کے لئے  تیز پور یونیورسٹی کی طرف سے فراہم کردہ اختراعی حل کے بارے میں  ذکر  کرتے ہوئے انہیں خوشی  کا اظہار کیا ۔  انہوں نے کہا کہ دیہات کے ساتھ یونیورسٹی کے روابط کا دائرہ مزید وسیع کیا جانا چاہیئے ۔  یہ یونیورسٹی  اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت مجموعی ترقی کے لئے کچھ گاؤوں  کو اپنا سکتی ہے۔

         صدر جمہوریہ نے کہا کہ آسام کو قدرت کی غیر معمولی خوبصورتی اور بھرپور حیاتیاتی تنوع سے نوازا گیا ہے۔ اس کا تحفظ کرنا ہوگا۔ آسام کے ہر باشندے کو، خاص طور پر نوجوانوں کو تحفظ اور پائیدار ترقی کے محاذوں پر بہت فعال ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے تیز پور یونیورسٹی کے قابل تجدید توانائی کے اقدامات  ، خاص طور پر  گاؤوں میں کئے گئے اقدامات پر خوشی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کرہ ارض کو سرسبز و شاداب رکھنے  کے لئے نوجوان آبادی کی زیادہ ذمہ داری ہے اور انہیں اپنے عمل سے زیادہ بیداری کا مظاہرہ کرنا  چاہیئے ۔

         صدر جمہوریہ نے کہا کہ آسام نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں ایک قابل ستائش کام کیا ہے۔ کازی رنگا نیشنل پارک اور ٹائیگر ریزرو کے ساتھ ساتھ ہاتھی ریزرو بھی تحفظ کی شاندار مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ ہر شہری  ، خاص طور پر طلباء  کے لئے اہم لفظ ہونا چاہیئے ۔

اس با ت کا ذکر کرتے ہوئے کہ شمال مشرقی ریاستوں نے نامیاتی کھیتی کو اعلیٰ ترجیح دی ہے ، صدر  جمہوریہ نے کہا کہ تیز پور یونیورسٹی ، اس خطے کی زرعی پیداوار کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہیں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی کو ’ وزیراعظم-فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز اسکیم‘ کے تحت جیک فروٹ اور اناج پر مبنی ریڈی ٹو ایٹ مصنوعات تیار کرنے کے لئے ایک انکیوبیشن سینٹر کے قیام کی منظوری ملی ہے اور  فوڈ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کو اسکیم کے نفاذ کے لئے ریاستی سطح کے تکنیکی ادارے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ آسام کے منفرد جوہا چاول کا ذکر کرتے ہوئے ، جو اپنے بہترین ذائقے اور خوشبو کے لئے جانا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ آسام کی یونیورسٹیاں چاول کی اس منفرد قسم کی برانڈنگ، مقبولیت اور مارکیٹنگ کے ذریعے کسانوں کی مدد کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی بہت سی زرعی مصنوعات ہیں ، جن کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کووڈ وباء کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، صدر جمہوریہ نے کہا کہ وبائی مرض نے ہمارے لوگوں کے نسبتاً کمزور طبقوں کی تعلیم پر سنگین اثرات مرتب کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی – 2020  ، جو وبائی امراض کے دوران جاری کی گئی تھی  ، اس میں ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈجیٹل تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کو زیادہ قابل رسائی بنانے کے پیش نظر ، مرکزی حکومت نے ملک بھر کے طلباء کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لئے ایک ڈجیٹل یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جس میں طلباء کو ، اُن کی  دہلیز پر آموزش  کا ذاتی تجربہ حاصل ہو گا ۔ ڈجیٹل یونیورسٹی مختلف ہندوستانی زبانوں اور آئی سی ٹی فارمیٹس میں تعلیم فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تیز پور یونیورسٹی آسامی اور شمال مشرق کی دیگر زبانوں میں اعلیٰ معیار کا ڈجیٹل مواد فراہم کر کے، اس اقدام میں ایک فعال حصہ دار بن سکتی ہے۔

         صدر جمہوریہ نے تیز پور یونیورسٹی کی پوری ٹیم پر زور دیا کہ وہ ماضی، حال اور مستقبل کے طلباء کو اتحاد کے جذبے سے باندھے رکھیں اور یونیورسٹی کے قائم کردہ اہداف – ژوپان بوگام تیبرو گوترے کی جانب تیزی سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ 2047 ء تک ہندوستان کے ایک بہت زیادہ خوشحال اور مضبوط ملک کے طور پر ابھرنے کی خاطر اہم اہداف حاصل کرنے کی جانب ، اُس وقت بامعنی  تعاون حاصل ہو گا ، جب آج کے طلباء ، اُس وقت کے فیصلہ ساز  ہوں گے ۔  انہوں نے کہا کہ آزادی کے  بعد سے 75 سال کا جشن ، ’ آزادی کا امرت مہوتسو‘ منانے  کا حقیقی جذبہ اب تک حاصل کی گئی آموزش اور اعلیٰ مقاصد کو حاصل کرنا ہے ۔ انہوں نے تیز پور یونیورسٹی پر زور دیا کہ وہ مستقبل قریب میں این آئی آر ایف رینکنگ میں اعلیٰ ترین 10 یونیورسٹیوں میں شامل ہونے کی کوشش کرے۔

Recommended