Urdu News

’17‘ ریاستوں میں’ایک قوم ایک راشن کارڈ ‘ نظام نافذ

17 States implement One Nation One Ration Card system

نئی دہلی،  11 مارچ2021: 17ریاستوں نے کامیابی کے ساتھ ’’ ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام ‘‘ پر عمل شروع کردیا ہے، جس میں  اتراکھنڈ اس  اصلاح کی تکمیل کرنے والی تازہ ترین ریاست ہے۔ ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام اصلاحات کو پوری کرنے والی ریاستیں  ، مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار ( جی ایس ڈی پی ) کے  0.25فیصد کے اضافی قرضے  کے لئے اہل ہیں اسی کے مطابق ان ریاستوں کو وزارت مالیہ کے اخراجات کے محکمے کے ذریعہ 37600 کروڑروپے  کے اضافی قرضے کی  منظوری دی گئی ہے۔ ان 17 ریاستوں  کو اجازت شدہ اضافی قرضے کی ریاست وار رقم  کی تفصیل منسلک ہے۔

ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام شہریوں  پر مرکوز  ایک اہم اصلاح ہے۔ اس کے نفاذ سے ،قومی  خوراک کی سلامتی کے قانون  ( ایم ایف ایس اے ) اور دیگر بہبودکی اسکیموں کے تحت مستفیدین  کو   ،  خاص طورپر مہاجر ورکروں اور ان کے کنبوں کو،  ملک بھر میں کسی بھی راشن کی دوکان   ( ایف ای ایس  )  پر راشن کی دستیابی  یقینی ہوتی ہے۔

یہ اصلاح  ،خاص طورپر مہاجر آبادی کو  اختیارات  فراہم کرتی ہے، جس میں اکثریت  لیبر کا کام کرنے والے ،  روزانہ اجرتی   ، شہری غریب  بشمول   کوڑا اٹھانے والے  ، خوانچہ فروش ،  منظم اور غیر منظم شعبوںمیں عارضی ورکر ، گھریلو ورکر وغیرہ   شامل ہیں، جو خوراک کے تحفظ میں  خودکفیل ہونے کی غرض سے اپنے رہنے کی جگہ اکثر بدلتے رہتے  ہیں۔تکنالوجی  سے  چلنے والی اصلاح  ،مہاجر مستفیدین کو   ملک بھر میں  اپنی پسند کی، الیکٹرانک  پوائنٹ آف سیل ( ای – پی او ایس ) سے منسلک کسی بھی راشن  کی دوکان سے   اپنا اختیاری کوٹہ  حاصل کرنے کے  قابل بناتی ہے۔

یہ اصلاح  مستفیدین  ،  فرضی  /نقلی  / غیر اہل کارڈ ہولڈروں  کی بہتر شناخت کرنے  کے قابل بھی بناتی ہے، اس کے نتیجے میں وسیع تربہبود اور کمتر نقصان ہوتاہے۔ مزید برآں  راشن کا رڈ  کی  بلارکاوٹ بین ریاستی    تبدیلی کو یقینی بنانے کے لئے  تمام راشن کارڈ رکھنے والوں  کےآدھارکارڈ  کی تفصیلات کو اپ ڈیٹ کرنے کے  ساتھ ساتھ  ، الیکٹرانک  پوائنٹ آف سیل ( ای – پی او ایس ) کی تنصیب سے تمام راشن کی دوکانوں  (ایف پی ایس ) کی خودکاری کے ذریعہ مستفیدین کی  بایو میٹرک  کی تصدیق  کےساتھ مشینوں  کا ہونا ضروری ہے۔لہٰذا ریاستوں  کو مندرجہ ذیل دونوں اقدامات کی تکمیل پر ہی  مجموعی ریاستی گھریلو  پیداوار (جی ایس ڈی پی ) کے 0.25فیصد کی حد تک اضافی قرضہ  حاصل کرنے  کی اجازت دی جاتی ہے:

(الف) ریاست میں  تمام راشن کارڈوں  اور مستفیدین کی  آدھار سیڈنگ 

(ب) ریاست میں تمام  راشن کی دوکانوں  کی خودکاری ۔

کووڈ-19 وبا  کے درپیش کثیر جہتی  چیلنجوںکا مقابلہ کرنے کے لئے  ضروری  وسائل کے تناظر میں حکومت ہند نے  17  مئی  2020  کو ریاستوں کی  قرضہ لینے کی حدمیں ، ان کی جی ایس ڈی پی  کے  دو  فیصد  تک کا اضافہ کردیا تھا۔اس  خصوصی دستیابی میں سے نصف یعنی جی ایس ڈی پی کی ایک فیصد  ریاستوں کے ذریعہ شہریوں  پر مرکوز اصلاحا ت کو  پورا کرنے سے منسلک تھا۔ اخراجات کے محکمے کے ذریعہ جن  چار شہریوں  پر مرکو  زشعبوں کی اصلاحا ت کے شناخت کی گئی ہے،  ان میں ( اے) ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام کا نفاذ  ( بی ) کاروبار کرنے میں آسانی  کی اصلاحا ت  (سی )شہری مقامی ادارے / افادیتی  اصلاحات  اور  (ڈی ) بجلی کے شعبے کی اصلاحات  شامل ہیں۔


