Urdu News

جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار

جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار

جموں و کشمیر میں بلیک فنگس وبائی مرض قرار

جموں و کشمیر انتظامیہ نے پیر کے روز بلیک فنگس یا میوکورمائیکوسز کو ایک وبائی مرض قرار دیا ہے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت بلیک فنگس کو وبائی مرض قرار دیا گیا ہے بتا دیں کہ جموں میں 21 مئی کو بلیک فنگس کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا اور ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے اس مریض، جو کورونا سے صحتیاب ہوا تھا، کی اسی دن گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں موت واقع ہوئی تھی۔

وادی کشمیر میں بھی سال رواں کا پہلا بلیک فنگس معاملہ سامنے آیا ہے اور مریض اس وقت گورنمنٹ ڈینٹل کالج سری نگر میں زیر علاج ہے۔قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں سال گزشتہ بلیک فنگس کے قریب نصب درجن معاملے سامنے آئے تھے جن میں سے تین کی موت واقع ہوئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلیک فنگس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلنے والی بیماری نہیں ہے۔پرنسپل جی ایم سی جموں ڈاکٹر ششی سودن کے مطابق بلیک فنگس کوئی نیا انفیکشن نہیں ہے۔انہوں نے کہا: 'یہ انفیکشن ایک مریض سے دوسرے مریض کو نہیں پھیلتا ہے۔ یہ انفیکشن ان مریضوں پر حملہ آور ہوتا ہے جو طویل عرصے سے جسمانی پیچیدگیوں میں مبتلا ہوں'۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'اگر کوئی مریض سٹیرائڈز کھا رہا ہے یا کوئی ذیابیطس کا مریض ہے وہ اپنی شوگر لیول کو قابو میں رکھیں۔ اگر کسی کو کووڈ ہے اور وہ سٹیرائڈ بھی کھا رہا ہے تو اسے بھی اپنی شوگر لیول پر نظر رکھنی چاہیے'۔ایک رپورٹ کے مطابق میوکورمائیکوسز یا بلیک فنگس ایک انتہائی نایاب قسم کا انفیکشن ہے جو کہ مٹی، پودوں، کھاد اور گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والی پھپپوندی سے پھیلتا ہے۔

یہ انفیکشن ناک کی نالیوں، دماغ اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے لوگوں جن کا مدافعاتی نظام انتہائی کمزور ہو جیسے کہ ایڈز یا سرطان کے مریض، ان کے لیے یہ انفیکشن مہلک بھی ہو سکتا ہے۔

Recommended