Urdu News

غیر فیچر فلموں کو تھیٹروں اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمس پر زیادہ مواقع دیئے جانے کی ضرورت ہے

او ٹی ٹی پلیٹ فارمس

 

’’وید دی ویژنری‘‘ پہلی فلم ہے جسے دیکھنے کے بعد جیوری  کے تمام ارکان نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ یہ ایک غیر معمولی فلم ہے۔ اس معاملے میں بالکل بھی  کوئی بحث ومباحثہ نہیں ہوا۔ جیوری نے بھارت کے 52  ویں بین الاقوامی فلمی میلے کے غیر فیچر فلم کے سیکشن میں، بھارتی پینورما کی افتتاحی فلم کی حیثیت سے اس فلم کے لئے اتفاق رائے سے ووٹ کیا۔

یہ فلم فیسٹول،   20 تا 28 نومبر  2021 سے گوا میں منعقد ہو رہا ہے۔ غیر فیچر فلموں کے بھارتی پینورما کے ڈائریکٹر، فوٹو گرافر اور   چیئر پرسن جناب سُبیاہ نلّا مُٹھو نے آج گوا میں ایک پریس  کانفرنس کے دوران یہ بات کہی۔ اس پریس کانفرنس کے دوران جیوری کے ارکان  نے میڈیا کے افراد کے ساتھ بات چیت کی۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/12-1R3ED.jpg

 

جناب نلّا مُٹھو نے کہا  کہ ’’فلم کا آخری اہم سین دیکھنے کے بعد (جوکہ 1975- 1939 کے دوران خبروں کا احاطہ کرنے سے متعلق وید پرکاش کے سفر کے بارے میں ہے اور اس میں جنوری 1948  میں مہا تما گاندھی کی آخری رسوم کا احاطہ بھی شامل ہے) اور یہ دیکھنے کے بعد کہ انہوں نے تمام پریس کارڈس، شناختی کارڈس اور پاسپورٹ ایک جگہ رکھے ہیں، میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان سب کو حاصل کرنا بہت مشکل ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ میں واقعی چاہتا ہوں کہ دنیا بھر کے نوجوان افراد کو ، جو درحقیقت  کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس فلم کو دیکھنا چاہئے۔ اور اس فلم کو طلباء کو بھی دکھانا چاہئے۔



https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/12-2OFWV.jpg

معروف ڈاکیو مینٹری فلم ساز نے بتایا کہ کس طرح جیوری کے ارکان نے بہترین غیر فیچر فلموں کو منتخب کرنے کی غرض سے معیار کی شناخت کے طریق کار کا استعمال کیا۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح ، ایک فلم کو منتخب کرنے کے دوران فلم کے تمام پہلوؤں پر، چاہے وہ فلم کا مواد ہو، کہانی بیان کرنے کا طریقہ ہو، فلم کی زبان ہو  یا سماجی اُمور ہوں اور ان پر فلم کے اثرات ہوں، سب پہلوؤں پر غور وخوض کیا گیا تھا۔

مراٹھی زبان میں بڑی تعداد میں غیر فیچر فلمیں موصول ہونے  کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے  ریاستی حکومت کے ذریعہ کی گئی  پہل قدمیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ  اس پہلو سے، جہاں تھیٹروں کے لئے مراٹھی فلموں  کے لئے گنجائش فراہم کرنا لازمی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ بہت سے فلم ساز  مراٹھی زبان میں  بعض مختصر فیکشن فلمیں بنارہے ہیں۔ اسی طرح ہر ریاست کو کچھ  پہل قدمیاں کرنہ چاہئیں۔

انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ  ایک ایسی لازمی  پالیسی وضع کی جانی چاہئے جس کے تحت غیر فکشن فلموں کو بھی  تھیٹروں میں دکھا یا جائے تاکہ کافی تعداد میں لوگ آسانی سے ان کی بنائی گئی فلموں کو دیکھ سکیں۔ غیر فیچر فلموں کے ناظرین کی تعداد میں اضافے کے مقصد سے، انہوں نے مطلع کیا کہ دور درشن پر  ڈاکیو مینٹری فلموں کے نمائش  کے لئے یہ  معاملہ وزارت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے تاکہ ان فلموں کو ایک پلیٹ فارم دستیاب ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر فکشن فلمیں بنانے والوں کے لئے یہ بہت مشکل ہے کیونکہ انہیں اپنی فلموں کی نمائش کے لئے محض چند مقررہ جگہیں ہی دستیاب ہیں۔

انہوں نے  او ٹی ٹی پلیٹ فارمس  پر بھی  غیر فیچر فلموں کے لئے گنجائش  کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دور درشن یا نیٹ  فلیکس پر سلاٹ دستیاب نہیں ہے جوکہ عام  طور پر ’’پلینیٹ ارتھ‘‘ (کرہ ارض) جیسی  بڑی فلموں کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

ہر سال کافی تعداد میں فلموں موصول ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے تجویز پیش کی کہ ریاستی سطح پر، جہاں انہیں منتخب کیا جاتا ہے، ایک بنیادی جانچ  پڑتال کا نظام ہونا چاہئے۔ جس کے سبب ان فلموں کو حتمی طور پر منتخب کرنے کے لئے جیوری کے حوالے  کیا جاسکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/12-3PN34.jpg

 

مصنفہ اور غیر فیچر فلموں کے پینل کے ارکان میں شامل رکن محترمہ منیشا کُل شریسٹھ نے مطلع کیا کہ خواتین فلم سازوں کی تعداد اچھی خاصی ہے اور خواتین سے متعلق امور یا اُن پر مرکوز فلموں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔

جیوری درج ذیل ارکان پر مشتمل ہے۔

  1. جناب سُبیاہ نلّا مُٹھو –   چیئر پرسن
  2. جناب اکشادتیہ لاما- فلم ساز
  3. جناب سیبا نو بورہ –  ڈاکیو مینٹری فلم ساز
  4. جناب سریش شرما- فلم  پروڈیوسر
  5. جناب سُبرت جیوتی نیوگ – فلم نقاد
  6. محترمہ منیشا کُل شریسٹھ –  مصنفہ
  7. جناب اَتپل گنگوار – مصنف

Recommended