ہمیں فالو کریں

JNU صدر جمہوریۂ ہند نے جے این یو کے چوتھے سالانہ جلسۂ اسناد سے ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا

بھارت کے تمام حصوں سے اور معاشرے کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں سب کے لیے یکساں مواقع کے ماحول میں تعلیم پاتے ہیں۔ مختلف کیریئروں کی آرزو رکھنے والے طلبا جے این یو میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ یونیورسٹی شمولیت، گوناگونیت اور مہارت کے امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ بات صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے آج (18 نومبر 2020 کو) ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے جے این یو کے چوتھے سالانہ جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

I N Bureau Updated November 19, 2020 6:42 IST
JNU symbol of excellence in higher education
JNU symbol of excellence in higher education

جے این یو، شمولیت، گوناگونیت اور مہارت کے امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے: صدر جمہوریۂ ہند جناب کووند

صدر جمہوریۂ ہند نے جے این یو کے چوتھے سالانہ جلسۂ اسناد سے ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا

President of India addresses The 4th Annual Convocation of JNU through a Video Message          بھارت کے  تمام حصوں سے اور معاشرے کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے طلبا جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں  سب کے لیے یکساں مواقع کے ماحول میں تعلیم پاتے ہیں۔ مختلف کیریئروں کی آرزو رکھنے والے طلبا جے این یو میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ یونیورسٹی شمولیت، گوناگونیت اور مہارت کے امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ بات صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے آج (18 نومبر 2020 کو) ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے جے این یو کے  چوتھے سالانہ  جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

JNU وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے جے این یو کیمپس میں سوامی وویکانند کے مجسمے کی نقاب کشائی کیجے این یو میں صدر جمہوریہ کا خطبہ

صدر جمہوریہ نے کہا کہ  بھارتی کلچر کے تمام پہلوؤں کی جے این یو میں عکاسی ہوتی ہے۔ کیمپس میں عمارتوں، ہوسٹلوں، سڑکوں اور شعبوں کے نام بھارتی ورثے سے ماخوذ ہیں۔ یہ بہترین طریقے پر بھارت کی ثقافتی اور جغرافیائی تصویر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ ہندوستانیت جے این یو کا ورثہ ہے اور اس کا تحفظ کرنا اس کا فرض ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ جے این یو کے بہترین اساتذہ رائے کے اختلاف کے لیے آزادانہ بحث ومباحثے اور احترام کے لیے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ علم سیکھنے میں طلبا کے ساتھ ساتھیوں جیسا رویہ اختیار کیا جاتاہے جو کہ اعلیٰ تعلیم کے معاملے میں ہونا چاہیے۔ یہ یونیورسٹی سرگرم بحث ومباحثے کے لیے جانی جاتی ہے جو کلاس روم کے باہر بھی کیفیٹیریا اور ڈھابوں میں ہر وقت  سننے میں آتا ہے۔

قدیم بھارت میں علم اور تحقیق کے شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ  آج کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہم تکشاشیلا، نالندا، وکرم شیلا اور ولّابھائی یونیورسٹیوں سے فیضان حاصل کرسکتے ہیں جنھوں نے علم  اور تحقیق کے اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔ پوری دنیا سے اسکالر اور طلبا خصوصی علم حاصل کرنے کے لیے ان مراکز میں آیا کرتے تھے۔

جے این یو جدید اور قدیم کا سمگم ہے

اس قدیم نظام نے جس میں جدیدیت کے بھی بہت سے عناصر تھے، عظیم اسکالر پیدا کیے۔ مثلاً چرخ، آریا بھٹ، چانکیہ، پانینی، پتانجلی، گارگی، میتری اور تھیرولّوور۔ انھوں نے طبی سائنس، ریاضیات، علم فلکیات، گرامر اور سماجی ترقی میں قابل قدر رول  ادا کیا۔ دنیا کے دوسرے حصے کے لوگوں نے بھارتی اسکالروں کی کتابوں کا ترجمہ کیا.  اور علم کو معلومات کو آگے بڑھانے میں استعمال کیا۔ آج کے بھارتی اسکالروں کو چاہیے کہ وہ  علم کا ایسا اصل ادارہ قائم کریں.  جسے عصری، عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ جے این یو اعلیٰ تعلیم کے ان منتخب اداروں میں شامل ہے جو عالمی طور پر ناقابل تسخیر مہارت تک پہنچ سکتے ہیں۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں اسناد کی تقسیم JNU

کووڈ-19 وبائی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا.  کہ آج دنیا اس وبائی بیماری کی وجہ سے بحران کے دور میں ہے۔ وبائی بیماری کے موجودہ پس منظر میں 2020 کی قومی تعلیمی پالیسی میں کہا گیا ہے.  کہ یہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ انفیکشن والی  بیماریوں، وبائی بیماریوں سمیات، علم تشخیص، سازینہ کاری، ویکسین تیار کرنے.  اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تحقیق کے کام میں قیادت کریں۔متعلقہ سماجی مسائل کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے.   خاص طور پر ہمہ جہت، حکمت عملی کے ذریعے۔ اس کوشش میں جے این یو جیسی یونیورسٹیوں کو صف اوّل میں ہونا چاہیے.  تاکہ آسانی سے استعمال کرنے والی  چھوٹی چھوٹی مشینیں ایجاد کریں اور طلبا طبقوں کے مابین اختراع کو فروغ دیں۔

JNU Represents Blending of Inclusion, Diversity and Excellence: President Kovind

To Top