Urdu News

حکومت نے ،آکسیجن کنسنٹریٹرس پر تجارتی مارجن کی حد ،مقرر کی

آکسیجن کنسنٹریٹرس

 نئی دہلی،  04 جون2021:  کووڈ وبا کے باعث ابھرنے والی غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں ، جس کی وجہ سے آکسیجن کنسنٹریٹرس کی  زیادہ سے زیادہ خردہ قیمتوں( ایم آر پی )  میں حال ہی میں بھونچال  آگیا تھا، حکومت نے آکسیجن کنسنٹریٹرس کی قیمت  کو باضابطہ بنانے میں مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا۔سرکار کے ذریعہ حاصل معلومات کے مطابق ،ڈسٹری بیوٹر کی سطح پر  مارجن  اس وقت  198 فیصد تک ہے۔

وسیع تر مفاد عامہ  میں  ڈی پی سی او 2013  کے  پیرا  نمبر 19 کے تحت  غیر معمولی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ، ایم پی پی اے نے  آکسیجن کنسنٹریٹرس  کی قیمتوں پر،تجارتی مارجن کو  ڈسٹری بیوٹر ( پی ٹی ڈی ) کی سطح پر 70، فیصد تک کی حد تک مقرر کردیا۔اس سے قبل فروری 2019 میں این  پی پی اے نے انسداد کینسر کی ادویہ پر تجارتی مارجن  پر بھی کامیابی کے ساتھ حد مقرر کی تھی۔نوٹیفائڈ  تجارتی مارجن  پر مبنی  این پی پی اے نے  مینوفیکچرنگ نیز  درآمد کاروں کو ، تین دن کے اندر اندر  نظرثانی شدہ زیادہ سے زیادہ قیمت کی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ان نظرثانی شدہ  زیادہ سے زیادہ خردہ قیمتوں کو  این پی پی اے کے ذریعہ ایک ہفتہ کے اندر اندر پبلک ڈاؤمن میں  مطلع کیا جائے گا۔

ہر ایک  خردہ بیوپاری ، ڈیلر ، اسپتال  اور اداروں کو  ، مینوفیکچرر کے ذریعہ فراہم کردہ قیمت کی فہرست  لگانی ہوگی ، جو کہ کاروبار کی جگہ پر کسی ایسے مقام پر اس  طرح سے چسپاں ہو ، جسےتک   ہر وہ  شخص  آسانی سے رسائی   اور اس کے بارے میں صلاح ومشورہ کرسکے ۔تجارتی مارجن کی حد مقرر ہونے کے بعد  نظر ثانی شدہ  زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت   کی پیروی نہ کرنے والے مینوفیکچررو ں  نیز  درآمد کاروں کو  اضافی رقم  حرجانے کے طور پر  15فیصد کی شرح سود کے ساتھ جمع کرنی ہوگی اور ادویہ (قیمتوں کے کنٹرول ) آرڈر  2013   کے ساتھ ساتھ  لازمی اشیا کے قانون  1955 کی گنجائشوں کے تحت  ان پر 100فیصد تک جرمانہ  بھی عائد کیا جائے گا۔ریاستی ادویہ کے کنٹرولر س  ( ایس  ڈی سیز ) کو  اس  آرڈر پر عمل درآمد کی نگرانی کرنی ہوگی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے  کہ  کوئی بھی مینوفیکچرر ، ڈسٹری بیوٹر ، ریٹیلر  ، آکسیجن کنسنٹریٹرز کو کسی بھی گاہک کو ایسی قیمت  پر فروخت نہ کرسکے جو نظرثانی شدہ زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت  سے تجاوز کرتی ہو۔اس کا مقصد  بلیک مارکیٹنگ  کے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔

یہ آرڈر  30 نومبر  2021 تک نافذ العمل رہے گا، جس  پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔

