Urdu News

جل شکتی کی وزارت نے مغربی بنگال میں جل جیون مشن کے نفاذ کا جائزہ لیا؛ ریاست نے ناقص کارکردگی ظاہر کرتے ہوئے 21-2020 میں 55.58 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں صرف 2.20 لاکھ نل کے پانی کے کنیکشن مہیا کئے

جل شکتی کی وزارت نے مغربی بنگال میں جل جیون مشن کے نفاذ کا جائزہ لیا؛ ریاست نے ناقص کارکردگی ظاہر کرتے ہوئے 21-2020 میں 55.58 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں صرف 2.20 لاکھ نل کے پانی کے کنیکشن مہیا کئے

<div class="pull-right"></div>
<div class="innner-page-main-about-us-content-right-part">
<div class="MinistryNameSubhead text-center"></div>
<div class="text-center">
<h2>جل شکتی کی وزارت نے مغربی بنگال میں جل جیون مشن کے نفاذ کا جائزہ لیا؛ ریاست نے ناقص کارکردگی ظاہر کرتے ہوئے 21-2020 میں 55.58 لاکھ کے ہدف کے مقابلے میں صرف 2.20 لاکھ نل کے پانی کے کنیکشن مہیا کئے
<span id="ltrSubtitle">
جل شکتی کی وزارت نے مغربی بنگال کو مکمل مدد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ریاست پر زور دیا ہے کہ وہ دستیاب فنڈز کو بروئے کار لا کر عمل میں تیزی لائے</span></h2>
</div>
<div class="ReleaseDateSubHeaddateTime text-center pt20"></div>
<div class="pt20"></div>
<img src="https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001077O.jpg" alt="image001077O.jpg" />

<span dir="RTL" lang="AR-SA">مغربی بنگال میں جل جیون مشن (جے جے ایم) کی منصوبہ بندی اور ان کے نفاذ سے متعلق وسط مدتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا ، جس میں ریاستی عہدیداروں نے ریاست میں پروگرام کی پیشرفت کو قومی جل جیون مشن ٹیم کے سامنے پیش کیا۔ ریاستی حکومت مغربی بنگال نے 2024 تک تمام 1.63 کروڑ دیہی گھرانوں کو نل کے پانی کے کنیکشن کی فراہمی کا ہدف حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مغربی بنگال میں 22 اضلاع ، 341 بلاک ، 41،357 دیہات اور 1.07 لاکھ رہائشی ہیں۔ ریاست نے 2020-21 میں اب تک 55.58 لاکھ کے ہدف کے مقابلہ میں 2.20 لاکھ نل کے پانی کے کنیکشن فراہم کیے ہیں۔</span>

<span dir="RTL" lang="AR-SA">جل جیون مشن کے تحت ، بھارتی حکومت کی طرف سے ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فراہم کردہ نل کے پانی کے کنیکشن کے لحاظ سے آؤٹ پٹ اور دستیاب مرکزی اور ریاستی حصہ کے استعمال کی بنیاد پررقوم جاری کی جاتی ہیں۔ 2020-21 میں ، مغربی بنگال کو1،610.76 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا تھا۔ مشن کے تحت کارکردگی مراعات کی شکل میں عمل درآمد کی پیشرفت کی بنیاد پر اضافی فنڈز مہیا کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، مغربی بنگال کو 15 ویں فنانس کمیشن گرانٹ کے پی آر آئی کے طور پر 4،412 کروڑ روپئے ملیں گے ، جس میں سے 50 فیصد لازمی طور پر پانی اور صفائی ستھرائی پر خرچ ہوں گے۔ جائزہ اجلاس میں ، وزارت نے ریاست سے درخواست کی کہ وہ مختص فنڈز کو حاصل کرنے کے لئے دستیاب فنڈز کو بروئے کار لاتے ہوئے مقررہ وقت کے مطابق ہدف کے حصول کے لئے عمل درآمد کو تیز کرے تاکہ مرکزی فنڈز ضائع ہونے سے بچ سکیں۔ مرکزی حکومت ہر گھر کو پانی کی فراہمی کی عالمی سطح پر کوریج کے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنی کوششوں میں ریاستی حکومت کو مکمل مدد فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔</span>

<span dir="RTL" lang="AR-SA">اس پر زور دیا گیا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کی طویل مدتی استحکام کے لئے پینے کے پانی کے موجودہ ذرائع کو مضبوط بنانے پر زور دیا جائے۔ ریاست اپنے مختلف وسائل کو مختلف پروگراموں جیسے ایم جی این آر جی ایس ، جے جے ایم ، ایس بی ایم (جی) ، پی آر آئی کے 15 ویں ایف سی گرانٹ ، ضلعی معدنی ترقیاتی فنڈ ، کیمپا ، سی ایس آر فنڈ ، لوکل ایریا ڈویلپمنٹ فنڈ وغیرہ کے ذریعے اپنے موجودہ وسائل کو اچھی طرح سے استعمال کرے گی، اور ان تمام وسائل کو ایک ساتھ جوڑ کر گاؤں کی سطح پر اور ایک ویلیج ایکشن پلان (وی اے پی) کو پانچ سال کےلئے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کو بھی کمیونٹی موبلائزیشن کے لئے آئی ای سی کی ایک موثر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ ریاست پر زور دیا گیا تھا کہ دیہی برادریوں کو مشن کی موثر منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لئے بااختیار بنایا جائے۔ جس سے ان گاؤں کو’’ ہر گھر جل گاؤں ‘‘ کا اہل بنایا جا سکے ۔</span>

<span dir="RTL" lang="AR-SA">جائزہ اجلاس میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ ریاست کے 41،357 گاؤں میں سے 22،319 میں پبلک واٹر سپلائی (پی ڈبلیوایس) ہے ، جو ریٹرو فٹنگ کے ذریعہ بقیہ گھرانوں کو تقریباً ایک کروڑ نل کے پانی کے کنیکشن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مغربی بنگال پانی کی آلودگی سے متاثر ہے ، جس سے باشندوں کو صحت کا سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ریاست کے 10 اضلاع صحت سے متعلق ایک اور سنگین  تشویش کی زد میں ہیں جو جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم (جے ای -اے ای ایس) ہے ، جس سے 42.96 لاکھ کنبے متاثر ہوتے ہیں ، جن میں سے صرف 2.34 لاکھ گھرانوں (5.4فیصد)کو نل کنیکشن فراہم کیے گئے ہیں ۔ ریاست میں 1،566 آرسینک اور فلورائڈ سے متاثرہ بستیوں کو دسمبر 2020 تک پائپ کی کنیکشن کے پانی کی فراہمی شامل ہے۔</span>

<span dir="RTL" lang="AR-SA">ریاست سے درخواست کی گئی کہ وہ تمام آنگن واڑی سینٹروں ، آشرم شالاؤں اور اسکولوں کو دو اکتوبر 2020 کو شروع کی گئی خصوصی 100 روزہ مہم کے تحت پائپوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں ، تاکہ ان اداروں میں پینے کا پانی ہاتھ دھونے کا پانی ،بیت الخلا میں استعمال اور مڈ ڈے میل پکانے کے لئے استعمال کرنے کےلئے دستیاب ہو۔ یہ مہم ان عوامی اداروں میں صاف پانی کی فراہمی کا سنہری موقع پیش کرتی ہے ، تاکہ بچوں کو صاف پانی تک رسائی حاصل ہو ، جس سے ان کی اچھی صحت اور مجموعی ترقی یقینی ہوسکے</span>

</div>.

Recommended