 

نئی دہلی،  11 مارچ2021: 17ریاستوں نے کامیابی کے ساتھ ’’ ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام ‘‘ پر عمل شروع کردیا ہے، جس میں  اتراکھنڈ اس  اصلاح کی تکمیل کرنے والی تازہ ترین ریاست ہے۔ ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام اصلاحات کو پوری کرنے والی ریاستیں  ، مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار ( جی ایس ڈی پی ) کے  0.25فیصد کے اضافی قرضے  کے لئے اہل ہیں اسی کے مطابق ان ریاستوں کو وزارت مالیہ کے اخراجات کے محکمے کے ذریعہ 37600 کروڑروپے  کے اضافی قرضے کی  منظوری دی گئی ہے۔ ان 17 ریاستوں  کو اجازت شدہ اضافی قرضے کی ریاست وار رقم  کی تفصیل منسلک ہے۔

ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام شہریوں  پر مرکوز  ایک اہم اصلاح ہے۔ اس کے نفاذ سے ،قومی  خوراک کی سلامتی کے قانون  ( ایم ایف ایس اے ) اور دیگر بہبودکی اسکیموں کے تحت مستفیدین  کو   ،  خاص طورپر مہاجر ورکروں اور ان کے کنبوں کو،  ملک بھر میں کسی بھی راشن کی دوکان   ( ایف ای ایس  )  پر راشن کی دستیابی  یقینی ہوتی ہے۔

یہ اصلاح  ،خاص طورپر مہاجر آبادی کو  اختیارات  فراہم کرتی ہے، جس میں اکثریت  لیبر کا کام کرنے والے ،  روزانہ اجرتی   ، شہری غریب  بشمول   کوڑا اٹھانے والے  ، خوانچہ فروش ،  منظم اور غیر منظم شعبوںمیں عارضی ورکر ، گھریلو ورکر وغیرہ   شامل ہیں، جو خوراک کے تحفظ میں  خودکفیل ہونے کی غرض سے اپنے رہنے کی جگہ اکثر بدلتے رہتے  ہیں۔تکنالوجی  سے  چلنے والی اصلاح  ،مہاجر مستفیدین کو   ملک بھر میں  اپنی پسند کی، الیکٹرانک  پوائنٹ آف سیل ( ای – پی او ایس ) سے منسلک کسی بھی راشن  کی دوکان سے   اپنا اختیاری کوٹہ  حاصل کرنے کے  قابل بناتی ہے۔

یہ اصلاح  مستفیدین  ،  فرضی  /نقلی  / غیر اہل کارڈ ہولڈروں  کی بہتر شناخت کرنے  کے قابل بھی بناتی ہے، اس کے نتیجے میں وسیع تربہبود اور کمتر نقصان ہوتاہے۔ مزید برآں  راشن کا رڈ  کی  بلارکاوٹ بین ریاستی    تبدیلی کو یقینی بنانے کے لئے  تمام راشن کارڈ رکھنے والوں  کےآدھارکارڈ  کی تفصیلات کو اپ ڈیٹ کرنے کے  ساتھ ساتھ  ، الیکٹرانک  پوائنٹ آف سیل ( ای – پی او ایس ) کی تنصیب سے تمام راشن کی دوکانوں  (ایف پی ایس ) کی خودکاری کے ذریعہ مستفیدین کی  بایو میٹرک  کی تصدیق  کےساتھ مشینوں  کا ہونا ضروری ہے۔لہٰذا ریاستوں  کو مندرجہ ذیل دونوں اقدامات کی تکمیل پر ہی  مجموعی ریاستی گھریلو  پیداوار (جی ایس ڈی پی ) کے 0.25فیصد کی حد تک اضافی قرضہ  حاصل کرنے  کی اجازت دی جاتی ہے:

(الف) ریاست میں  تمام راشن کارڈوں  اور مستفیدین کی  آدھار سیڈنگ 

(ب) ریاست میں تمام  راشن کی دوکانوں  کی خودکاری ۔

کووڈ-19 وبا  کے درپیش کثیر جہتی  چیلنجوںکا مقابلہ کرنے کے لئے  ضروری  وسائل کے تناظر میں حکومت ہند نے  17  مئی  2020  کو ریاستوں کی  قرضہ لینے کی حدمیں ، ان کی جی ایس ڈی پی  کے  دو  فیصد  تک کا اضافہ کردیا تھا۔اس  خصوصی دستیابی میں سے نصف یعنی جی ایس ڈی پی کی ایک فیصد  ریاستوں کے ذریعہ شہریوں  پر مرکوز اصلاحا ت کو  پورا کرنے سے منسلک تھا۔ اخراجات کے محکمے کے ذریعہ جن  چار شہریوں  پر مرکو  زشعبوں کی اصلاحا ت کے شناخت کی گئی ہے،  ان میں ( اے) ایک قوم ایک راشن کارڈ نظام کا نفاذ  ( بی ) کاروبار کرنے میں آسانی  کی اصلاحا ت  (سی )شہری مقامی ادارے / افادیتی  اصلاحات  اور  (ڈی ) بجلی کے شعبے کی اصلاحات  شامل ہیں۔

Recommended