مرکزی وزیر داخلہ کی مداخلت کے بعد، آسام میزورم تنازعہ ختم ہونے کا امکان

https://urdu.indianarrative.com/Home_Minister.jpg

آسام میزورم تنازعہ

نئی دہلی، 02 اگست (انڈیا نیرٹیو)

آسام اور میزورم کے درمیان ایک ہفتہ طویل پرتشدد سرحدی تصادم کے بعد، تنازعہ پرامن نتائج کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے باہمی تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بات کی ہے۔ میزورم حکومت 30 جولائی کو آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے گی۔ اسی طرح آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما نے میزورم کے ایک رکن پارلیمنٹ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

26 جولائی کو دو شمال مشرقی ریاستوں آسام اور میزورم میں پرتشدد تصادم نے پورے ملک کو پریشان کر دیا تھا۔ دونوں ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعمیں خونریز تصادم میں آسام پولیس کے چھ اہلکار مارے گئے۔ اس کے بعد دونوں ریاستوں میں تنازعہ تیزی سے بڑھ گیا اور مرکزی وزارت داخلہ کو مداخلت کرنا پڑی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی مسلسل کوششوں اور دونوں وزرائے اعلیٰ کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ تنازعہ واضح طور پر خوشگوار نتائج میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسواشرما نے پیر کو ٹویٹ کیا کہ ریاستی پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر میزورم کے رکن پارلیمنٹ ون لالوینا کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے۔ تاہم دیگر پولیس افسران کے خلاف مقدمے کو آگے چلایا جائیگا۔ ٹویٹ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسام ہمیشہ شمال مشرق کی روح کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ ہم اپنی سرحدوں پر امن کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

دوسری جانب میزورم حکومت نے یہ بھی کہا کہ وہ 30 جولائی کو آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا شرما کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے لے گی۔ ایک ٹویٹ میں حکومت نے سب سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر حساس پوسٹس سے گریز کریں۔ تنازع کے آغاز کے ساتھ ہی، مرکزی وزارت داخلہ کی پرامن حل کے لیے کوششیں بالآخر رنگ لارہی ہیں۔