ملک میں  کووڈ 2.0  وبا کے تحت معاملات میں  اضافے کے ساتھ ہی  طبی آکسیجن کے  مطالبے میں  نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکار وبا کے دوران ملک میں  آکسیجن  اور آکسیجن کنسنٹریٹرز کی  بلارکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل کوششوں میں مصروف ہے۔ آکسیجن کنسنٹریٹرایک نان شیڈیول  ڈرگ ہے اور یہ اس وقت  مرکزی ادویہ معیاری  کنٹرول  تنظیم ( سی ڈی ایس سی او ) کے رضاکارانہ لائسنسنگ  طریقہ کار کے تحت  ہے۔اس کی قیمت کی ، ڈی پی سی او 2013  کی گنجائشوں کے تحت  نگرانی کی جارہی ہے۔نئی دہلی،  04 جون2021:  کووڈ وبا کے باعث ابھرنے والی غیر معمولی صورتحال کے تناظر میں ، جس کی وجہ سے آکسیجن کنسنٹریٹرس کی  زیادہ سے زیادہ خردہ قیمتوں( ایم آر پی )  میں حال ہی میں بھونچال  آگیا تھا، حکومت نے آکسیجن کنسنٹریٹرس کی قیمت  کو باضابطہ بنانے میں مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا۔سرکار کے ذریعہ حاصل معلومات کے مطابق ،ڈسٹری بیوٹر کی سطح پر  مارجن  اس وقت  198 فیصد تک ہے۔

وسیع تر مفاد عامہ  میں  ڈی پی سی او 2013  کے  پیرا  نمبر 19 کے تحت  غیر معمولی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ، ایم پی پی اے نے  آکسیجن کنسنٹریٹرس  کی قیمتوں پر،تجارتی مارجن کو  ڈسٹری بیوٹر ( پی ٹی ڈی ) کی سطح پر 70، فیصد تک کی حد تک مقرر کردیا۔اس سے قبل فروری 2019 میں این  پی پی اے نے انسداد کینسر کی ادویہ پر تجارتی مارجن  پر بھی کامیابی کے ساتھ حد مقرر کی تھی۔نوٹیفائڈ  تجارتی مارجن  پر مبنی  این پی پی اے نے  مینوفیکچرنگ نیز  درآمد کاروں کو ، تین دن کے اندر اندر  نظرثانی شدہ زیادہ سے زیادہ قیمت کی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ان نظرثانی شدہ  زیادہ سے زیادہ خردہ قیمتوں کو  این پی پی اے کے ذریعہ ایک ہفتہ کے اندر اندر پبلک ڈاؤمن میں  مطلع کیا جائے گا۔

ہر ایک  خردہ بیوپاری ، ڈیلر ، اسپتال  اور اداروں کو  ، مینوفیکچرر کے ذریعہ فراہم کردہ قیمت کی فہرست  لگانی ہوگی ، جو کہ کاروبار کی جگہ پر کسی ایسے مقام پر اس  طرح سے چسپاں ہو ، جسےتک   ہر وہ  شخص  آسانی سے رسائی   اور اس کے بارے میں صلاح ومشورہ کرسکے ۔تجارتی مارجن کی حد مقرر ہونے کے بعد  نظر ثانی شدہ  زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت   کی پیروی نہ کرنے والے مینوفیکچررو ں  نیز  درآمد کاروں کو  اضافی رقم  حرجانے کے طور پر  15فیصد کی شرح سود کے ساتھ جمع کرنی ہوگی اور ادویہ (قیمتوں کے کنٹرول ) آرڈر  2013   کے ساتھ ساتھ  لازمی اشیا کے قانون  1955 کی گنجائشوں کے تحت  ان پر 100فیصد تک جرمانہ  بھی عائد کیا جائے گا۔ریاستی ادویہ کے کنٹرولر س  ( ایس  ڈی سیز ) کو  اس  آرڈر پر عمل درآمد کی نگرانی کرنی ہوگی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے  کہ  کوئی بھی مینوفیکچرر ، ڈسٹری بیوٹر ، ریٹیلر  ، آکسیجن کنسنٹریٹرز کو کسی بھی گاہک کو ایسی قیمت  پر فروخت نہ کرسکے جو نظرثانی شدہ زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت  سے تجاوز کرتی ہو۔اس کا مقصد  بلیک مارکیٹنگ  کے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔

Recommended