Urdu News

وزیر زراعت نے شہد کی مکھیوں کے عالمی دن کے موقع پر شہد ٹیسٹنگ لیباریٹری پروجیکٹ کا افتتاح کیا

شہد کی مکھیوں کے عالمی دن

 

 

شہد کی مکھیوں کے عالمی دن کے موقع پر اور بھارت کی آزادی کے امرت مہوتسو کے تناظر میں زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے بھارتی زرعی تحقیق کے ادارے ،پوسا ، نئی دہلی میں شہد کی ٹیسٹنگ لیباریٹری قائم کرنے کے پروجیکٹ کا افتتاح کیا اس موقع پر جناب تومر نے کہا کہ گاؤں – غریب کسانوں کیلئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت پوری طرح وقف ہے۔وزیر اعظم جی نے سبسڈی بڑھانے کا تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے کھاد کی اضافی قیمت کا بوجھ کسانوں پر نہیں پڑنے دیا۔

tomr.jpg

 

جمعرات کو قومی شہد مکھی پروری اور شہد مشن کے تحت ،شہد اور شہد مکھی پروری کے دیگر پروڈکٹس کی کوالٹی جانچ کیلئے بھارتی زرعی تحقیقی ادارہ (آئی اے آر آئی) میں علاقائی شہد کی کوالٹی کی جانچ لیباریٹری قائم کرنے کے پروجیکٹ کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب تومر نے کہا کہ کسانوں کو جب ڈی اے پی کا ایک بیگ 1200 روپے میں ملتا تھا تب اس کی حقیقی قیمت 1700روپے ہوتی تھی ،500 روپے سرکار دیتی تھی ۔اچانک  بین الاقوامی سطح پر فاسفورک ایسڈ ،امونیا وغیرہ کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ڈی اے پی کی قیمت میں اضافہ ہوا جس سے ایک بیگ 2400 روپے کا ہوگیا۔ایسے میں اگر حکومت کی طرف سے 500 روپے فی بیگ کی ہی امداد ملتی ہوتی تو کسانوں کو بیگ 1900 روپے میں پڑتا ۔اس پر وزیر اعظم جناب مودی نے کہا کہ کسانوں پر ایک روپے کا بھی بوجھ نہیں آنا چاہئے اس لئے اب مرکزی حکومت کے ذریعہ 140 فیصد زیادہ سبسڈی کی شکل میں 700 روپے کی مدد دیتے ہوئے قیمت 1200 روپے ہی رہنے دی گئی ہے۔جناب تومر نے اس تاریخی فیصلے کیلئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

جناب تومر نے کہا کہ ملک میں شہد کی پیداوار اور برآمد میں اضافہ ہورہا ہے اور اچھی کوالٹی کے شہد کیلئے بھی پوری کوشش ہورہی ہے۔چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کسان اس کام سے جڑیں تاکہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہو،اس کیلئے اس کام کو مودی جی کی سرکار نے تیز رفتار دی ہے۔قومی شہد مکھی پروری اور شہد مشن (این بی ایچ ایم) میں مجموعی فروغ اور سائنٹفک شہد مکھی پروری کے فروغ اور ’’سویٹ ریولوشن‘‘ کا ہدف حاصل کرنے کیلئے تین سو کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ ساتھ ہی این بی ایچ ایم کو آتم نربھر بھارت ابھیان میں مرکزی حکومت کے ذریعہ پانچ سو کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس میں قومی ڈیری ڈیولپمینٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) آنند میں پانچ کروڑ روپے کی مدد سے عالمی معیار کا جدید  ترین ہنی ٹیسٹنگ لیب قائم کیا جاچکا ہے۔اس کے علاوہ دو دیگر علاقائی /بڑی شہد اور شہد مکھی پروری کے دیگر پروڈکٹ کی ٹیسٹنگ لیباریٹریز آٹھ آٹھ کروڑ روپے کی رقم سمیت منظور کی گئی ہے۔ اس شعبہ کی ترقی کے مد نظر 13 منی /سیٹلائٹ ضلع سطح کی شہد اور شہد مکھی پروری کے دیگر پروڈکٹ کی لیباریٹریز اور آن لائن رجسٹریشن اور شہد و دیگر پروڈکٹس کے ٹریسبلٹی ذرائع کے فروغ سے متعلق اور دیگر اہم پروجیکٹ بھی منظور کئے گئے ہیں۔شہد اور دیگر شہد کی مکھی پروڈکٹس کے ذرائع کا پتہ لگانے سے متعلق آن لائن رجسٹریشن اور ٹریسبلٹی سسٹم کیلئے مدھو کرانتی پورٹل کا افتتاح بھی دو ماہ قبل کیا جاچکا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ سائنسداں شہد مکھی پروری کو فروغ دینے کیلئے دیگر کوششوں کے ساتھ ساتھ شہد کی مکھی پالنے والوں کے ایف پی او بنانے کی بھی شروعات ہوچکی ہے۔ان کے سمیت ملک بھر میں دس ہزار ایف پی او بنائے جارہے ہیں۔وزیر اعظم جی نے آتم نربھر بھارت کی بات کہی ،تب زرعی شعبہ کیلئے ایک لاکھ کروڑ روپے کے انفراسٹرکچر فنڈ کیلئے شہد مکھی پروری سمیت دیگر متعلقہ شعبوں کو بھی ذہن میں رکھا گیا ہے۔جناب تومر نے کہا کہ شہد کی پیداوار میں اضافہ ہونا چاہئے اور کوالٹی سے سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔چھوٹے سے چھوٹا کسان بھی اس کام سے جڑے۔جن کے پاس زمین نہیں ہے ان کیلئے یہ شعبہ روزگار کا بڑا ذریعہ بنے ،اس کیلئے ریاستوں کو کوشش کرنی چاہئے۔

پروگرام میں زراعت اور کسانوں کی بہبود کےوزیر مملکت جناب پرشوتم روپالہ ،سکریٹری جناب سنجے اگروال ،آئی سی اے آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ترلوچن مہا پاتر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل سکریٹری ڈاکٹر ابھیلکش لکھی ،زرعی کمشنر ڈاکٹر ایس کے ملہوترا ،آئی اے آر آئی کے ڈائریکٹر اشوک کمار سنگھ ،این بی بی کے ای ڈی ڈاکٹر بی ایل سارسوت اور اور شہد مشن دیگر افسران اور شہد پیداوار سے جڑے کسان بھائی بہن ورچوئل شامل ہوئے۔

 

Recommended