Urdu News

ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے کہا کہ ویکٹر کے خاتمے کے لیے ’’لوگ بھگداری‘‘ بہت اہم ہے

مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ

 

ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے ریاستوں سے کہا کہ وہ شہریوں اور معاشرے کا تعاون حاصل کرنے کے لئے  لوگ بھاگداری (لوگوں کی شرکت) کے ساتھ جن ابھیان شروع کریں  تاکی ان کے گھر ، احاطے اور پڑوس کو  مچھروں سے پاک کرنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ ویکٹر پر قابو پانے  اور خاتمے کے لیے جن ابھیان شروع کرنے کے لیے ’’لوگ بھاگداری‘‘  بہت اہم ہے۔ آئیے ہم اپنے گھروں اور علاقوں سے شروعات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں  کہ ہمارے  پاس پڑوس میں ویکٹر کی افزائش نہ  ہو۔ مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ انہوں نے  مانسون سیزن سے قبل آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے 13 سب سے زیادہ متاثر ہونے  والی ریاستوں (اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، پنجاب، راجستھان، تریپورہ، دہلی، گجرات، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ اور تمل ناڈو)  میں  ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام اور ان پر قابو پانے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا۔ دہلی کے نائب وزیراعلی جناب منیش سسودیا،  بہار کے وزیر صحت جناب  منگل پانڈے، تمل ناڈو  کے وزیر صحت تھرو ما سبرامنین، جھارکھنڈ کے وزیر صحت جناب بننا گپتا نے ورچوئل جائزہ میٹنگ میں شرکت کی۔

ڈاکٹر منڈاویہ نے ریاستوں سے کہاکہ  وہ بین شعبہ جاتی تعاون  کو یقینی بنائیں اور دیگر متعلقہ محکموں  مثلاً  قبائلی بہبود، شہری ترقی (شہری قوانین کے نفاذ کے لیے)، دیہی ترقی (پی ایم اے وائی۔ جی) کے تحت پکے مکانات کی تعمیر کے لیے، پانی اور صفائی ستھرائی ، مویشی پروری وغیرہ  کے ساتھ مل کر کام کریں۔ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ کیڑے مار ادویات، فوگنگ مشینوں وغیرہ کے ساتھ ادویات/تشخیص کی بروقت دستیابی اور موثر تقسیم کو یقینی بنائیں۔ ریاستوں کو کسی بھی وباء سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ریپڈ رسپانس ٹیموں (آر آر ٹیز) کی تشکیل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003ZR5C.jpg

مرکزی وزیر صحت نے کہا ہمیں بیداری  پھیلانے، لوگوں کو تحریک دینے  اور کٹس، ادویات تقسیم اور دیگر خدمات  کے لیے گھر گھرجاکر  مہم کے واسطے آشا اور آنگن واڑی ورکز سے کام لینا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستوں اور مرکزی حکومت کی مشترکہ کوششوں سے ہی  پورے ملک میں ویکٹر  سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بوجچھ کو  مؤثر طریقے سے کم  اور ختم کیا جاسکتا ہے۔

ریاستوں کو ملیریا، ڈینگو، چکن گونیا، جے ای، لمفیٹک فائلیریاسس اور کالا آزار جیسی مختلف ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے ریاست وار بوجھ کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ حکومت ہند ان بیماریوں پر قابو پانے کے لیے وقف ہے اور اس کا 2030 تک ملیریا، 2030 تک لیمفیٹک فلیریاسس اور 2023 تک کالا آزار کو ختم کرنے کا ہدف ہے۔

ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریاں موسمی ہوتی  ہیں اور عام طور پر مانسون اور مانسون کی مدت کے  لمفیٹک فائلریاسس کو چھوڑکر سبھی کے پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔نیشنل سینٹر فارویکٹر بورن ڈیزیز کنٹرول ( این سی وی بی ڈی سی) پالیسیاں/رہنما خطوط تیار کرتا ہے اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کوویکٹر سے پیدا ہونے والی چھ بیماریوں (ملیریا، ڈینگو، چکن گونیا، جاپانی انسیفلائٹس، لیمفیٹک فلیریاسس، کالا آزار) کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے  تکنیکی، مالی امداد (نیشنل ہیلتھ مشن کے اصولوں کے مطابق) فراہم کرتا ہے۔

محترمہ رولی سنگھ، اے ایس اور ایم ڈی ڈاکٹر ہرمیت سنگھ، جے ایس صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت، ڈاکٹر اتل گوئل، ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایس ایچ) اور صحت کی  مرکزی وزارت  کے دیگر سینئر افسران  بھی مشن ڈائریکٹروں  اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دیگر سینئر افسران کے ساتھ ورچوئل جائزہ میٹنگ میں موجود تھے۔

Recommended